تحریری وعدے تک بھوک ہڑتال جاری رہے گی

آخری وقت اشاعت:  بدھ 12 ستمبر 2012 ,‭ 15:34 GMT 20:34 PST

کامریڈ غلام رسول سہتو کا تعلق صوبہ سندھ کے موجودہ ضلع نوشہرو فیروز کے قصبے محراب پور سے ہے

’میں سپریم کورٹ کی جانب سے از خود نوٹس لینے اور صوبہ سندھ کے متعلقہ حکام سے جواب طلب کرنے پر خوش ہوں لیکن افسوس ہے کہ عوام کی منتخب حکومت نے کوئی اقدامات نہیں اٹھائے۔۔ میں نے بھی سوچ رکھا ہے کہ جب تک عدالت میں مجاز حکام تحریری وعدہ نہیں کرتے اس وقت تک بھوک ہڑتال ختم نہیں کروں گا چاہے میری موت ہی کیوں نہ واقع ہوجائے‘۔

یہ بات تادم مرگ بھوک ہڑتال پر بیٹھے سندھ ہاری کمیٹی کے سربراہ چونسٹھ سالہ کامریڈ غلام الرسول سہتو نے کہی۔

کامریڈ سہتو ستائیس مئی سے سندھ کے غریب کسانوں کو نہری پانی کی عدم فراہمی اور ہزاروں گھوسٹ یا فرضی سکولوں میں اساتذہ کی حاضری یقینی بنانے کے لیے تادم مرگ بھوک ہڑتال کررکھی ہے۔

غلام الرسول سہتو پہلے اٹھاسی روز تو صوبہ سندھ کے شہر خیرپور میں وزیراعلیٰ سندھ کے مکان کے سامنے احتجاج کرتے رہے لیکن جب کچھ نہ بنا تو وہ ایدھی ایمبولینس میں سندھ سے اسلام آباد پہنچے اور یہاں پریس کلب کے سامنے سبزے پر خیمہ زن ہوئے ہیں۔

کیمپ کے آس پاس درانتی والے نشان کے سرخ پرچم لگے ہیں اور کئی آنے جانے والے درجنوں سرخ پرچموں کے بیچ سراپا احتجاج اس نحیف شخص کو دیکھ کر روانہ ہو جاتے ہیں۔

ساڑھے تین ماہ سے بھوک ہڑتال کرنے والے غلام سہتو کا کہنا ہے کہ صوبہ سندھ کی بیشتر نہروں کے آخری سرے والے کاشتکاروں کو نہری پانی نہیں ملتا اور ہزاروں ایکڑ زرعی زمینیں تباہ ہو چکی ہیں۔

کامریڈ سہتو ستائیس مئی سے بھوک ہڑتال پر ہیں

’رواں سال تین لاکھ ایکڑ رقبے پر چاول کی کاشت نہیں ہو سکی ہے۔ سارے پیر وڈیرے اور بااثر لوگ ملے ہوئے ہیں اور غریب کاشتکاروں کا حق مارتے ہیں اور انہیں پانی نہیں دیتے‘۔

انہوں نے بتایا کہ ان کا دوسرا مطالبہ سندھ کی تعلیم کو بہتر کرنا ہے۔ ان کے بقول سندھ میں سرکاری طور پر تو ساڑھے سات ہزار گھوسٹ سکولوں کو تسلیم کیا جاتا ہے لیکن اصل میں ایسے سکولوں کی تعداد چالیس ہزار کے قریب ہے اور گھوسٹ اساتذہ کی تعداد ایک لاکھ ہے۔

’یہ اساتذہ محکمۂ تعلیم کے افسران کی ملی بھگت سے بچوں کو نہیں پڑھاتے لیکن تنخواہ لیتے ہیں۔پانچ ہزار فی استاد رشوت دیتا ہے، پچاس کروڑ ماہانہ رشوت بنتی ہے۔کوئی کارروائی نہیں کرتا کیونکہ اراکین پارلیمان اور صوبائی اسمبلیوں یا وڈیروں اور جاگیرداروں سمیت سب کا مفاد ایک ہے کہ غریب کا بچہ تعلیم حاصل نہ کر سکے‘۔

کامریڈ سہتو کہتے ہیں کہ اب تک تو حکومت اور میڈیا نے ان کے احتجاج پر مناسب توجہ نہیں دی لیکن اب سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے نوٹس لیا ہے اور انہیں امید ہے کہ وہ سندھ کی لاکھوں ایکڑ اراضی کاشت کروانے اور ہزاروں بھوت سکول چلوانے میں کامیاب ہوجائیں گے۔

’میں چاہتا ہوں کہ آب پاشی اور تعلیم کے محکموں کے ذمہ دار افسران عدالت میں حلف دیں کہ وہ ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کریں گے اور ٹائم فریم بتائیں کہ وہ عملدرآمد کب تک مکمل ہوگا۔۔ اس کے بعد ہی میں بھوک ہڑتال ختم کروں گا‘۔

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔