’انٹرویو دیا ہے تو مشکلات بڑھ سکتی ہیں‘

آخری وقت اشاعت:  منگل 11 ستمبر 2012 ,‭ 15:37 GMT 20:37 PST

ڈاکٹر شکیل آفریدی کو مئی سنہ دوہزار گیارہ میں پشاور سے گرفتار کیا گیا تھا

اسامہ بن لادن کی تلاش میں امریکہ کو مدد دینے کے الزام میں گرفتار ڈاکٹر شکیل آفریدی کے وکیل کا کہنا ہے کہ ان کے موکل کے ’فاکس نیوز‘ کو دیے جانے والے انٹرویو سے ان کی مشکلات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

ڈاکٹر شکیل آفریدی کے وکیل سمیع اللہ آفریدی ایڈووکیٹ نے منگل کو بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ منگل کی صبح سے ان سے ملکی اور بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے ادارے انٹرویو سے متعلق رابطے کر رہے ہیں۔

نامہ نگار رفعت اللہ اورکزئی کے مطابق انہوں نے کہا کہ اگر ان کے موکل نے واقعی امریکی ٹی وی چینل ’فاکس نیوز‘ کو انٹرویو دیا ہے اور اس میں جو باتیں کہی گئی ہیں وہ سچ پر مبنی ہیں تو اس سے آنے والے دنوں میں شکیل آفریدی کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ وہ اس انٹرویو کی تصدیق نہیں کر سکتے اور نہ ہی شکیل آفریدی کے خاندان کے افراد اس سلسلے میں ذرائع ابلاغ سے کسی قسم کی بات کرنے کےلیے تیار ہیں۔

نجی امریکی ٹی وی چینل ’فاکس نیوز‘ نے القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کے خلاف دو مئی سنہ دو ہزار گیارہ کو ہونے والے آپریشن میں امریکی حکام کی مدد کرنے والے پاکستانی شہری ڈاکٹر شکیل آفریدی کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو کیا ہے جس میں ان کا کہنا ہے کہ پاکستانی خفیہ ادارہ آئی ایس آئی کے حکام امریکہ کو اپنا ’بد ترین دشمن‘ مانتے ہیں۔

سمیع اللہ آفریدی ایڈووکیٹ کے مطابق سینٹرل جیل پشاور میں شکیل آفریدی کی سکیورٹی شروع دن سے انتہائی سخت ہے اور ان سے ملاقات پر پابندی بھی تھی جبکہ کچھ پولیس اہلکار ہر وقت ان کے سیل میں موجود رہتے ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ان سختیوں کے خلاف انہوں نے پشاور ہائی کورٹ میں ایک درخواست بھی دائر کی تھی جس میں شکیل آفریدی سے ملاقات پر پابندی ختم کرنے کی استدعا کی گئی تھی۔

امریکہ بد ترین دشمن

نجی امریکی ٹی وی چینل ’فاکس نیوز‘ نے القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کے خلاف دو مئی سنہ دو ہزار گیارہ کو ہونے والے آپریشن میں امریکی حکام کی مدد کرنے والے پاکستانی شہری ڈاکٹر شکیل آفریدی کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو کیا ہے جس میں ان کا کہنا ہے کہ پاکستانی خفیہ ادارہ آئی ایس آئی کے حکام امریکہ کو اپنا ’بد ترین دشمن‘ مانتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایسے حالات میں ڈاکٹر شکیل آفریدی سے جیل کے اندر کسی رپورٹر کی جانب سے انٹرویو کرنا ان کی سمجھ سے بالاتر ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر یہ انٹرویو واقعی ان سے کیا گیا ہے اور اس میں کہی گئی باتیں بھی سچ پر مبنی ہیں تو اس سے آنے والے دنوں میں ان کے موکل کے مشکلات میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ انٹرویو میں بعض ایسی باتیں شکیل آفریدی سے منسوب کی گئی ہیں جو خود ان کے موکل اور ان کے خاندان کے افراد کےلیے انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتی ہیں۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ ہوسکتا ہے یہ انٹرویو موبائل فون کے ذریعے کیا گیا ہو تو اس پر سمیع اللہ آفریدی نے بتایا کہ پاکستان میں سب کچھ ممکن ہے اور جیلوں میں موبائل فون رکھنا کوئی نئی بات نہیں ہے۔

’فاکس نیوز‘ کا یہ انٹرویو منگل کو ملکی اور غیر ملکی اخبارات اور ویب سائٹس نے نمایاں طور پر شائع کیا ہے جس میں پاکستان کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے متعلق باتیں لکھی گئی ہیں۔

غالب امکان یہی ہے کہ یہ انٹرویو موبائل فون کے ذریعے سے کیا گیا ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔