’ہولوکاسٹ سے انکار جرم تو محترم ہستیوں کی تضحیک بھی‘

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 21 ستمبر 2012 ,‭ 09:11 GMT 14:11 PST

پاکستان کے وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے عالمی برادری سے توہین مذہب کو قابلِ نفرت اور قابلِ تعزیر جرم قرار دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

اسلام آباد میں سیکرٹیریٹ میں ’یومِ عشقِ رسول‘ کے موقع پر ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ عالمی امن کو درپش خطرات کے پیش نظر ایسے قوانین تیار کرے۔

’ہم اقوام عالم کے ساتھ مل کر ایسا حل تلاش کرنا چاہتے ہیں جسے عالمی سطح پر حمایت حاصل ہو اور مستقبل میں توہینِ رسالت کو روکا جا سکے۔’

ان کا کہنا تھا کہ توہین رسالت پر مبنی امریکی ویڈیو سے مسلمانوں میں غم و غصہ پیدا ہوا ہے۔

’یہ آزادی اظہار نہیں ہے۔ یہ نفرت اور دوغلے معیار پر مبنی ہے۔ اگر ہولوکاسٹ سے انکار جرم ہے تو پھر محترم ترین ہستیوں کی تضحیک بھی کسی جرم سے کم نہیں ہے۔ پیغمبر اسلام پر حملہ ڈیڑھ ارب مسلمانوں کے ایمان پر حملہ ہے۔‘

کانفرنس میں سیاستدانوں، سفارت کاروں اور علماء کے علاوہ بڑی تعداد میں سرکاری اہلکاروں نے شرکت کی۔ وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ پیغمبرِ اسلام پر مکمل عزت و تکریم کے بغیر ایمان ممکن نہیں۔

راجہ پرویز اشرف نے عالمی برادری میں ان ممالک کی تعریف کی جنہوں نے مسلمانوں کے ساتھ مل کر اس ویڈیو کی مذمت کی۔

انہوں نے قوم سے پرامن رہنے کی اپیل کی۔ ان کا موقف تھا کہ انہیں کسی غیرملکی سفارت خانے کو نقصان پہنچانے کا کوئی حق نہیں۔ انہوں نے اس بابت علماء سے اپنا کردار ادا کرنے کے لیے کہا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔