کراچی: کارخانہ مالکان سے تفتیش شروع

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 15 ستمبر 2012 ,‭ 17:14 GMT 22:14 PST

کراچی میں گیارہ ستمبر کو ایک کپڑے بنانے والے کارخانے میں آگ لگنے سے دو سوپچاس سے زیادہ کارکن جلس کر ہلاک ہوئے۔

کراچی میں کپڑوں کے کارخانے علی انٹر پرائزز میں آگ لگنے کے مقدمے میں نامزد تین مالکان نے سنیچر کو خود کو کراچی پولیس کے تفتیشی حکام کے سامنے پیش کیا جنہوں نے بیان کی غرض سے انہیں نامعلوم مقام منتقل کردیا ہے۔

ملزمان عبدالعزیز بھائیلہ، ارشد بھائیلہ، اور شاہد بھائیلہ نے گزشتہ روز سندھ ہائی کورٹ لاڑکانہ بنچ سے اکیس ستمبر تک حفاظتی ضمانت قبل از گرفتاری حاصل کی تو عدالت نے انہیں پابند کیا تھا کہ تفتیشی افسر کے پاس جاکر بیان دیں اور پاسپورٹس سندھ ہائی کورٹ کے پاس جمع کروائیں۔

عدالت نے وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے کو ہدایت کی تھی کہ تینوں ملزمان کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالے جائیں تاکہ تینوں ملک سے باہر نہ جاسکیں۔

رابطہ کرنے پر کراچی پولیس کے سربراہ سی سی پی او اقبال محمود نے کہا کہ بیان ابھی جاری ہے اور اس موقع پر پولیس حکام نہیں بتاسکیں گے کہ ملزمان کا بیان کیا ہے۔

تاہم ابتدائی تفتیش کے بارے میں سی سی پی او نے کہا کہ تفتیش کاروں کا ابتدائی اندازہ یہی ہے کہ آگ شارٹ سرکٹ کی وجہ سے لگی کیونکہ بجلی کے لیے وہاں موجود جنریٹرز بالکل درست پائے گئے۔

ملزمان کے وکیل عامر منصوب خان نے کراچی میں ہمارے نامہ نگار جعفر رضوی کو بتایا کہ ان کے مؤکل کے پاس تمام نقشہ جات، کاغذات، ثبوت و شواہد، اور اسناد موجود ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ جہاں آگ لگی، وہاں سے ہنگامی حالت میں باہر جانے کے کم از کم تین مختلف دروازے بھی تھے اور آگ بجھانے کے آلات بھی تھے جبکہ ادارہ دو ہزار آٹھ سے آئی ایس او سرٹیفکٹ کا حامل بھی تھا جو ملتا ہی اس صورت میں ہے جب مزدوروں یا کارکنوں کے لیے حفاظت و سلامتی کے تمام انتظامات مکمل ہوں۔

"میرے مؤکل کے پاس تمام نقشہ جات، کاغذات، ثبوت و شواہد، اور اسناد موجود ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ جہاں آگ لگی، وہاں سے ہنگامی حالت میں باہر جانے کے کم از کم تین مختلف دروازے بھی تھے اور آگ بجھانے کے آلات بھی تھے جبکہ ادارہ دو ہزار آٹھ سے آئی ایس او سرٹیفکٹ کا حامل بھی تھا جو ملتا ہی اس صورت میں ہے جب مزدوروں یا کارکنوں کے لیے حفاظت و سلامتی کے تمام انتظامات مکمل ہوں۔"

ملزمان کے وکیل

مگر اس سوال کے جواب میں کہ اگر تمام حفاظتی انتظامات مکمل تھے اور آگ بجھانے کے آلات بھی تھے، راستے بھی کھلے تھے تو پھر اتنی بڑی تعداد میں ہلاکتیں کیسے ہوئیں، وکیل عامر منصوب خان نے کہا کہ آگ تھی ہی اتنی بڑی کہ اسے بجھایا نہیں جاسکا۔

وہاں بہت زیادہ مقدار میں ڈینم (جینز بنانے کا کپڑا) رکھا ہوا تھا، اور پھر آگ بجھانے کے لیے جو محکمۂ فائر بریگیڈ کی گاڑیاں بھی آئیں تو ان میں یا تو پانی نہیں تھا یا پھر وہ قریب جا کر کام نہ کرسکیں۔

اس معاملے پر مستعفی والے صوبائی وزیر صنعت عبدالرؤف صدیقی کا کہنا تھا کہ جب وہ وہاں پہنچے تو انہیں یہی اندازہ ہوا کہ ساری خرابی کا اولین ذمہ دار تو وہ مالک ہیں جس کے کارخانے میں کئی خلاف ورزیاں کی گئیں تھیں۔

کراچی کے سابق ایڈمنسٹریٹر فہیم زمان کا کہنا بھی یہی ہے کہ اب آئی ایس او جیسے بہانے تراشنے کی بات عذر گناہ بدتر از گناہ ہے۔

فہیم زمان کا کہنا ہے کہ اس کارخانے اور اس کے علاوہ بھی وہاں موجود تمام کارخانوں میں آج بھی کھڑکیاں بند ہیں اور تب بھی تھیں، مزدور کی گنجائش سے زیادہ تعداد کام کرتی تھی اور اب بھی کارخانوں میں جاکر دیکھ لیں زیادہ تعداد میں مزدور کا کر رہے ہیں تو پھر یہ باتیں بیکار ہیں کہ آئی ایس او تھا یا نہیں تھا، حقیقیت یہ ہے کہ دو سو ساٹھ لوگ اس غفلت کا شکار ہوکر مرگئے۔

آگ لگنے کے اس واقعے میں بچ جانے والے زخمیوں کا بھی یہی کہنا تھا کہ تمام راستے بند تھے اور ہلاک ہونے والوں کے لواحقین بھی یہی پوچھتے ہیں کہ اگر راستے کھلے تھے، آگ بجھانے کے آلات و انتظامات سمیت مزدوروں کی سلامتی کے تمام معاملات درست تھے تو پھر اتنی بڑی تعداد میں لوگ کیوں مارے گئے انہوں نے جان بچانے کی کوشش کیوں نہیں کی۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔