توہینِ آمیز فلم کے خلاف مظاہرے

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 22 ستمبر 2012 ,‭ 19:46 GMT 00:46 PST

پاکستان میں جمعے کو یوم عشق رسول منایا گیا اور پیغمبرِ اسلام کے بارے میں امریکہ میں بنائی گئی توہین آمیز فلم کے خلاف پاکستان کے مختلف شہروں میں پرتشدد احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔ ان شہروں میں دن بھر کیا صورتحال رہی، ہمارے نامہ نگاروں کا آنکھوں دیکھا احوال پیش ہے۔

اسلام آباد

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق پرتشدد احتجاجی مظاہروں میں کالعدم مذہبی جماعتوں کے کارکنوں کی ایک بڑی تعداد شریک تھی۔مظاہرین کسی دوسرے شہر سے نہیں بلکہ اسلام آباد کے مختلف سیکٹروں سے آئے تھے اور انھوں نے اپنی اپنی جماعتوں کے پرچم اٹھا رکھے تھے۔

اس مظاہرے میں اسلام آباد کے سیکٹر جی سکس کے رہائشی محمد شفیق کے مطابق جمعرات کو پولیس نے طلباء پر تشدد کیا تھا جس کے احتجاج میں وہ آج کے مظاہرے میں شریک ہیں۔

ڈپلومیٹک انکلیو کی جانب جانے والے مظاہرین پہلے وہاں پر تعینات پولیس اہلکاروں کے ساتھ خوش گپیوں میں مصروف رہے اور انہیں اس بات پر آمادہ کرتے رہے کہ وہ ایک طرف ہوجائیں تاکہ انہیں امریکی سفارت خانے تک جانے میں آسانی رہے۔

پولیس کی جانب سے بنائے گئے سکیورٹی پلان کے مطابق ڈپلومیٹک انکلیو کی جانب جانے والے راستوں میں ہراول دستے کاکردار ان پولیس اہلکاروں کو دیا گیا تھا کہ جو حال ہی میں اسلام آباد پولیس میں بھرتی ہوئے اور ابھی پولیس لائنز میں تربیت حاصل کر رہے ہیں۔

تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کم تعداد میں بچ جانے والے اپنے کارکنوں کے ساتھ آبپارہ چوک میں ہی خطاب کرنے کے بعد چلتے بنے۔ انہوں نے دیگر جماعتوں کے برعکس ڈپلومیٹک انکلیو کا رخ نہیں کیا۔

اسلام آباد سے ہی نامہ نگار نوشین عباس کے مطابق مظاہرین کو روکنے کے لیے تعینات کچھ پولیس اہلکاروں کے پاس حفاظتی جیکٹس اور ہلمٹ نہیں تھے اور ایک موقع پر چند پولیس اہلکاروں نے ان سے درخواست کی کہ وہ اپنی حفاظتی جیکٹ ان کو دے دیں۔

جیسے ہی مظاہرین ڈپلومیٹک انکلیو کی جانب بڑھنا شروع ہوئے تو پولیس اہلکاروں نے ان پر آنسو گیس کے گولے داغے جس سے فضا آنسوگیس سے بھر گئی۔

اس موقع پر پولیس اہلکار اور مظاہرے کی رپورٹنگ کرنے والے صحافی آنسو گیس سے بچنے کے لیے ایک دوسرے کو پانی اور منہ ڈھانپنے کے لیے کپٹرے دیتے نظر آئے۔

پشاور

پشاور سے نامہ نگار رفعت اللہ اورکزئی کے مطابق پشاور شہر میں حساس مقامات کے ارد گرد سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے لیکن شہر کی یونیورسٹی روڑ پر مظاہرین کو کھلی چھوٹ دی گئی تھی۔

یونیورسٹی روڑ پر پولیس اہلکار گروپوں کی شکل میں سڑک کنارے کھڑے رہے اور مظاہرین کو روکنے کی کوشش نہیں کی۔

نامہ نگار کے مطابق مظاہرین گروپوں کی شکل میں اس سڑک پر آتے اور تھوڑ پھوڑ کرنے کے بعد واپس چلے جاتے۔

مظاہرین نے اس سڑک پر اپنے سامنے نظر آنے والی ہر چیز کو تہس نہس کر دیا۔ دکانوں کے شیشے توڑ ڈالے اور سائن بورڈز کو اکھاڑ کر پھینک دیا۔

ہمارے نامہ نگار نے ان واقعات کی عکس بندی کے لیے کیمرا نکالا تو مظاہرین کا ہجوم ان کے ارد گرد جمع ہو گیا جس کی وجہ سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

انہوں نے ایک موقع پر پولیس اہلکاروں سے مدد کی درخواست کی تو ان میں سے ایک پولیس اہلکار نے کہا کہ آپ کو معلوم نہیں کہ حالات کتنے خراب ہیں، ہم ان کو روک نہیں سکتے اس لیے براہ مہربانی آپ یہاں سے واپس چلے جائیں۔

لاہور

لاہور سے نامہ نگار شمائلہ جعفری کے بقول شہر کے مختلف علاقوں میں پرامن احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔

لاہور میں امریکی قونصل خانے کے اطراف میں سکیورٹی کے سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے تھے اور دو حفاظتی حصار بنائے گئے تھے۔

نماز جمعہ کے بعد شروع ہونے والے مظاہرے پرامن تھے لیکن امریکی قونصل خانے کے قریب کوئی ساڑھے چار بجے کے قریب پرتشدد مظاہرہ شروع ہو گیا۔

مظاہرین پہلے حفاظتی حصار کو توڑتے ہوئے امریکی قونصل خانے کی جانب بڑھنا شروع ہوئے۔ امریکی قونصل خانے کے سامنے کنٹینرز رکھے گئے تھے تاہم مظاہرین ان کو پار کرنے میں کامیاب نہیں ہوئے۔

اس دوران قونصل خانے کے انتہائی قریب میں واقع مکانات کی چھتوں پر جانے میں کامیاب ہو گئے اور اس موقع پر پولیس نے مدد کے لیے نیم فوجی سکیورٹی فورس رینجرز کو طلب کیا، جنہوں نے کارروائی کرتے ہوئے ان کو چھتوں سے اتارا۔

کراچی

کراچی سے نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق وزیراعلیٰ ہاؤس کے قریب مظاہرین نے ایک نجی ٹیلی ویژن چینل کے کیمرا مین سے کیمرا چھین کر توڑ ڈالا، اس کے بعد وہاں کوریج کے موجود دیگر ٹی وی چینلز کے کیمرا مین فوراً وہاں سے چلے گئے۔

ایم اے جناح روڑ پر مظاہرین نے سرکاری نیشنل بینک میں داخل ہو کر توڑ پھوڑ اور لوٹ مار کی۔ بینک سے باہر نکلتے وقت مظاہرین کے ہاتھوں میں کرنسی نوٹ تھے اور وہ ان کی تقسیم پر وہیں آپس میں الجھ پڑے۔

مظاہرین نے ایم اے جناح روڑ پر واقع شہر کے پانچ پرانے سینما گھروں کو نذر آتش کر دیا۔ ان میں نشاط سینما بھی شامل ہے جسے حال میں تزیئن آرائش کے بعد دوبارہ کھولا گیا تھا۔ اس طرح سے کراچی شہر میں اب پرانے اور مقبول سینما گھروں میں سے کوئی بھی باقی نہیں رہا اور جدید آبادیوں میں میں نئے تعمیر شدہ سینما گھر ہی بچے ہیں۔

بوٹ بیسن کے قریب پولیس نے مظاہرین کو روکنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا اور ایک موقع ایسا بھی آیا کہ پولیس کے پاس زیادہ دور تک جانے والے شیل ختم ہو گئے اور وہ دفاعی پوزیشن اختیار کرتے ہوئے کم فاصلے تک پہنچنے والے آنسو گیس کے گولے استعمال کرتی رہی۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔