بارشوں سے تباہی اندازے سے زیادہ ہوئی

آخری وقت اشاعت:  منگل 18 ستمبر 2012 ,‭ 07:18 GMT 12:18 PST

صوبہ سندھ میں گزشتہ سال بھی طوفانی بارشوں کے نتیجے میں لاکھوں افراد متاثر ہوئے تھے

پاکستان کے صوبہ سندھ اور بلوچستان میں حکام کا کہنا ہے کہ حالیہ بارشوں سے ابتدائی اندازوں سے زیادہ نقصان ہوا ہے۔

سندھ کی صوبائی ڈیزاسٹر مینیجمنٹ اتھارٹی کے مطابق حالیہ بارشوں سے ایک سو بتیس افراد ہلاک اور ساڑھے چار سو کے قریب زخمی ہوئے ہیں۔

حکام کے مطابق بارشوں اور سیلابی ریلوں کے نتیجے میں تیرہ لاکھ سے زائد افراد متاثر ہوئے ہیں۔

دوسری جانب بارش سے متاثرہ علاقوں میں احتجاجی مظاہرے بھی کیے گئے ہیں۔

صوبہ سندھ کے شہر کندھ کوٹ میں پیر کے روز بارشوں کے متاثرین نے سندھ بلوچستان روڈ پر کئی مقامات پر ٹائروں کو نذر آتش کر کے احتجاج کیا ہے، بڈانی کے مقام پر احتجاج کے دوران احتجاجی دھرنا بھی دیا گیا۔

مظاہرین کے رہنماء منور بھٹو نے بی بی سی کے نامہ نگار ریاض سہیل کو بتایا کہ انہیں خیمے، راشن یا ادویات کی ضرورت نہیں ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ ان کے علاقے سے پانی کی نکاسی کی جائے مگر ان کی یہ بات کوئی سننے کے لیے تیار نہیں۔

انہوں نے الزاام عائد کیا کہ مقامی زمیندار کی زمین بچانے کے لیے پانی کا رخ بڈانی کی طرف کر دیا گیا۔

کندھ کوٹ کے بائی پاس روڈ پر کئی لوگ کھلے آسمان تلے بیٹھے ہوئے ہیں۔

مسمات کونج نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کی تمام جمع پونجی پانی میں بہہ گئی ہے، اناج، کپڑے، بستر، بچیوں کا جہیز سمیت کچھ بھی نہیں بچا ہے۔

بقول ان کے ندی نالوں سے پانی بھی آ رہا تھا اور بارش بھی جاری رہی، اب تو ان کے پاس کھانے کے لیے بھی کچھ نہیں ہے۔

صوبائی مشیر برائے محکمۂ آفات اور بحالی حلیم عادل شیخ بھی اس احتجاج کے دوران کندھ کوٹ میں موجود تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ انہیں رپورٹ دی گئی تھی کہ یہاں دس ہزار خیمے اور بیس ہزار کے قریب راشن کے تھیلوں کی ضرورت ہے مگر یہاں آ کر پتہ چلا ہے کہ متاثرہ افراد کی تعداد دو لاکھ پچاس ہزار کے قریب ہے۔

ان کے مطابق جیسے جیسے بلوچستان کے پہاڑوں سے پانی آ رہا ہے، اس سے متاثرہ علاقے اور متاثرین کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے لیکن حکومت کی جانب سے امداد کم اور ضرورت زیادہ ہے۔

انہوں نے بتایا کہ کندھ کوٹ کے علاوہ، کشمور، جیکب آباد، شکارپور اور گھوٹکی بھی بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔

صوبہ سندھ کو دو ہزار دس سے سیلاب اور شدید بارشوں کا سامنا ہے لیکن وقت کے ساتھ غیر سرکاری اداروں کے کردار میں واضح کمی نظر آئی ہے۔

صوبائی مشیر حلیم عادل کا دعویٰ تھا کہ انہیں متاثرہ علاقوں میں غیر سرکاری اداروں کا کوئی کردار نظر نہیں آیا اور اقوام متحدہ کو تو اپیل کی ضرورت ہوتی ہے مگر دیگر امدادی اداروں کو تو خود سامنے آنا چاہیے۔

’عام حالات میں ہر ہفتے دو تین تنظیمیں آجاتی ہیں کہ تربیت کرتے ہیں، ملاقات کر لیتے ہیں، مگر اس صورتحال میں ان میں سے کوئی نظر نہیں آ رہا ہے۔ ان تربیتی پروگرامز اور دوروں سے لوگوں کا پیٹ نہیں بھرتا۔‘

بارش کے پانی کے باعث سندھ اور بلوچستان کا زمینی رابطہ گزشتہ چھ روز سے منقطع ہے کئی جگہوں سے پانی سڑک بہا کر لے گیا ہے۔

حالیہ بارشوں سے بلوچستان کے جعفرآباد اور ڈیرہ الہیار کے علاقے شدید متاثر ہوئے ہیں جہاں پاکستان فوج کی جانب سے بھی امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔ صوبائی حکومت کے مطابق نصیر آباد اور جعفرآباد میں چھ لاکھ افراد محصور ہو کر رہ گئے ہیں۔

کمشنر نصیر آباد اکبر ترین کا کہنا ہے کہ دونوں اضلاع میں نوے فیصد لوگ متاثر ہیں۔کشتیوں اور ہیلی کاپٹر کے ذریعے امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔

صوبہ پنجاب کے جنوبی اضلاع ڈیرہ غازی خان اور راجن پور میں پانی کی سطح میں کمی ہو رہی ہے تاہم محکمۂ موسمیات کا کہنا ہے کہ آئندہ چوبیس گھنٹوں میں پنجاب کے مختلف علاقوں میں بارش کا امکان ہے جس کے باعث دریائے چناب، جہلم اور راوی میں سیلابی صورتحال ہو سکتی ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔