’واپس تو بلا لیا مگر روزگار نہیں دیا‘

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 22 ستمبر 2012 ,‭ 09:21 GMT 14:21 PST
چترال

روزگار کی کمی کے سبب لوگ دوسرے ممالک کا رخ کر رہے ہیں۔

پاکستان کے سرحدی علاقے چترال سے افغانستان جا کر وہاں سکیورٹی اور دیگر اداروں میں روزگار حاصل کرنے والے نوجوانوں کو واپس وطن بلالیا گیاہے۔

حکام کے مطابق اب تک چونتیس میں سے چوبیس نوجوان چترال آچکے ہیں لیکن ان نوجوانوں کا کہنا ہے کہ انھیں یہاں کوئی روزگار فراہم نہیں گیا ہے۔

ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور بے روزگاری کی وجہ سے لوگ غیر ممالک میں روزگار کے لیے جاتے ہیں۔

افغانستان سے واپس آنے والے ایک نوجوان عبیدالرحمان نے بی بی سی اردو کے عزیز اللہ خان کو بتایا کہ وہ میٹرک میں پچھہتر فیصد نمبر لینے کے باوجود بے روزگار تھے ۔ انھوں نے پولیس اور بارڈر سیکیورٹی فورس کے علاوہ دیگر اداروں میں درخواستیں دے رکھی تھیں لیکن انھیں کوئی روزگار نہیں ملا جس وجہ سے وہ افغانستان چلے گئے تھے۔

عباد الرحمان نے بتایا کہ وہ نو بھائی اور ان کی دو بہنیں ہیں والد کلرک رہے اب ریٹائر ہو چکے ہیں، گھر میں کمانے والا کوئی نہیں ہے ۔ اس لیے انھوں نے افغانستان جانے کا فیصلہ کیا تھا جہاں انھیں اچھا روزگار مل گیا تھا اور انھیں ڈالرز میں تنخواہ مل رہی تھی۔

’ابتدا میں تو میں ترجمان کی حیثیت سے ایک سال تک غیر ملکیوں کے ساتھ کام کرتا رہا پھر اس کے بعد افغانستان میں سکیورٹی ادارے میں ملازم ہوگیا تھا اورگزارہ اچھا ہو رہا تھا‘۔

انھوں نے کہا کہ انھیں گھر سے اور علاقے سے کہا گیا کہ وہ واپس آجائیں یہاں چترال میں بارڈر سیکیورٹی فورس میں انھیں روزگار فراہم کر دیا جائے گا جس پر وہ واپس آئے ہیں لیکن اب تک تو کوئی نوکری نہیں دی گئی ہے۔

"بے روزگاری کی وجہ سے چترال سے لگ بھگ دو سو افراد افغانستان جا چکے ہیں لیکن ان میں صرف معدودے چند کو ہی وہاں سیکیورٹی اداروں میں روزگار مل گیا تھا باقی کا علم نہیں ہے کہ وہ کوئی کام کر رہے ہیں یا نہیں"

سماجی کارکن عبدالمجید

عبادالرحمان چترال کے علاقے بمبوریت سے تعلق رکھتے ہیں اور ان کے علاقے سے ہی زیادہ تر نوجوان افغانستان چلے گئے تھے۔ کالاش ویلی کے علاقے بمبوریت میں یونین کونسل ایون کے سابق ناظم اور سماجی کارکن عبدالمجید نے انھیں واپس بلانے میں اہم کردار ادا کیا ہے ۔

عبدالمجید قریشی نے بی بی سی کو بتایا کہ بے روزگاری کی وجہ سے چترال سے لگ بھگ دو سو افراد افغانستان جا چکے ہیں لیکن ان میں صرف معدودے چند کو ہی وہاں سکیورٹی اداروں میں روزگار مل گیا تھا باقی کا علم نہیں ہے کہ وہ کوئی کام کر رہے ہیں یا نہیں۔

انھوں نے کہا کہ کہ چترال میں بڑی تعداد میں تعلیم یافتہ نوجوان بے روزگار ہیں جنھیں پولیس اور سیکیورٹی اداروں میں روزگار فراہم کیا جا سکتا ہے لیکن اس علاقے کو مسلسل نظر انداز کیا گیا ہے اس لیے پیٹ کی آگ بجھانے کے لیے لوگ ہاتھ پیر تو ضرور مارتے ہیں اور دوسرے ممالک جانے کی کوشش کرتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’لوگ مختلف یورپی ممالک اور دور دراز علاقوں میں روزگار کے لیے چلے جاتے ہیں اور افغانستان بھی ہمارا پڑوسی دوست ملک ہے یہاں یہ لوگ روزگار کے لیے گئے تھے‘۔

اس بارے میں چترال کے ضلعی رابطہ افسر رحمت اللہ خان وزیر سِے رابطہ قائم کیا تو ان کا کہنا تھا کہ چترال سے کل چونتیس افراد افغانستان روزگار کے لیے چلے گئے تھے جن میں سے چودہ پہلے اور دس افراد گزشتہ ہفتے واپس آ چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ باقی دس افراد بھی جلد واپس آ جا ئیں گے۔

انھوں نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان وسیع سرحد ہے جہاں سیکیورٹی کے لیے کم افراد تعینات ہوتے ہیں اس لیے لوگ روز گار کے لیے ایک دوسرے کے ملک آتے جاتے رہتے ہیں۔

ان سے جب پوچھا کہ واپس آنے والے افراد کو کیا روز گار فراہم کیا جا رہا ہے تو ان کا کہنا تھا کہ جونہی ملازمت کے مواقع ہونگے تو انھیں جلد روزگار فراہم کر دیا جائے گا۔

اسی بارے میں

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔