دوہری شہریت مقدمہ، درخواست گزار گرفتار

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 20 ستمبر 2012 ,‭ 16:47 GMT 21:47 PST

کراچی پولیس نے ارکان پارلمنٹ کی دوہری شہریت کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کرنے والوں میں سے ایک کوبھتہ خوری کے الزام میں گرفتار کیا ہے

کراچی پولیس نے ارکان پارلیمنٹ کی دوہری شہریت کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کرنے والوں میں سے ایک کو جھگڑے اور بھتہ خوری کے الزام میں گرفتار کیا ہے۔

ان کی درخواست پر جمعرات کو پاکستان کی سپریم کورٹ نے گیارہ اراکین پارلیمان کو دوہری شہریت کی بنیاد پر پارلیمان کے لیے نااہل قرار دیا ہے۔

کراچی شرقی کے علاقے شاہراہ فیصل تھانے کے ایس ایچ او انسپکٹر بشیر نے بی بی سی کو بتایا کہ پولیس محمود اختر نقوی نامی ملزم کو اسلام آباد سے گرفتار کر کے لائی ہے۔

پولیس افسر کے مطابق محمود اختر نقوی پر جھگڑے کے دوران ایک شخص کی ناک توڑ دینے کا الزام ہے۔

رابطہ کرنے پر اس علاقے میں پولیس کے ڈی آئی جی شاہد حیات نے بتایا کہ اس شخص کو دفعہ تین سو سینتیس اور پانچ سو چھ بی کے تحت گرفتار کیا گیا ہے۔ ان کے بقول ملزم کے خلاف عدالت میں مقدمات زیر سماعت تھے اور وہ ان میں پیش نہیں ہوئے لہٰذا عدالت کے حکم پر انہیں گرفتار کیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ سپریم کورٹ نے جمعرات کو دوہری شہریت رکھنے والے قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے گیارہ ارکان کو نااہل قرار دیتے ہوئے ان سے تمام مراعات اور تنخواہیں واپس لینے کا حکم دیا۔

عدالت نے کہا ہے کہ ان ارکان کے علاوہ وزیرِ داخلہ رحمان ملک بھی دو ہزار آٹھ کے بیانِ حلفی میں غلط بیانی کرنے کی وجہ سے امین نہیں رہے اور آئین کی رو سے ایسا شخص رکنِ پارلیمان بننے کا اہل نہیں رہتا۔

عدالتی فیصلے کے تحت جن ارکان کو نااہل قرار دیا گیا ہے ان میں فرح ناز اصفہانی، فرحت محمود خان، نادیہ گبول ، زاہد اقبال، اشرف چوہان، وسیم قادر، احمد علی شاہ ، ندیم خادم، جمیل ملک، محمد اخلاق اور آمنہ بٹرشامل ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔