نیشنل پارک سے درخت ہٹانے پر تنازع

آخری وقت اشاعت:  پير 24 ستمبر 2012 ,‭ 11:42 GMT 16:42 PST

نتھیاگلی کے درخت پہاڑوں کے ماتھے کا جھومر ہیں۔

موسم گرما میں جب بھی کبھی سرد پہاڑی علاقوں کا رخ کیا، ہر بار کم از کم ایک مرتبہ ڈونگہ گلی اور ایوبیہ کے درمیان چار کلومیٹر لمبے واکنگ ٹریک کا رخ ضرور کیا۔

قدرت کے حسن اور دلکشی کا بھرپور مظاہرہ یہاں دیکھنے کو ملتا ہے۔ نہ انسانی آبادی اور نہ ہی ٹریفک کا شور۔ انسان اپنے آپ کو قدرت کے بہت قریب محسوس کرتا ہے۔

نیشنل پارک قرار دیے جانے والے ان جنگلات میں سے یہ ٹریک پانی کی ایک پائپ لائن کے ساتھ بنایا گیا تھا۔ اس چار کلومیٹر کے پیدل سفر کے دوران سرسبز پہاڑوں، سر بہ فلک درختوں اور جنگلی حیات کو دیکھ کر احساس ہوتا ہے کہ یہ علاقہ کم از کم انسانی مداخلت سے مکمل طور پر محفوظ رہا ہے۔

راستے میں جگہ جگہ گرے ہوئے درخت بھی اس امر کی عکاسی کرتے ہیں کہ یہی’ان چھوئی‘ خوبصورتی ہے۔

بعض مقامات پر یہ درخت ٹریک کے اوپر گرے ہوئے ہیں لیکن ان سے نہ تو کسی سیاح کو کوئی خطرہ تھا نہ وہ راستے میں کوئی رکاوٹ بنے تھے۔بلکہ ہم جیسے تو وہاں دلچسپ انداز میں تصاویر بھی بناتے رہے ہیں۔ یہ یا تو اپنی عمر پوری ہونے، تیز ہواؤں یا پھر دیگر کئی قدرتی وجوہات کی بنا وقتاً فوقتاً گرتے رہے ہیں۔

اب اطلاع ہے کہ صوبہ خیبرپختونخوا کی حکومت نے محکمۂ جنگلات کو ایسے درخت ہٹانے کا حکم دیا ہے۔ خبر ہے کہ محکمۂ جنگلات کے اہلکاروں نے بیس ستمبر کو ان درختوں کو ہٹانا شروع کر دیا ہے۔

محکمۂ جنگلی حیات، خیبرپختونخوا، کے سابق چیف کنزرویٹو محمد ممتاز ملک نے بھی ایک بیان میں اسے غیرضروری اقدام قرار دیا ہے۔

ان کا موقف ہے کہ خیبرپختوخوا کے قوانین کے مطابق نیشنل پارک قرار دیے جانے والے علاقے سے کسی کو بھی زندہ یا مردہ پودے ہٹانے کی اجازت نہیں ہے۔

’یہ گرے ہوئے درخت پارک کے ماحول کا حصہ ہیں۔ یہ پرندوں کو گھونسلے اور خوراک مہیا کرتے ہیں اور توڑ پھوڑ کا شکار ہو کر ان کے اصل جزیات وہاں کی زمین کو طاقت مہیا کرتی ہیں۔ ان درختوں پر بسنے والے کیڑے مکوڑے بھی پرندوں کی خوراک بنتے ہیں اور ماحول کے اس سائیکل کا اہم حصہ ہیں۔‘

ایوبیہ نیشنل پارک کی دیکھ بھال انیس سو چوراسی سے محکمہ جنگلات کی ذمہ داری ہے۔ اسی سال اسے قومی پارک کا درجہ بھی دیا گیا تھا۔ کچھ لوگوں کے خیال میں یہی وجہ ہے کہ یہاں کے درخت ’ٹمبر مافیا‘سے بچ پائے ہیں۔

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔