’ناقص حفاظتی اقدامات پر آواز نہیں اٹھا سکتے‘

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 13 ستمبر 2012 ,‭ 07:54 GMT 12:54 PST

’ساتھ کام کرنے والے دیگر افراد نے کبھی اس بارے میں بات نہیں کی کہ ان کی فیکڑی میں حفاظتی انتظامات ناکافی ہیں کیونکہ انہوں نے کبھی کسی ایسے حادثے کے بارے میں سوچا ہی نہیں تھا‘۔زخمی ہونے والے ملازم یاسر رزاق

پاکستان کے دو بڑے شہروں کراچی اور لاہور کی فیکڑیوں میں آتشزدگی سے تین سو سے زائد افراد کی ہلاکت نے اس بحث کو جنم دیا ہے کہ مزدوروں کے حقوق کے لیے نئی قانونی سازی کی جائے کیونکہ پہلے سے رائج قوانین میں سقم ہے۔

مزدور رہنماؤں اور تنظیموں کا کہنا ہے کہ مزدوروں کے حقوق کے تحفظ کے لیے قوانین پر عمل درآمد نہیں ہو رہا اور قوانین کتابوں تک محدود ہیں۔

مزدوروں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی لیبر پارٹی کے عہدیدار فاروق طارق کا کہنا ہے کہ مزدوروں کے حقوق کے لیے قوانین بہت کم ہیں اور جو قوانین ہیں ان پر عمل درآمد نہیں ہوتا ہے۔

فاروق طارق کے بقول پاکستان میں مزدور فیکڑیوں میں نہیں بلکہ بیگار کیمپوں میں کام کرتے ہیں اور اسی وجہ سے مزدور انتہائی جبر کے ماحول کے کام کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مزدوروں کے لیے ممکن نہیں کہ وہ فیکڑیوں میں اپنی حفاظت کے لیے ناقص انتظامات پر آواز اٹھا سکیں۔

فاروق طارق کہتے ہیں کہ مزدور کو ذرا سی بات کرنے پر اس کو ملازمت سے نکال دیا جاتے ہیں اور اسی وجہ سے مزدور خاموش رہتا جبکہ لیبر کورٹس بھی کسی معاملے کو حل کرنے میں بہت دیر لگا دیتی ہیں۔

ان کے مطابق پاکستان کی فیکڑیوں میں حفاظتی انتظامات آئی ایل او کے مقرر شدہ معیار کے مطابق نہیں ہیں اور بیشتر فیکڑیوں میں آگ بجھانے کے آلات تک موجود نہیں ہے۔

"اگر مزدور فیکڑی میں حفاظتی انتظامات ناقص ہونے پر لیبر ڈیپارٹمنٹ سے رجوع کرتا ہے تو فیکڑی مالکان کو جو جرمانہ کیا جاتا ہے وہ انتہائی کم ہوتا ہے جس سے فیکڑی مالک کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔"

قانون دان عصمت کمال

لیبر پارٹی کے رہنما نے مزدوروں کے حقوق کے حوالے سے قانون ساز اداروں کے کردار پر نکتہ چینی کی اور کہا کہ قانون ساز ادارے سرمایہ کاروں کے حق میں بات کر رہے ہیں۔ ان کے بقول جب مزدور اپنے حق کے لیے آواز بلند کرتا ہے تو اس کے خلاف دہشت گردی کے قانون کے تحت مقدمہ درج ہوجاتا ہے۔

فاروق طارق کا کہنا ہے کہ مزدوروں کی ہلاکت کسی دہشت گردی سے کم نہیں ہے۔

مزدوروں کے مقدمات کی پیروی کرنے والے وکیل عصمت کمال کا کہنا ہے مزدور کے لیے بنائے گئے قوانین کی خلاف ورزی پر جو سزا دی جاتی ہے وہ انتہائی محضکہ خیز ہے۔

ان کے بقول اگر مزدور فیکڑی میں حفاظتی انتظامات ناقص ہونے پر لیبر ڈیپارٹمنٹ سے رجوع کرتا ہے تو فیکڑی مالکان کو جو جرمانہ کیا جاتا ہے وہ انتہائی کم ہوتا ہے جس سے فیکڑی مالک کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔

ان کا کہنا ہے کہ مالکان فیکڑیز ایکٹ پر عمل نہیں کرتے اور متعلقہ ادارے انہیں عمل درآمد کا پابند بھی نہیں بناتے۔

قانون دان عصمت کمال کے مطابق مزدور فیکڑی میں حفاظتی انتظامات نہ ہونے پر متعلقہ ہائی کورٹ کے روبرو درخواست دائر کرسکتا ہے لیکن جب اس طرح کی درخواست کی جاتی ہے تو کچھ عرصہ کے بعد مزدور کی اپنی درخواست کی پیروی میں دلچسپی کم ہوجاتی ہے۔

’پاکستان میں مزدور فیکڑیوں میں نہیں بلکہ بیگار کیمپوں میں کام کرتے ہیں‘۔ لیبر پارٹی کے عہدیدار فاروق طارق

عصمت کمال کہتے ہیں عدالت میں مقدمے کے جلد فیصلہ نہ ہونے کی وجہ سے مزدور مایوس ہو کر اس کی پیروی میں دلچسپی نہیں لیتا کیونکہ مزدور کو یوں لگتا ہے کہ اس کی سنوائی نہیں ہوگی۔

لاہور میں جوتے بنانے کی فیکڑی میں آگ لگنے سے شدید زخمی ہونے والے ملازم یاسر رزاق نے بتایا کہ انہوں نے ان کے ساتھ کام کرنے والے دیگر افراد نے کبھی اس بارے میں بات نہیں کی کہ ان کی فیکڑی میں حفاظتی انتظامات ناکافی ہیں کیونکہ انہوں نے کبھی کسی ایسے حادثے کے بارے میں سوچا ہی نہیں تھا۔

زخمی ملازم کا کہنا ہے اگر ان کی فیکڑی میں کوئی خارجی راستہ ہوتا تو اتنی تباہی نہ ہوتی اور کئی جانیں بچ جاتی۔

ادھر پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق نے فیکڑیوں میں اگ لگنے سے ہونے والی اموات پر مطالبہ کیا کہ فیکڑیوں میں حفاظتی انتظامات کے بغیر کام کرنے کی اجازت کے بارے چھان بین ہونی چاہئیے۔

کمیشن کا یہ بھی مطالبہ ہے کہ مزدوروں کے نمائندوں سے مشورے سے فیکڑیوں میں محفوظ ماحول کے لیے لیبر انسپکٹروں کے ذریعے فیکڑیوں کی نگرانی کا آغاز کیا جائے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔