’کوئلے سے بجلی بنانے کا منصوبہ قابلِ عمل نہیں‘

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 15 ستمبر 2012 ,‭ 04:08 GMT 09:08 PST

ایک ارب ڈالر سرکلر ڈیٹ یا گردشی قرضے کم کرنے کے لیے استعمال کیے جائیں گے، احمد مختار

پاکستان کے وفاقی وزیر برائے پانی اور بجلی چوہدری احمد مختار نے کہا ہے کہ تھر کے علاقے سے کوئلہ نکال کر بجلی بنانے کا منصوبہ ابھی تک قابل عمل نہیں ہے۔

بی بی سی کو دیے گئے ایک انٹریو میں انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر ثمر مبارک مند بہت ایڈوانس ٹیکنالوجی کے ذریعے تھر کے کوئلے سے بجلی بنانے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن ان کی ٹیکنالوجی ابھی تک خاطر خواہ نتائج نہیں دے سکی ہے۔

احمد مختار کا کہنا تھا ’ ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ کوئلہ درآمد کر کے اس سے سستی بجلی بنائیں گے تاکہ بجلی کا بحران بھی کم ہو سکے اور مجموعی طور پر بجلی کی قیمت بھی کم کی جا سکے۔‘

وفاقی وزیر کے مطابق ’ہم ہمیشہ تو انتظار نہیں کر سکتے کہ ان کی ٹیکنالوجی سے بجلی بنے۔ ہمیں بجلی کی فوری ضرورت ہے اور ڈاکٹر ثمر مبارک مند ابھی تک کوئی بریک تھرو نہیں دے سکے ہیں۔‘

"ہم ہمیشہ تو انتظار نہیں کر سکتے کہ ان کی ٹیکنالوجی سے بجلی بنے۔ ہمیں بجلی کی فوری ضرورت ہے اور ڈاکٹر ثمر مبارک مند ابھی تک کوئی بریک تھرو نہیں دے سکے ہیں۔"

وفاقی وزیر برائے پانی اور بجلی چوہدری احمد مختار

جب وفاقی وزیر پانی و بجلی سے پوچھا گیا کہ پھر ثمر مبارک مند کے منصوبے پر اتنا وقت اور پیسہ کیوں لگایا گیا تو انہوں نے کہا کہ اس کا جواب تو ڈاکٹر ثمر مبارک مند ہی دیں گے۔

چوہدری احمد مختار کا کہنا تھا کہ انہوں نے بجلی بحران کے خاتمے کے لیے منصوبہ صدر مملکت سے منظور کروا لیا ہے جس پر عمل کر کے ایک سال کے اندر بجلی کی لوڈشیڈنگ کم کر کے تین گھنٹے تک کی جا سکتی ہے۔

چار ارب ڈالر لاگت کے اس منصوبے کی تفصیل بتاتے انہوں نے کہا کہ ایک ارب ڈالر کی لاگت سے کوئلہ درآمد کیا جائیگا۔ اس کوئلے سے بجلی بنانے کے لیے چین سے جنریٹرز درآمد کرنے کا معاہدہ طے پا چکا ہے جو چند ماہ میں پاکستان پہنچ جائیں گے۔ یہ جنریٹرز بائیس سو میگا واٹ بجلی پیدا کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ ایک ارب ڈالر سرکلر ڈیٹ یا گردشی قرضے کم کرنے کے لیے استعمال کیے جائیں گے جس سے بجلی کی پیداوار بہتر ہو جائے گی۔

وفاقی وزیر کے مطابق ایک ارب ڈالر سے تیل سے چلنے والے بجلی گھروں کو کوئلے پر منتقل کیا جائیگا اور ایک ارب ڈالر بجلی کی قیمت کم رکھنے پر صرف کیے جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ یہ رقم چین کی مشینری بنانے والے کمپنیاں پاکستان کو دینے پر رضا مند ہو چکی ہیں۔

وفاقی وزیر پانی و بجلی نے یہ بھی بتایا کہ ملک میں بجلی کی چوری روکنے کے لیے ایک خصوصی پولیس فورس تشکیل دی جا رہی۔

’واپڈا فورس کے نام سے خصوصی پولیس آئندہ چند روز میں تشکیل پا جائے گی جن کے پاس بجلی چوروں کو پکڑنے اور ان کے مقدمات عدالتوں میں لے جانے کے خصوصی اختیارات ہوں گے۔‘

احمد مختار نے کہا کہ وفاقی حکومت نے صوبوں کی سطح پر یہ پولیس فورس بنانے کا حکم جاری کر دیا ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔