باہمی مخاصمت سے مشترکہ مفادات تک کا فاصلہ

آخری وقت اشاعت:  منگل 11 ستمبر 2012 ,‭ 19:50 GMT 00:50 PST

آسٹریلیا کی گریفتھ یونیورسٹی سے منسلک اخلاقی، انتظامی امور کے ادارے کے محقق پروفیسر رمیش ٹھاکر نے اپنے حالیہ مضمون میں سوال اٹھایا کہ آیا سنہ دو ہزار سینتالیس تک جنوبی ایشیاء کے شہری باہمی مخاصمت کے قیدی رہیں گے یا بڑھتی معاشی فکریں انہیں اپنے اختلافات بھلا کر مشترکہ خوشحالی کی جانب موڑ سکیں گی؟

وہ لکھتے ہیں کہ پینسٹھ برس کی مخاصمت نے اب تک بھارت و پاکستان دونوں کو اپنے حقیقی معاشی مقام سے دور رکھا، کیا اب یہ دونوں ملک اپنے درپیش مسائل کو حل کرنے کیلئےایک مشترکہ راستہ ڈھونڈ سکتے ہیں۔

پروفیسر ٹھاکر کے مطابق بھارت اور پاکستان کی قیادت کو حوصلے، اعتماد اور عزم کا مظاہرہ کرنا ہوگا تاکہ بدامنی اور جنگ کے خطرات کو دور کر کے ایک ایسی فضا بنائی جا سکے جو خطے میں مشترکہ خوشحالی اور استحکام لاکر صنعت و تجارت، معیشت و سیاحت کے شعبوں کو فروغ دے۔

"اپنی بڑھتی افرادی قوت اور توانا کاروباری رجحان کے سبب بھارت ایشیا کی سب سے مضبوط معیشت بننے کی صلاحیت رکھتا ہے تاہم اس کی فی کس سالانہ آمدنی اس وقت چین کے مقابلے میں محض ایک چوتھائی ہے۔"

روچیر شرما

ایسی فضا علاقائی تجارت، مشترکہ منڈیوں کی ترقی کا پیش خیمہ بنے گی جو خطہ میں سرمایہ کاری اور پیداوار، کاروبار اور پیشہ ورانہ خدمات کی مجموعی آمدنی کئی گنا بڑھا سکتی ہے۔

’اگلے معاشی معجزے کی جستجو میں ابھرتی قومیں‘ کے موضوع پر ایک نئی امریکی کتاب کے مصنف روچیر شرما نے لکھا ہے کہ اپنی بڑھتی افرادی قوت اور توانا کاروباری رجحان کے سبب بھارت ایشیا کی سب سے مضبوط معیشت بننے کی صلاحیت رکھتا ہے تاہم اس کی فی کس سالانہ آمدنی اس وقت چین کے مقابلے میں محض ایک چوتھائی ہے۔

شرح ترقی میں خاطر خواہ اضافہ اسی صورت میں ممکن ہے جب پیداواری استعداد کے حصول کیلئے مؤثر پیش بینی کی جائے جس کی مثال چین نے یوں قائم کی کہ سنہ دو ہزار چھ سے اب تک چین نے چوراسی گیگاواٹ اضافی برقی پیداوار کی جبکہ بھارت نے محض چودہ گیگا واٹ کا اضافہ کیا۔

واشنگٹن میں مڈل ایسٹ انسٹیٹیوٹ کے محقق عارف رفیق کے مطابق اس سال پاکستانی معیشت کی شرح نمو چار فیصد تک رہے گی جبکہ بھارتی معیشت کی سالانہ شرح ترقی چھ فیصد سے کم ہوجانے کے خدشات ہیں۔ اس صورتحال کا دونوں ملکوں میں شرح بیروزگاری پر منفی اثر پڑنے کا امکان ہے۔

"اس سال پاکستانی معیشت کی شرح نمو چار فیصد تک رہے گی جبکہ بھارتی معیشت کی سالانہ شرح ترقی چھ فیصد سے کم ہوجانے کے خدشات ہیں۔ اس صورتحال کا دونوں ملکوں میں شرح بیروزگاری پر منفی اثر پڑنے کا امکان ہے۔"

محقق عارف رفیق

بھارت اور پاکستان دونوں کو اپنے معاشی مستقبل کو روشن بنانے کیلئے حقیقت پسندی کو فروغ دینا ہوگا۔ ان کے تجزیہ کے مطابق بحالی تعلقات کی راہ میں حائل روکاوٹیں ہٹ سکتی ہیں اگر دونوں ملک موجودہ غیر دوستانہ تعلقات کی معاشی قیمت کا تخمینہ لگائیں جہاں بھارت اور پاکستان میں کروڑوں افراد پینے کے صاف پانی اور نکاسی آب جیسی بنیادی سہولتوں سے اب تک محروم ہیں۔

ایران اور ترکمانستان دونوں بھارت اور پاکستان کو مطلوب توانائی فراہم کرسکتے ہیں جس کی راہداری پاکستان سے ہوکر گزریں گی۔ گزشتہ چھ دہائیوں میں تنگ نظری اور سختگیر روّیوں نے دونوں پڑوسیوں کو بدظن رکھا۔ تاہم دنوں ملکوں کو درپیش معاشی مسائل کے حل کی تلاش تعاون کی نئی راہیں وا کرسکتی ہیں اور دونوں ملکوں کے شہریوں کو ترقی اور استحکام کی جانب گامزن کرسکتی ہیں۔

ایک طرف تو پاکستان نے بھارت کو اپنا پسندیدہ تجارتی شریک کا درجہ دینے پر آمادگی ظاہر کی ہے تو دوسری جانب بھارت نے پاکستانی سرمایہ کاروں کو بھارت میں پیسہ لگانے کی اجازت دی ہے۔ پاکستان کا منشا گروپ بھارت میں نجی بینکاری میں قدم جمانے میں دلچسپی رکھتا ہے اور بھارت میں کھیل و ثقافت کی صنعت پاکستانی کھلاڑیوں اور فنکاروں کو مقبولیت اور آمدنی کے وسیع تر مواقع فراہم کرتی ہیں۔

پروفیسر ٹھاکر کی رائے میں تعلقات میں خاطر خواہ تبدیلی کے لیے لازم ہے کہ بھارت و پاکستان کی قیادت یہ تجزیہ کرے کہ ان کے ملکوں نے پچھلی چھ دہائیوں میں کیا مواقع کھوئے اور آنے والے برسوں میں تعاون و اشتراک شہریوں کے لیےکیا فائدے لاسکتاہے۔

دفاعی اخراجات کو بتدریج گھٹانے کی جانب پیش قدمی دونوں ملکوں کو اس امر پر راغب کرسکتی ہے کہ مسلح افواج کی تعداد کم کی جائے اور پھر اس افرادی قوّت کو قیام امن، انسانی جان و مال کی حفاظت، اور قدرتی آفات سے نمٹنے کیلئے ملکی اور علاقائی سطح پر جرائم، تشدد اور منشیات کی اسمگلنگ کی روک تھام اور توڑ کیلئے ایک فورس کے طور پر استعمال کیا جائے۔

"جنوبی ایشیا میں مشترکہ منڈی خطے سے غربت اور عدم مساوات میں کمی، نیز سماجی و معاشی ترقی کیلئے ایک مناسب مشترکہ ہدف کے طور پر دیکھی جانی چاہیے جس کے زیر اثر اگلی تین دہائیوں میں خطے کے ممالک میں نمایاں سماجی بہتری واقع ہوسکتی ہے۔ ایسی ترقی خطے میں حقوق انسانی کی حفاظت کیلئے فضا کو سازگار بنائے گی جہاں حقوق انسانی کے ادارے اور علاقائی عدالت ہر ایک کیلئے قوانین کی پابندی کو یقینی بنائیں گے۔"

پروفیسر رمیش ٹھاکر

جنوبی ایشیا کا خطہ اپنے تاریخی ورثے، طرز تعمیر، گوناگوں ثقافتوں کا ایک ایسا مجموعہ ہے جو اسے پوری دنیا کے سیاحوں کیلئے تمام دیگر خطوں سے زیادہ پُرکشش بناتا ہے۔ سیاحت میں سال بہ سال اضافہ علاقے کے ملکوں کو ایک ایسے مقام پر لاسکتا ہے جہاں جنوبی ایشیا میں سفری شرائط نرم ہوتی چلی جائیں۔ پروفیسر ٹھاکر یہ امید کرتے ہیں کہ سنہ دو ہزار سینتالیس تک خطے میں فروغ سیاحت کے مشترکہ ادارے قائم ہوسکتے ہیں جو ویزے کی پابندیوں کو بتدریج ختم کرنے میں ایک مؤثر کردار ادا کرسکتے ہیں۔

تعاون و اشتراک کا ایک ٹھوس فائدہ خطے میں ماحولیاتی حفاظت کے شعبہ میں ہوسکتا ہے جس کے تحت جنوبی ایشیائی علاقائی ادارے دریاؤں کے بہاؤ، پانی کی تقسیم، کثافت اور جنگلوں کی حفاظت کیلئے مشترکہ اقدامات، باہمی رضامندی اور تعاون سے طے کرسکتے ہیں۔ خطے میں معاشی تعاون میں اضافہ علاقے کی ہر معیشت کو مضبوط اور خوشحال بنانے میں مدد دے سکتا ہے۔ آبادی کے لحاظ سے یہ منڈی بیرونی سرمایہ کاری کیلئے بہت پرکشش ثابت ہوسکتی ہے۔ شہری ڈھانچے میں سرمایہ کاری بڑھے گی، انتظامی ادارے مؤثر بن سکیں گے اور خطے کی تعلیم یافتہ، باصلاحیت اور متحرک و فعال افرادی قوت، پیداوار میں اضافے اور خوشحالی کے فروغ میں بھرپور کردار ادا کرسکیں گے۔

پروفیسر ٹھاکر کے مطابق جنوبی ایشیا میں مشترکہ منڈی خطے سے غربت اور عدم مساوات میں کمی، نیز سماجی و معاشی ترقی کیلئے ایک مناسب مشترکہ ہدف کے طور پر دیکھی جانی چاہیے جس کے زیر اثر اگلی تین دہائیوں میں خطے کے ممالک میں نمایاں سماجی بہتری واقع ہوسکتی ہے۔ ایسی ترقی خطے میں حقوق انسانی کی حفاظت کیلئے فضا کو سازگار بنائے گی جہاں حقوق انسانی کے ادارے اور علاقائی عدالت ہر ایک کیلئے قوانین کی پابندی کو یقینی بنائیں گے۔

مستقبل کے حوالے سے ان کو یہ بھی امید ہے کہ یورپی یونین کی طرح جنوبی ایشیا بھی مشترکہ اداروں کے قیام کی جانب ٹھوس قدم اٹھا پائے گا جس کا سب سے زیادہ فائدہ خطے کی خواتین اور بچوں کو ہوگا جو اب تک غربت، جرائم، معاشی، سماجی اور جنسی استحصال کا شکار بنتے چلے آ رہے ہیں۔

شاید اگلی دہائیوں میں مشترکہ کوششیں اتنی قوت حاصل کرلیں کہ نہ صرف ایک دوسرے کے ملکوں میں خواتین و بچوں کے حقوق کی حفاظت کو جنوبی ایشیا میں یقینی بنایا جاسکے بلکہ ان کیلئے بھی جو ملازمت یا سیاحت کیلئے خطے سے باہر جاتے ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔