’کوئی بھی امدادی ادارہ ہم تک نہیں پہنچا‘

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 13 ستمبر 2012 ,‭ 17:20 GMT 22:20 PST

متاثرین نے پائیگاہ میں ایک سکول میں پناہ لی ہوئی ہے۔

ڈیرہ غازی خان شہر سے چند کلو میڑ کے فاصلے پر پائیگاہ کے علاقے میں گورنمنٹ ہائی سکول میں پناہ گزینوں کی ایک عارضی بستی آباد ہے جہاں بے یارومددگار اور بےحال مقامی آبادی کے تقریباً دو سو افراد پناہ لیے ہوئے ہیں کیونکہ ان کے اپنے مکان سیلاب کی نذر ہو چکے ہیں ـ

انہی متاثرین میں شمو بی بی بھی ہیں جن کی پانچ جوان بچیاں ہیں اور وہ اپنی بچیوں کے سر سے چھت چھن جانے پر رنجیدہ ہیں۔

شمو بی بی کہتی ہیں کہ ان کے چھوٹے چھوٹے بچے شام کو رو کر بھوکے ہی سو جاتے ہیں اور کسی نے انہیں پوچھا تک نہیں۔ ’ہمارا سامان کپڑے اور جانور سب بہہ گئے۔ صرف اپنے بچوں کی جان پچا کر بیٹھے ہیں۔‘

سکول سے کچھ فاصلے پر شمو بی بی کا گاؤں ہے جہاں چند روز پہلے چھ فٹ اونچا پانی تھا تاہم اب پانی کافی حد تک نیچے اتر چکا ہے اور کچھ لوگ اپنے گھروں اور فصلوں کے نقصان کا اندازہ لگانے کے لیے اپنے علاقے کا رخ کر رہے ہیں۔ لیکن ان کی بستی میں شاید ہی کوئی گھر ہو جو سلامت ہو۔

واپس جانے والوں میں ایک اعجاز احمد بھی ہیں جن کا کہنا ہے کہ سب کچھ برباد ہوچکا ہے۔’ کوئی بھی امدادی ادارہ ہم تک نہیں پہنچا۔ وقت اللہ کے آسرے پر ہی گزر رہا ہے۔‘

اس مرتبہ ڈیرہ غازی خان کو ڈبونے کا سبب ڈی جی خان نہر بنی جو کوہ سلیمان کے ندی نالوں کا پانی دریائے سندھ تک پہنچانے کا ذریعہ ہے۔ ندی نالوں میں طغیانی ہوئی اور نہر میں اچانک پانی کا بہاؤ زیادہ ہونے سے سات شگاف پڑ گئے۔ سب سے بڑا شگاف سخی سرور روڈ کے قریب پڑا جس کی چوڑائی ایک سو پچاس فٹ تھی۔ سات شگافوں نے ڈی جی خان اور آس پاس کی آبادیوں کو چند ہی گھنٹوں میں ڈبو دیا۔ سخی سرور روڈ پر نہر کے آس پاس کے مکینوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے پانی کو نہر میں تیزی سے چڑھتا دیکھ کر پانچ گھنٹے پہلے انتظامیہ کو اطلاع کر دی تھی لیکن ہمیشہ کی طرح ادارے حرکت میں آئے تو سہی لیکن پانی سر سے گزر جانے کے بعد۔

"کوئی بھی امدادی ادارہ ہم تک نہیں پہنچا۔ وقت اللہ کے آسرے پر ہی گزر رہا ہے"

اعجاز احمد، مقامی رہائشی

دوہزار دس کے سیلاب کے دوران بھی دریاؤں اور نہروں میں شگاف پڑنے سے کافی نقصان ہوا جس کے بعد حکومت کی جانب سے نہروں کو پختہ کرنے کا پروگرام شروع کرنے کے منصوبے بھی بنائے گئے لیکن نہ تو سیلاب کے بعد بنائے گئے عدالتی کمیشن کی کسی سفارش پر کسی ذمے دار کو سزا ملی اور نہ ہی نہروں کو پختہ کرنے کے لیے کوئی عملی اقدام ہوا۔

راجن پور میں بھی ندی نالوں میں طغیانی نے تباہی مچا رکھی ہے۔ ایک سو ستر دیہات زیر آب آئے اور ڈیڑھ لاکھ افراد بے گھر ہوئے ہیں۔

ڈی جی خان اور راجن پور میں ندی نالوں سے طغیانی حکومتی اداروں کے لیے تو جیسے معمول کی بات بن چکی ہے۔ ہر سال مقامی آبادی اس سے بربادی کا شکار ہوتی ہے لیکن انتظامیہ کی جانب سے اسے نقصان کو روکنے یا کم سے کم کرنے کے لیے کبھی کوئی لائحہ عمل ترتیب نہیں دیا گیا ہے۔

دوہزار دس کے سیلاب کے دوران بھی دریاؤں اور نہروں میں شگاف پڑنے سے کافی نقصان ہوا تھا۔

اگر کبھی حکومت کی مقبولیت خطرے میں پڑنے لگے تو چند ہفتے متاثرین کے آنسو پونچھے جاتے ہیں اور ان کے سروں پر ہاتھ رکھا جاتا ہے۔ تھوڑے عرصے کے لیے ان کے کھانے پینے اور رہائش کا بندوبست ہوتا ہے اور ڈھیروں تصویریں بنوائی جاتی ہیں۔

ذرائع ابلاغ کی توجہ ہٹتے ہی متاثرین پھر ’اللہ کے آسرے‘ پر ہی وقت گزارتے ہیں۔ متاثرین کے نام پر شروع کی گئی سکیموں اور امداد سے بہت سے سرکاری اہلکاروں اور عوامی نمائندوں کا بھلا ہو جاتا ہے۔

تاہم پائیگاہ کے سکول کے پناہ گزینوں کی طرح سیلاب زدگان کی قسمت وہی رہتی ہے۔ تھوڑے عرصے بعد ان کا عارضی سائبان بھی چھن جاتا ہے۔

پائیگاہ کے سکول میں پناہ لیے ہوئے حق نواز کہتے ہیں کہ سکول کی انتظامیہ نے انہیں عمارت خالی کرنے کا حکم دیا ہے تاکہ یہاں بچوں کو پڑھایا جاسکے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ہم کہاں جائیں ہمارا تو کوئی ٹھکانہ ہی نہیں۔‘

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔