جنریٹر اور بوائلر پھٹنے سے آگ لگی، پولیس

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 13 ستمبر 2012 ,‭ 19:15 GMT 00:15 PST

کراچی کے ایک کارخانے میں آگ لگنے سے دو سو اناسی افراد کی ہلاکت کی تحقیقات کرنے والی پولیس ٹیم کا کہنا ہے کہ فیکٹری کے چار دروازے ہیں جن میں سے تین بند تھے جبکہ ایک دروازے کا کچھ حصہ کھلا ہوا تھا، جس کے باعث لوگ نکل نہیں پائے۔

ایس ایس پی اینٹی وائلینٹ کرائم سیل نیاز کھوسو نے بی بی سی کو بتایا کہ متعلقہ محکمے جو اس کارخانے کے معائنے کے ذمہ دار تھے، ’لگتا ہے کہ وہ بھی اپنے فرائض سر انجام نہیں دے رہے تھے‘۔

تفتیشی ٹیم کا کہنا ہے کہ شام کو چار بجے بجلی چلی گئی اور جنریٹر چالو ہوگیا، عام طور پر جب بجلی آتی تھی تو خود کار طریقے سے جنریٹر بند ہوجاتا تھا مگر اس روز چینج اوور نہیں ہوا اور دونوں کینکشن مل گئے۔

اوور لوڈ ہونے کی وجہ سے جنریٹر میں دھماکے کے ساتھ آگ لگ گئی جس نے قریبی بوائلر کو اپنی لپیٹ میں لے لیا نتیجے میں گراونڈ فلور پر آگ لگ گئی۔

ایس ایس پی نیاز کھوسو کے مطابق فیکٹری میں کپڑے، پولیسٹر اور بعض کیمیکلز کی وجہ سے آگ تیزی کے ساتھ پوری فیکٹری میں پھیل گئی اور لوگ پھنس گئے۔

ٹیم کے دوسرے رکن ایس ایس پی فاروق اعوان نے بی بی سی کو بتایا کہ انہوں نے سی سی ٹی وی کیمرے کی ریکارڈنگ بھی قبضے میں لے لی ہے، جو تفتیش میں مدد گار ثابت ہوگی۔

انہوں نے بتایا کہ فیکٹری میں زیادہ تر مال ایکسپورٹ کے لیے تیار کیا جاتا تھا، مالکان کا ایک بھائی امریکہ میں رہتا ہے اور ان کے پاس ویلڈ ویزہ بھی موجود ہیں۔

پولیس کے مطابق یہ واقعہ مالکان کی غفلت کا نتیجہ ہے جس کے ساتھ ساتھ اس کو چھپانے کی بھی کوشش کی گئی کچھ اطلاعات کے مطابق جب پہلی فائر برگیڈ پہنچی ہے تو مالکان نے اسے بھی روک دیا تھا۔

فیکٹری میں سپروائیزر کی حیثیت سے کام کرنے والے محمد ارشد کا کہنا ہے کہ تین ماہ پہلے بھی فیکٹری میں آگ لگی تھی مگر اس پر فوری قابو پالیا گیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ آگ بجھانے کے آلے ( سلینڈر ) موجود ہیں مگر اس کے علاوہ کوئی اور بندوبست نہیں ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔