پیغمبر اسلام کیخلاف فلم پر پاکستان کی مذمت

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 13 ستمبر 2012 ,‭ 22:57 GMT 03:57 PST

پاکستان نے پیغمبر اسلام کے بارے میں امریکہ میں بننے والی ایک متنازعہ فلم کے مناظر انٹرنیٹ پر ریلیز کرنے کی سخت مذمت کی ہے اور اسے مکروہ اور نفرت انگیز عمل قرار دیا ہے۔

دفتر خارجہ کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ گیارہ ستمبر 2001 کے سفاکانہ حملوں کی برسی کے موقع پر اس طرح کے مکروہ عمل سے سماجوں اور مختلف عقائد کے ماننے والے لوگوں کے درمیان نفرت، اختلاف اور دشمنی کو ہوا دیتے ہیں۔

ترجمان نے کہا ہے کہ اس عمل سے پاکستان کے لوگوں اور دنیا بھر میں مسلمانوں کے جذبات بری طرح مجروح ہوئے ہیں۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان بین العقائد ہم آہنگی کا زبردست حامی ہے اور ہر قسم کی شدت پسندی کی بہرصورت مخالفت کی جانی چاہیے۔

پاکستان نے لیبیا میں اسی متنازعہ فلم کے خلاف پرتشدد احتجاج کے دوران مشتعل ہجوم کے حملے میں امریکی سفیر سمیت چار سفارتی اہلکاروں کی ہلاکت کی بھی سخت مذمت کی ہے۔

دوسری طرف امریکی خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق پیغمبر اسلام کے بارے میں متنازعہ فلم بنانے والے اسرائیلی نژاد امریکی روپوش ہوگئے ہیں۔

اے پی کے مطابق سیم باسل کیلی فورنیا میں پراپرٹی ڈویلپر یعنی بلڈر ہیں اور خود کو اسرائیلی یہودی کے طور پر متعارف کراتے ہیں۔

انہوں نے یہ فلم خود لکھی اور خود ہی اسکی ہدایتکاری کی ہے۔

دو گھنٹے دورانئے کی اس فلم پر پچاس لاکھ امریکی ڈالر لاگت آئی اور یہ پیسے باسل کے مطابق انہوں نے سو سے زیادہ یہودیوں سے جمع کیے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔