کراچی: بیمار بھیڑوں کو تلف کرنے کا فیصلہ

آخری وقت اشاعت:  اتوار 16 ستمبر 2012 ,‭ 15:14 GMT 20:14 PST

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ مرض میں مبتلا بھیڑوں کا گوشت کھانے سے زہر خورانی اور ہیضہ جیسی بیماریاں ہوسکتی ہیں

پاکستان کے شہر کراچی میں آسٹریلیا سے درآمد شدہ اکیس ہزار بھیڑوں میں بیماری کی تصدیق ہوجانے کے بعد کمشنر کراچی نے انہیں تلف کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔

کمشنر کراچی روشن علی شیخ کے احکامات کے تحت شہر کے مضافات میں واقع میدانی علاقے میں ایک گڑھا کھودا جارہا ہے جس میں ان بھیڑوں کو انجکشن کے ذریعے ہلاک کرنے کے بعد دفن کردیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ بھاری مشینری کی مدد سے گڑھا کھودنے کا کام شروع کیا جاچکا ہے جبکہ بھیڑوں کو ہلاک کر کے دفنانے کا کام وفاقی، صوبائی اور شہری حکومت کے طبی ماہرین اور عملے کی نگرانی میں کیا جائے گا اور چونکہ بھیڑوں کی تعداد بہت زیادہ ہے لہذٰا اس کام کو مکمل کرنے میں دو سے تین دن لگیں گے۔

کراچی سے نامہ نگار ارمان صابر نے بتایا ہے کہ صوبائی محکمۂ لائیوسٹاک کے تحت سندھ پولٹری ویکسین سینٹر کی ایک طبی رپورٹ میں یہ سامنے آیا تھا کہ آسٹریلیا سے درآمد شدہ بھیڑوں میں انتہائی مہلک مرض موجود ہے۔

یہ طبی رپورٹ دو روز قبل ہی میڈیا میں شائع کی گئی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ ان بھیڑوں سے جو نمونے حاصل کیے گئے ان میں ایک سو فیصد خطرناک بیکٹیریا موجود ہیں جبکہ ان میں چوالیس فیصد ای-کولی نامی بیماری بھی پائی جاتی ہیں۔

آسٹریلیا کی ایک نجی کمپنی نے یہ بھیڑیں بحرین کی ایک نجی کمپنی کو برآمد کی تھیں لیکن بحرین نے ان بھیڑوں پر شبہ ظاہر کیا اور انہیں لینے سے انکار کردیا جس کے بعد پاکستان کی ایک نجی کمپنی نے ان بھیڑوں کو درآمد کیا۔

تاہم ان کی درآمد کے ساتھ ہی ان بھیڑوں پر سوال اٹھنا شروع ہوگئے تھے اور انہیں محکمۂ لائیو سٹاک نے علیحدہ اور نگرانی میں رکھنے کے احکامات جاری کیے تھے۔

کمشنر کراچی روشن علی شیخ کا کہنا تھا کہ اکیس ہزار سے زیادہ متاثرہ بھیڑوں کو تلف کرنے میں وقت تو لگے گا لیکن یہ کام جنگی بنیادوں پر کیا جارہا ہے۔

ان کے بقول انہیں تلف کرنے کے لیے ایک سائنسی عمل ہوتا ہے جس پر عمل کرنا ضروری ہوتا ہے اور اس دوران یہ یقینی بنایا گیا ہے کہ ایک بھی بھیڑ وہاں سے کہیں اور منتقل نہ ہوسکے۔

سائنسی عمل کے بارے میں انہوں نے کہا کہ بھیڑوں کو تلف کرنے کے دو طریقے ہیں، ایک تو یہ کہ انہیں ذبح کر کے دفن کردیا جائے اور دوسرا یہ کہ انہیں انجکشن کے ذریعے تلف کیا جائے۔

کمشنر کراچی نے کہا کہ انتظامیہ نے انجکشن کے ذریعے ان بھیڑوں کو تلف کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔