این آر او کیس کب کیا ہوا؟

آخری وقت اشاعت:  منگل 18 ستمبر 2012 ,‭ 17:12 GMT 22:12 PST

آئین کے مطابق صدرِ پاکستان کو ملک کے اندر اور باہر فوجداری مقدمات میں استثنیٰ حاصل ہے۔

پاکستان کی عدلیہ اور حکومت میں قومی مصالحت آرڈیننس المعروف ’این آر او‘ کا تنازعہ سولہ دسمبر سنہ دو ہزار نو سے شروع ہوا جب سپریم کورٹ نے قومی احتساب بیورو کو حکم دیا کہ صدرِ مملکت آصف علی زرداری کے خلاف سوئزرلینڈ میں منی لانڈرنگ کا مقدمہ دوبارہ چلایا جائے۔

حکومت نے کہا کہ آئین کے مطابق صدرِ پاکستان کو ملک کے اندر اور باہر فوجداری مقدمات میں استثنیٰ حاصل ہے لہٰذا ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوسکتی۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’بینظیر بھٹو اب اس دنیا میں نہیں رہیں اس لیے ان کی قبر کا ٹرائل ہونے نہیں دیا جائے گا‘۔

لیکن بات بگڑتی گئی، حکومت اور عدلیہ میں تناؤ بڑھتا گیا اور عدالت کی جانب سے کئی بار مہلت کے باوجود سابق وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے یہ کہتے ہوئے خط لکھنے سے انکار کیا کہ وہ آئین کے خلاف کوئی قدم نہیں اٹھا سکتے۔

سپریم کورٹ نے صدرِ پاکستان کے خلاف سوئس حکام کو خط نہ لکھنے کے جرم میں پاکستان کی تاریخ کے پہلے متفقّہ طور پر منتخب وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کو جنوری سنہ دو ہزار بارہ میں توہین عدالت کا نوٹس بھیجا اور طلب کیا۔

دو فروری کو عدالت نے یوسف رضا گیلانی پر فرد جرم عائد کیا اور انہوں نے عدلیہ کی بحالی کی تحریک کے روح رواں اعتزاز احسن کو اپنا وکیل کرلیا لیکن اعتزاز احسن کے دلائل عدالت نے نہیں مانے اور چھبیس اپریل کو توہین عدالت کے کیس میں یوسف رضا گیلانی کو تیس سیکنڈ کی علامتی سزا سنائی۔

وزیراعظم کے عہدے سے یوسف رضا گیلانی علیحدہ نہیں ہوئے اور کہا کہ عدالتی حکم سے ان کی نا اہلی کا سوال نہیں اٹھتا۔ سپریم کورٹ نے آٹھ مئی کو وزیراعظم کی سزا کا تفصیلی حکم جاری کیا لیکن اس میں بھی ان کی نا اہلی کے معاملے کی وضاحت نہیں کی۔

اس دوران سپیکر قومی اسمبلی کو یوسف رضا گیلانی کی نا اہلی کا ریفرنس بھیجا گیا اور انہوں نے چوبیس مئی کو رولنگ دی کہ وزیراعظم کے عہدے سے یوسف رصا گیلانی نا اہل نہیں ہوتے۔

اٹھائیس مئی کو مسلم لیگ (ن) اور دیگر نے سپیکر کی رولنگ کو سپریم کورٹ میں چیلینج کردیا۔

انیس جون کو سپریم کورٹ نے سپیکر کی رولنگ کو غیر قانونی قرار دے کر وزیراعظم کے عہدے سے یوسف رضا گیلانی کو چھبیس اپریل سے نا اہل قرار دے دیا۔

صدر نے نئے وزیراعظم کے انتخاب کے عمل کا اعلان کیا اور بائیس جون کو راجہ پرویز اشرف نئے وزیراعظم منتخب ہوگئے۔

سپریم کورٹ نے ستائیس جون کو اٹارنی جنرل سے کہا کہ وہ نئے وزیراعظم سے پوچھ کر بتائیں کہ ان کا صدرِ مملکت کے خلاف سوئس حکام کو مقدمات کھولنے کے بارے میں خط لکھنے کے متعلق کیا موقف ہے؟

چوبیس جولائی کو حکومت نے سپریم کورٹ میں جواب داخل کیا کہ سوئس حکام کو خط نہیں لکھا جاسکتا۔ سپریم کورٹ نے آٹھ اگست کو وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کو توہین عدالت کے مقدمے میں اظہار وجوہ کا نوٹس جاری کردیا۔

ستائیس اگست کو وزیراعظم راجہ پرویز اشرف سپریم کورٹ میں پیش ہوئے اور عدالت سے سوئس حکام کو خط لکھنے کے لیے مشاورت کی خاطر وقت مانگا۔ عدالت نے اٹھارہ ستمبر تک انہیں مہلت دی۔ اٹھارہ ستمبر کو وزیراعظم راجہ پرویز اشرف دوسری بار سپریم کورٹ کے سامنے پیش ہوئے اور پھر مہلت مانگی ہے اور عدالت نے انہیں پچیس سمتمبر تک مہلت دی ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔