بلور کا بیان مجرمانہ ہے: بشریٰ گوہر

آخری وقت اشاعت:  اتوار 23 ستمبر 2012 ,‭ 14:03 GMT 19:03 PST

عوامی نیشنل پارٹی کی رکن قومی اسمبلی بشریٰ گوہر نے وفاقی وزیر ریلوے اور اے این پی کے سینیئر رہنما حاجی غلام احمد بلور کے توہین آمیز فلم بنانے والے کے سر پر انعام کا اعلان کرنے کے بیان کو ’مجرمانہ‘ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ وزیر اعظم کو ان سے جواب طلب کرنا چاہیے۔

بشرا گوہر نے یہ بیان بی بی سی اردو سروس کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا۔ انہوں نے مزید کہا ’پارٹی ان کی مجرمانہ بیان کی توثیق نہیں کرتی اور یہ پارٹی کے ان لوگوں کا مذاق اڑانے کے برابر جنہوں نے طالبان کے خلاف اپنی لڑائی میں قربانیاں دی ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ غلام احمد بلور کا بیان تشدد پر اکسانے کے مترادف ہے اور پارٹی کی عدم تشدد کی پالیسی سے متصادم ہے۔

کلِک سنیے ایم این اے بشریٰ گوہر کی سیربین سے بات چیت

بشریٰ گوہر نے کہا کہ غلام احمد بلور نے انعام کی جو رقم دینے کا اعلان کیا ہے وہ نجی ٹی وی چینل اے آر وائے کے اس کیمرہ مین کے بچوں کو دی جانا چاہیے جس کو بلور صاحب کے سینما کے قریب گولی لگی۔ انہوں نے کہا کہ یہ رقم اس چرچ کی تعمیر پر خرچ کی جانی چاہیے جس کو مردان میں آگ لگا دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ ان لوگوں کو دی جانی چاہیے جو طالبان کے حملوں ہلاک ہوئے ہیں یا ان سکولوں کی تعمیر پر خرچ کی جانی چاہیے جو طالبان نے تباہ کیے ہیں۔

بشریٰ گوہر نے پارٹی کی طرف سے بشیر احمد بلور کے بیان جس کو انھوں نے انتہائی غیر ذمہ دارانہ قرار دیا پر کوئی کارروائی کیے جانے کے امکان پر سوال کے جواب میں کہا کہ پارٹی کے صدر اسفندیار ولی ملک سے باہر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی کے قائمقام صدر یقیناً پارٹی کا اجلاس طلب کریں گے اور ان کے خلاف کوئی کارروائی کی جائے گی۔

وزیر اعظم کی طرف سے مذمت اور غلام احمد بلور کے خلاف کارروائی پر انہوں نے کہا کہ وفاقی وزیر چاہیے وہ کسی بھی جماعت سے ہو اس سے جوابدہی کی جانی چاہیے۔ انہوں نے کہا وزیر اعظم کو کسی سے بات کرنے کی ضرورت نہیں ہے یہ غیر ذمہ دارانہ بیان ان کی کابینہ کے ایک وزیر نے دیا ہے اور انھیں چاہیے کہ وہ خود جوابدہی کریں۔

ایک اور سوال پر انہوں نے کہا کہ اتنی بڑی رقم کا اعلان تو ایک ’کرمنل‘ یا مجرم ہی کر سکتا ہے اور یہ بیان مجرمانہ ہے۔

دوسری جانب وفاقی وزیر برائے ریلوے غلام احمد بلور نے ہمارے نامہ نگار سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے یہ بات کی ہے اور اب بھی وہ اس پر قائم ہیں۔

’میں سمجھتا ہوں کہ جو میں نے بات کی ہے چلیں غلط صحیح لیکن کوئی مجھے یہ بتائے کہ اس کو روکنے کا کوئی دوسرا طریقہ ہے۔ ہر دو مہینے بعد ایسی بات ہو جاتی ہے۔ اگر کوئی دوسرا طریقہ ہے تو بتا دے ہم اس پر بھی چل پڑیں گے۔ میں دو تین دن اس بات پر سوچتا رہا اور اس کے بعد میں نے یہ بات کی۔‘

ان سے جب یہ پوچھا گیا کہ انہوں نے طالبان اور القاعدہ سے بھی فلم بنانے والے کو قتل کرنے کا کہا ہے تو وفاقی وزیر نے کہا ’وہ یہاں بے گناہ افراد کو مار رہے ہیں اور وہ اس کارِ خیر میں حصہ لیں تو اچھا ہو گا۔‘

انہوں نے مزید کہا ’میں مسلمانوں سے اپیل کرتا ہوں کہ جو بھی یہ کام کرے (قتل کرے) اس کو سونے اور ڈالروں سے لاد دیں۔‘

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔