روس سے نیا پیار

آخری وقت اشاعت:  پير 10 ستمبر 2012 ,‭ 16:04 GMT 21:04 PST

پاکستان اور روس کے درمیان تعلقات میں گرمجوشی ماہرین کے مطابق پاکستان کی جانب سے اپنی خارجہ پالیسی کو وسعت دینے کی ایک کوشش ہیں۔

پاکستان کا کہنا ہے کہ وہ عالمی و علاقائی معاملات میں روس کے بڑھتے ہوئے قد کاٹھ کا حامی ہے۔

یہ بات صدر آصف علی زردای نے پیر کو روسی وزیر کھیل وٹلی ایل مٹکو کے ساتھ ملاقات میں کی ہے۔

ماہرین کے مطابق اس بیان اور گزشتہ ایک برس کے دوران دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں گرمجوشی پاکستان کی جانب سے اپنی خارجہ پالیسی کو وسعت دینے کی ایک کوشش ہیں۔

پاکستان نے قیام کے محض آٹھ برس بعد امریکی قیادت میں سینٹو جیسی تنظیم میں شمولیت انیس سو پچپن میں کمیونزم کو محدود رکھنے کے نام پر اختیار کر لی۔ اس کے چند سال بعد ہی سرد جنگ کی وجہ سے امریکی یو ٹو جاسوس طیارے پشاور کے قریب بڈھ بیر فوجی اڈے سے پروازیں بھرنے لگے۔ بعد میں افغانستان میں روسی مداخلت کے نتیجے میں پاکستان اور امریکہ نے مل کر سویت یونین کی وہ حالت کی کہ اس کا شیرازہ ہی بکھر گیا۔

قیام پاکستان کے پینٹسھ برسوں میں ایک آدھ بار ہی پاکستان سٹیل کی صورت میں روس اور پاکستان کے درمیان تعاون کے کسی بڑے منصوبے پر کام ہوسکا۔ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں زیادہ تر سرد مہری ہی دیکھی گئی ہے۔ لیکن گزشتہ کچھ عرصے میں اس میں تبدیلی کے واضح اشارے ہیں۔

اعلیٰ سطحی دورے

اعلیٰ سطح کے سرکاری دوروں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ صدر آصف علی زرداری گزشتہ برس اور پاکستان فضائیہ کے سربراہ ائر چیف مارشل طاہر رفیق بٹ کا گزشتہ ماہ کا دورہ ان تبادلوں کا حصہ تھے۔ اس کے علاوہ پاکستان فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی بھی آئندہ چند روز میں ماسکو جائیں گے۔ یہ کسی پاکستانی فوجی سربراہ کا پہلا دورۂ ماسکو ہوگا۔

اعلیٰ سطح کے سرکاری دوروں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ صدر آصف علی زرداری گزشتہ برس اور پاکستان فضائیہ کے سربراہ ائر چیف مارشل طاہر رفیق بٹ کا گزشتہ ماہ کا دورہ ان تبادلوں کا حصہ تھے۔ اس کے علاوہ پاکستان فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی بھی آئندہ چند روز میں ماسکو جائیں گے۔ یہ کسی پاکستانی فوجی سربراہ کا پہلا دورۂ ماسکو ہوگا۔

برگیڈئیر (ر) فاروق حمید خان کہتے ہیں کہ متوقع دورہ کیانی خارجہ پالیسی میں بڑی تبدیلی کا اشارہ ہوگا۔ انگریزی اخبار دی نیوز میں ایک مضمون میں ان کا کہنا تھا کہ ’دونوں ممالک کے مفادات ایک جیسے ہیں۔ دونوں افغانستان کی اینڈ گیم میں شریک ہیں، دونوں کو حقانی نیٹ ورک کو دہشت گرد قرار دینے پر تشویش ہوسکتی ہے اور دونوں دو ہزار چودہ کے بعد افغانستان میں امریکی فوجیوں کی موجودگی کے حق میں نہیں‘۔

پاکستان کے علاوہ روس کی جانب سے بھی تعلقات میں بہتری کی خواہش موجود ہے۔ تیس رکنی روسی وفد اسلام آباد میں آج کل تعاون بڑھانے پر غور کر رہا ہے جبکہ آئندہ ماہ روسی صدر ولادمیر پوٹن کی پاکستان آمد متوقع ہے۔

تعلقات میں یہ بہتری مستقل تبدیلی کے اشارے ہیں یا عارضی؟ یہ سوال میں نے سابق سفارت کار تنویر احمد خان کے سامنے رکھا۔ ’نہیں یہ عارضی کوشش یا رجحان نہیں ہے۔ پاکستان کے روس کے ساتھ تعلقات گزشتہ پینسٹھ برسوں تک کشیدہ رہے ہیں اب کافی سوچ بچار کے بعد خارجہ پالیسی کو وسعت دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ خارجہ پالیسی کافی سمٹ گئی تھی دہشت گردی کے گرد اور پاکستان نے تمام انڈے ایک ہی ٹوکری میں ڈال دیے تھے۔ یہ ایک غلطی تھی جس کا پاکستان کو بہت نقصان ہوا‘۔

"دونوں ممالک کے مفادات ایک جیسے ہیں۔ دونوں افغانستان کی اینڈ گیم میں شریک ہیں، دونوں کو حقانی نیٹ ورک کو دہشت گرد قرار دینے پر تشویش ہوسکتی ہے اور دونوں دو ہزار چودہ کے بعد افغانستان میں امریکی فوجیوں کی موجودگی کے حق میں نہیں۔"

برگیڈئیر (ر) فاروق حمید خان انگریزی اخبار دی نیوز میں

ان کا کہنا ہے کہ امریکہ کے ساتھ مسائل بڑھے ہی ہیں کم نہیں ہوئے۔ ’پاکستان کو نان نیٹو اتحادی اور فرنٹ لائن ریاست کے درجے ملے لیکن مسائل حل نہیں ہوئے۔ ہم آہنگی نہیں ہے واشنگٹن کے ساتھ‘۔

تنویر احمد خان تین برس تک روس میں سفیر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ روس کی بھی اب کوشش ہے کہ ایشیا میں مربوط پالیسی کے ذریعے قدم جمائے۔ ’پیوٹن کی جانب سے ایپک کانفرنس کا حال ہی میں انعقاد اسی کوشش کا حصہ ہے‘۔

کیا روس اور پاکستان ماضی کی تلخیاں بھول کر ایک نیا آغاز کرسکتے ہیں؟ اس بابت تنویر احمد خان کا کہنا تھا کہ دونوں کو بہت کچھ بھلانا ہوگا۔ ’دونوں کو ایک نیا تعلق قائم کرنا ہوگا۔ اگر روس کو پاکستان کے افغانستان میں کردار کو پس پشت ڈالنا ہوگا تو پاکستان کو بھی روس کے اکہتر میں تقسیم پاکستان میں (کردار کو) قصہ پارینہ قرار دینا ہوگا۔ بھارت کو بنگلہ دیش کے قیام میں اس وقت کے سویت یونین کی بھرپور حمایت حاصل تھی‘۔

سابق سیکریٹری خارجہ کا کہنا ہے کہ پاکستان بھی روس کی صورت کوئی نعم البدل نہیں تلاش کر رہا ہے۔ بلکہ خارجہ پالیسی کو وسعت دے رہا ہے۔ کیا پاکستان اب بھارتی پالیسی کی نقل کی کوشش کر رہا ہے کہ روس کے ساتھ تو تعلقات بہتر تھے ہی اب امریکہ سے بھی وہ پینگیں اپنے فائدہ میں بڑھا رہا ہے۔

’جی ہاں یہ سوچ بھی ہوسکتی ہے پاکستان کی لیکن بھارت میں فہم و فراست بھی رہی ہے کہ انہوں نے سرد جنگ کی انتہا کے وقت بھی اپنے آپ کو محض کسی ایک بلاک میں نہیں رکھا تھا۔ پھر ہندوستان ہمیشہ امریکہ کی پہلی آپشن تھی پاکستان نہیں۔ پاکستان تب بنا جب بھارت میسر نہیں ہوا۔ لیکن بھارت میں اقتصادی اصلاحات کے بعد امریکہ کے ساتھ تعلقات روس سے سبقت لے گئے ہیں‘۔

"دونوں کو ایک نیا تعلق قائم کرنا ہوگا۔ اگر روس کو پاکستان کے افغانستان میں کردار کو پس پشت ڈالنا ہوگا تو پاکستان کو بھی روس کے اکہتر میں تقسیم پاکستان میں (کردار کو) قصہ پارینہ قرار دینا ہوگا۔ بھارت کو بنگلہ دیش کے قیام میں اس وقت کے سویت یونین کی بھرپور حمایت حاصل تھی۔"

سابق سیکرٹری خارجہ تنویر احمد خان

دونوں ممالک میں عسکری تعاون کے ساتھ ساتھ توانائی اور انسداد دہشت گردی کے شعبوں میں تعاون کا امکان موجود ہے۔ تنویر احمد خان کہتے ہیں کہ پاکستان جدید روسی جنگی طیاروں کے حصول کی کوشش کر رہا ہے تاہم واضح نہیں کہ روس یہ دے گا یا نہیں۔

ماہرین مانتے ہیں کہ چھ دہائیوں سے زائد کی کدورتیں دور ہونے میں وقت درکار ہوگا۔ ان رابطوں سے جلد کسی ’بریک تھرو‘ کی توقع نہیں کرنی چاہیے۔ اس بابت کوئی مبالغہ نہیں ہونا چاہیے۔ یہ آہستہ آہستہ ہوگا۔ روس پھونک پھونک کر قدم رکھے گا اور پاکستان بھی پہلی مرتبہ دوستی کا ہاتھ سوچ بچار کے بعد بڑھائے گا۔

پاکستان اور روس کے درمیان تعلقات کی حالیہ گرمجوشی نے ایک مرتبہ پھر سفارتی اصول واضح کر دیا ہے کہ بین القوامی سیاست میں دوستیاں یا دشمنیاں دائمی نہیں ہوتیں محض قومی مفاد اہم ہوتے ہیں۔ یہی مفاد دونوں کو قریب لا رہا ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔