رمشا کو عدالت میں پیش ہونے کا نوٹس

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 14 ستمبر 2012 ,‭ 12:13 GMT 17:13 PST

رمشا کو ضمانت سے پہلے صرف ایک بار عدالت میں پیش کیا گیا ہے

اسلام آباد کی ایک مقامی عدالت نے توہین مذہب کے مقدمے میں نامزد ملزمہ عیسائی لڑکی رمشا کو سترہ سمتبر کو عدالت میں پیش ہونے سے متعلق نوٹس جاری کیا ہے۔

عدالت نے پولیس کو تین روز کے اندر اس مقدمے کا حتمی چالان پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔

یاد رہے کہ اسلام آباد کے ایڈیشنل سیشن جج نے سات ستمبر کو رمشا مسیح کی پانچ پانچ لاکھ کے دو مچلکوں پر ضمانت منظور کر لی تھی اور اُنہیں آٹھ ستمبر کو راولپنڈی کی اڈیالہ جیل سے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا تھا۔

سول جج عامر عزیز خان کی عدالت میں جمعے کو توہین مذہب کے مقدمے کی سماعت ہوئی تو اس مقدمے کے مدعی حماد ملک کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ قانون کے مطابق جس کسی مقدمے میں ملزم کی ضمانت منظور کر لی جائے تو اُسے ہر پیشی پر اُس وقت تک عدالت میں پیش ہونا ہوتا ہے جب تک اُنہیں اس مقدمے سے بری نہ کر دیا جائے۔

اُنہوں نے کہا کہ اس مقدمے کی سماعت کے دوران نہ تو ملزمہ پیش ہوئیں اور نہ ہی اُن کی طرف سے کوئی وکیل عدالت میں پیش ہوا۔

اُنہوں نے عدالت سے استدعا کہ ملزمہ کی ضمانت کو منسوخ کر کے اُن کے خلاف کارروائی کی جائے۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق اس مقدمے کے تفتیشی افسر منیر حسین جعفری کا کہنا تھا کہ پولیس ملزمہ کو اپنے تئیں عدالت میں پیش ہونے کا نہیں کہہ سکتی البتہ اگر وہ خود پیش نہ ہوں تو ان کی ضمانت کے مچلکے منسوخ کیے جا سکتے ہیں۔

مدعی حماد ملک کے وکیل راؤ عبدالرحیم کا کہنا تھا کہ ابھی تک اس مقدمے کا ابتدائی چالان بھی عدالت میں پیش نہیں کیا گیا جبکہ تفتیشی افسر پندرہ روز کے اندر اندر عبوری چالان عدالت میں پیش کرنے کا پابند ہے۔

رمشا کو اڈیالہ جیل سے ہیلی کاپٹر کے ذریعے نامعلوم مقام پر منتقل کیا گیا ہے

اُنہوں نے کہا کہ ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت اس مقدمے کا چالان عدالت میں پیش نہیں کیا جا رہا، جس کی وجہ سے انصاف کی رہ میں رکاوٹیں کھڑی کی جا رہی ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ اس مقدمے کے حقائق تبدیل کیے جا رہے ہیں۔

اسلام آباد پولیس کی پراسیکیوشن برانچ کے اہلکار کے مطابق اس مقدمے کا جیل میں ٹرائل کرنے کے احکامات جاری ہوئے ہیں جس پر مدعی کے وکیل کا کہنا تھا کہ اس ضمن میں کوئی حکم ابھی تک عدالت میں پیش نہیں کیا گیا۔

اُنہوں نے کہا کہ جیل میں مقدمے کے سماعت اُس وقت ہوتی ہے جب کوئی ملزم گرفتار ہو جبکہ اس مقدمے میں تو رمشا کی ضمانت ہو چکی ہے۔

اس مقدمے کی تفتیش کرنے والے پولیس اہلکار نے عدالت سے استدعا کی کہ اس کے لیے کچھ مذید وقت دیا جائے جس پر عدالت نے اس مقدمے کا حتمی چالان تین روز کے اندر مکمل کر کے عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا۔

اس مقدمے میں پولیس نے اسلام آباد کے مقامی آبادی میرا جعفر کی ایک مقامی مسجد کے امام خالد جدون کو اس مقدمے کے شواہد کو تبدیل کرنے کے الزام میں گرفتار کیا ہے جو ان دنوں اڈیالہ جیل میں ہیں۔ ملزم کو سولہ ستمبر کو دوبارہ عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

یاد رہے کہ رمشا مسیح کو سولہ اگست کو اسلام آباد پولیس نے گرفتار کیا تھا اور ضمانت سے پہلے صرف ایک مرتبہ اُنہیں عدالت میں پیش کیا گیا۔

رمشا کے وکیل طاہر نوید چوہدری نے بی بی سی کو بتایا کہ جب تک اس مقدمے کا حتمی چالان پیش نہیں کیا جاتا اُس وقت تک اُن کی موکلہ عدالت میں پیش ہونے کی پابند نہیں ہے۔ اُنہوں نے کہا حتمی چالان پیش ہونے کے بعد عدالت اُنہیں نوٹس جاری کر کے طلب کر سکتی ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔