جبری گمشدیاں: یو این کا گروپ پاکستان میں

آخری وقت اشاعت:  منگل 11 ستمبر 2012 ,‭ 00:54 GMT 05:54 PST

پاکستان میں جبری طور پر غائب کیے گیے افراد کے بارے میں تفصیلات اکھٹی کرنے کے لیے اقوام متحدہ کے ورکنگ گروپ نے پیر سے پاکستان کا دس روزہ دورہ شروع کیا۔

جبری گمشدگی کے بارے میں اقوام متحدہ کے اس ورکنگ گروپ کے سربراہ اولیوئیے دی فرویل ہیں جبکہ عثمان الحاجی اس کے رکن ہیں۔

پاکستان پہنچتے ہی اس ورکنگ گروپ نے آمنہ مسعود جنجوعہ سے اسلام آباد میں ملاقات کی۔

جنجوعہ نے بی بی سی بات کرتے ہوئے کہا ’میں نے ان (ورکنگ گروپ) کو بتایا کہ ہمارا دل بہت دکھ ہوا ہے، ہمارا خاندان شدید ذہنی اذیّت سے گذر رہا ہے۔ ہمارے بزرگ بستر مرگ پر ہیں اور جو کچھ ہمارے پیارے کے ساتھ ہو رہا ہے اس کا کوئی اندازہ نہیں لگا سکتا‘۔

"میں نے ان (ورکنگ گروپ) کو بتایا کہ ہمارا دل بہت دکھ ہوا ہے، ہمارا خاندان شدید ذہنی اذیّت سے گذر رہا ہے۔ ہمارے بزرگ بستر مرگ پر ہیں اور جو کچھ ہمارے پیارے کے ساتھ ہو رہا ہے اس کا کوئی اندازہ نہیں لگا سکتا۔"

آمنہ مسعود جنجوعہ

جنجوعہ کے شوہر مسعود احمد جنجوعہ جولائی سنہ دو ہزار میں اسلام آباد سے پشاور جاتے ہوئے لاپتہ ہوگئے تھے۔

آمنہ کا کہنا ہے کہ ان کے پاس شواہد موجود ہیں کہ ان کے شوہر کو پاکستان کی خفیہ ایجنیسوں کے اہلکاروں نے اغوا کیا اور وہ ان کی تحویل میں ہیں۔ پاکستانی حکام اس الزام کی تردید کرتے ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ مسٹر جنجوعہ افغانستان گئے تھے جہاں وہ مارے گئے ہیں۔

اپنے شوہر کی گمشدگی کے بعد آمنہ جنجوعہ نے لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے ڈیفنس آف ہیومن رائٹس کے نام سے ایک تنظیم بھی بنائی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان کی تنظیم نے گذشتہ چھ سالوں کے دوران اب تک ساڑھے سات سو جبری گمشدہ افراد کی دراخوستیں سپریم کورٹ میں دائر کر رکھی ہیں جو لاپتہ افراد سے متعلق درخواستوں کی سماعت کررہا ہے۔

’میں نے انہیں ( اقوام متحدہ کے ورکنگ گروپ ) بتایا کہ یہ تمام لاپتہ افراد سرکاری اداروں نے جبری طور پر غائب کیے ہیں اور حکومت ان کے بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کررہی ہے‘۔

اقوام متحدہ کے ورکنگ گروپ نے لاپتہ افراد کے بارے میں قائم جوڈیشل کمیشن کے سربراہ ریٹائرڈ جسٹس جاوید اقبال سے بھی ملاقات کی ہے۔

اگرچہ جبری طور پر غائب کیے گیے مبینہ واقعات کا معاملہ پورے پاکستان میں ہی ہے لیکن بلوچستان میں یہ مسئلہ زیادہ سنگین صورت حال اختیار کرگیا ہے۔

لاپتہ افراد کے بارے میں بلوچستان کی ایک تنظیم بلوچ نیشنل وائس نے اپنے بیان میں اقوام متحدہ کے ورکنگ گروپ کا خیر مقدم کیا ہے۔ ساتھ ہی تنظیم نے اس امید کا اظہار کیا کہ اقوام متحدہ کے ماہرین کسی حکومتی دباؤ کو خاطر میں لائے بغیر بلوچستان کا دورہ کریں گے اور جبری گمشدہ افراد کے عزیزوں سے ملاقاتیں کر کے حقائق معلوم کریں گے۔

تنطیم کا کہنا ہے کہ جولائی سنہ دو ہزار دس سے اب تک چار سو سے پانچ سو افراد کو اغوا کرنے کے بعد ان کی مسخ شدہ لاشیں پھینکی گئیں۔

تنظیم نے دعویٰ کیا ہے کہ بلوچستان میں چودہ سے پندرہ ہزار افراد لاپتہ ہیں۔

بلوچ نیشنل وائس اور لاپتہ افراد کے اکثر رشتہ دار الزام لگاتے ہیں کہ ان کے عزیزوں کو غائب کرنے اور حراست میں ہلاک کرنے میں پاکستان کی خفیہ ایجنسیاں آئی ایس آئی اور ملٹری انٹیلجنس کے علاوہ فرنٹیئر کانسٹیبلری یعنی ایف سی ملوث ہیں۔ پاکستانی حکام اس کی تردید کرتے ہیں۔

"یو این دنیا کی مختلف قوموں کا ایک ادارہ ہے جس کا احترام بہت ضروری ہے لیکن وہ کوئی وائسرائے نہیں ہے، ہمیں ایک ذمہ دار قوم کے طور پر اس ذمہ دار ادارے کا بہت احترام ہے اور ان سے مکمل طور پر تعاون کیا جائے گا۔"

قمر الزماں کائرہ

وزیر داخلہ رحمان ملک کا کہنا ہے کہ اس وقت صرف تین درجن لوگ لاپتہ ہیں لیکن پاکستان کی انسانی حقوق کی تنظیمیں کہتی ہیں کہ لاپتہ افراد کی تعداد اس سے کئی زیادہ ہیں۔

پاکستان کے وزیر برائے اطلاعات و نشریات قمر الزماں کائرہ نے اقوام متحدہ کے ورکنگ گروپ کے دورۂ پاکستان پر اپنے رد عمل میں کہا ’یو این دنیا کی مختلف قوموں کا ایک ادارہ ہے جس کا احترام بہت ضروری ہے لیکن وہ کوئی وائسرائے نہیں ہے، ہمیں ایک ذمہ دار قوم کے طور پر اس ذمہ دار ادارے کا بہت احترام ہے اور ان سے مکمل طور پر تعاون کیا جائے گا، مکمل طور پر تعاون ہورہا ہے، پہلے یہ الزامات تھے کہ ہزاروں کی تعداد میں لوگ لاپتہ ہیں لیکن جب سپریم کورٹ نے اس کی تفصیلات طلب کیں تو ان کی تعداد شاید ایک سو چودہ یا ایک سو اٹھارہ تھی‘۔

اسلام آباد سے جاری ہونے والے اقوام متحدہ کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ ورکنگ گروپ اپنے دس روزہ دورے کے دوران پاکستان کے مختلف حصوں کا دورہ کرے گا۔

بیان کے مطابق اس دوران وہ حکومتی اہلکاروں اور گمشدہ افراد کے خاندان والوں کے علاوہ سیؤل سوسائٹی کی تنظیموں اور اقوام متحدہ کے متعلقہ اداروں کے نمائیندوں سے ملاقاتیں کرے گا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ اپنے دورے کے دوران اقوام متحدہ کے یہ ماہرین ورکنگ گروپ کے پاس زیر التواء جبری گمشدگی کے کیسز کے بارے میں معلومات اکٹھی کریں گے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ اقوام متحدہ کے ماہرین حکومت کی طرف سے جبری طور پر غائب کیے جانے کے واقعات کی روک تھام اور اس کے خاتمے کے لیے کیے گیے اقدامات کا جائزہ بھی لے گا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔