دوہری شہریت رکھنے والے تمام اراکینِ اسمبلی نااہل

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 20 ستمبر 2012 ,‭ 06:20 GMT 11:20 PST

عدالت نے الیکشن کمیشن سے کہا ہے کہ وہ تمام اراکین پارلیمینٹ سے دہری شہریت نہ رکھنے دوبارہ حلف لے

پاکستان کی سپریم کورٹ نے دوہری شہریت رکھنے والے قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے گیارہ ارکان کو نااہل قرار دیتے ہوئے ان سے تمام مراعات اور تنخواہیں واپس لینے کا حکم دیا ہے۔

عدالت نے کہا ہے کہ ان ارکان کے علاوہ وزیرِ داخلہ رحمان ملک بھی دو ہزار آٹھ کے بیانِ حلفی میں غلط بیانی کرنے کی وجہ سے امین نہیں رہے اور آئین کی رو سے ایسا شخص رکنِ پارلیمان بننے کا اہل نہیں رہتا۔

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے جمعرات کو اس معاملے سے متعلق دائر درخواستوں پر فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ آئین کے آرٹیکل باسٹھ اور تریسٹھ کی زد میں آنے والا فرد الیکشن میں حصہ لینے کا اہل نہیں ہوتا۔

عدالت نے الیکشن کمیشن سے کہا ہے کہ وہ تمام اراکین پارلیمینٹ سے دہری شہریت نہ رکھنے دوبارہ حلف لے۔

عدالتی فیصلے کے تحت جن ارکان کو نااہل قرار دیا گیا ہے ان میں فرح ناز اصفہانی، فرحت محمود خان، نادیہ گبول ، زاہد اقبال، اشرف چوہان، وسیم قادر ، احمد علی شاہ ، ندیم خادم، جمیل ملک، محمد اخلاق اور آمنہ بٹرشامل ہیں۔

فیصلے سے متاثر ہونے والے اراکینِ اسمبلی کا تعلق حکمران جماعت پیپلز پارٹی، اس کی اتحادی جماعت ایم کیو ایم اور اپوزیشن کی بڑی جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) سے ہے۔

ہمارے نامہ نگار کے مطابق وزیرِ داخلہ رحمان ملک کے بارے میں عدالت نے کہا ہے کہ انہوں نے دو ہزار آٹھ میں جمع کروائے جانے والے بیانِ حلفی میں غلط بیانی کی تھی اس لیے وہ امین نہیں رہے اور آئین کے آرٹیکل تریسٹھ پی کے تحت ایسا شخص رکنِ اسمبلی بننے کا اہل نہیں۔

یہ چیئرمین سینیٹ پر ہے کہ وہ رحمان ملک سے متعلق فیصلہ کب کرتے ہیں: وکیل رحمان ملک

سپریم کورٹ نے رحمان ملک کے دو ہزار آٹھ میں بطور سینیٹر انتخاب کوغیر قانونی قرار دیا ہے جبکہ اس سال مئی میں ان کے دوبارہ بطور سینیٹر انتخاب کے خلاف ریفرنس چیئرمین سینیٹ کو بجھوانے کا حکم دیا ہے۔

عدالت نے نااہل ہونے والے ارکانِ پارلیمان کو دو ہفتے میں مالی فوائد اور دیگر مراعات واپس کرنے کا حکم بھی دیا ہے جبکہ الیکشن کمیشن سے کہا گیا ہے کہ وہ ان ارکان کے خلاف تعزیراتِ پاکستان کی فوجداری دفعات کے تحت قانونی کارروائی کرے۔

فیصلے کے بعد عدالت کے باہر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے رحمان ملک کا کہنا تھا کہ وہ عدالتی فیصلے کا احترام کرتے ہیں اور اگرچہ وہ فیصلے کے وقت عدالت میں موجود نہیں تھے لیکن انہیں پتہ چلا ہے کہ عدالت نے ان کا کیس دیگر ارکان کے معاملے سے الگ کر دیا ہے۔

وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک نےکہا کہ وہ مکمل طور پر ہر طرح سے پاکستانی ہیں۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ چیئرمین سینیٹ کے سامنے بھر پور دفاع کریں گے۔

اس موقع پر ان کے وکیل انور منصور نے بتایا کہ عدالت نے وزیرِ داخلہ کا معاملہ دیگر ارکان سے الگ کیا ہے اور وہ آج بھی سینیٹ کے رکن اور وزیر ہیں اور انہیں ’ڈی نوٹیفائی‘ کرنے کا حکم نہیں آیا ہے۔

انور منصور نے کہا کہ یہ چیئرمین سینیٹ پر ہے کہ وہ رحمان ملک سے متعلق فیصلہ کب کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ عدالت نے رحمان ملک کے نئے انتخاب کو کالعدم قرار نہیں دیا ہے اور الیکشن کمیشن کے چیئرمین کو اس سلسلے میں قانون کے مطابق کارروائی کرنے کو کہا گیا ہے۔

انور منصور نے کہا کہ رحمان ملک کے پچھلے الیکشن کے بارے میں عدالت نے ان کے بیانِ حلفی کو غلط قرار دیا ہے اور یہ دو الگ الگ باتیں ہیں۔

۔انہوں نے کہاکہ رحمان ملک تاحال وزیرداخلہ اور سینیٹرہیں

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔