’ڈرون اب کسی کو بھی نہیں بخشتا‘

آخری وقت اشاعت:  منگل 25 ستمبر 2012 ,‭ 13:24 GMT 18:24 PST

امریکی جاسوس طیاروں کے حملوں سے قبائلی رسم و رواج اور رہن سہن پر اثر پڑا ہے اور لوگ خوف کے باعث اجتماعات سے پرہیز کرتے ہیں۔

پاکستان کے قبائلی علاقے وزیرستان میں جاری امریکی جاسوس طیاروں کے حملوں کی وجہ سے قبائلی روایات اور مقامی لوگوں کی سماجی زندگی پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

مقامی افراد کے مطابق شمالی وزیرستان کے مختلف علاقوں میں آٹھ سے دس امریکی جاسوس طیارے ہر وقت فضا میں موجود رہتے ہیں جس کی وجہ سے علاقے میں قبائلی جرگوں کا انعقاد ، نمازِ جنازہ اور دیگر سماجی پروگرام متاثر ہوئے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ڈرون حملوں کی وجہ سے ایک عرصہ سے لوگ نمازِ جنازہ اور شادی بیاہ کے پروگراموں میں شرکت کرنے میں احتیاط برتنے لگے ہیں۔

مقامی لوگوں میں یہ خوف پایا جاتا ہے کہ اکثر اوقات نمازہ جنازہ اور شادی بیاہ کے پروگراموں میں کوئی نہ کوئی شدت پسند ضرور موجود ہوتا ہے جس کی وجہ سے ڈرون حملے کا خطرہ موجود رہتا ہے۔

شمالی وزیرستان کے تحصیل میرعلی میں مقامی باشندوں نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ دو تین سال پہلے انہیں ڈرون حملوں سے کسی قسم کا خوف محسوس نہیں ہوتا تھا لیکن جب سے مقامی طالبان کو نشانہ بنانا شروع کیا گیا ہے تب سے عام شہریوں میں ایک خوف کی فضاء موجود رہتی ہے۔

میرانشاہ میں موجود ایک مقامی صحافی ممتاز خان کا کہنا تھا کہ پہلے امریکی جاسوس طیاروں سے صرف غیر مُلکیوں کو نشانہ بنایا جاتا تھا لیکن اب ہر کسی کو مارا جاتا ہے۔

بی بی سی اردو کے نامہ نگار کے مطابق گزشتہ سال دتہ خیل میں ایک قومی جرگے پر امریکی ڈرون حملہ کیا گیا تھا جس کے بعد سے مقامی لوگوں میں شدید خوف وہراس پایا جاتا ہے اور اس کی وجہ سے قبائلی روایات بھی متاثر ہو رہی ہیں اور اب قبائلی افراد بہت کم ایک دوسرے کے غم و خوشی میں شریک ہوتے ہیں۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ پہلے امریکی جاسوس طیاروں سے کسی خاص ٹھکانے یا شدت پسندوں کی گاڑی پر حملے ہوتے تھے لیکن اب تو کسی موٹرسائیکل سوار کو یا اکیلے شخص کو بھی نہیں بخشا جاتا۔

والد ذہنی مریض بن گئے

"میرے والد سارا دن مکان کے سامنے واقع سیب کے باغ میں چہل قدمی کرتے رہتے ہیں اور ان کی نظرین آسمان پر موجود ڈرون طیاروں پر لگی رہتی ہیں۔جس طرف ڈرون طیارہ مڑتا ہے میرے والد بھی اسی طرف اپنی گردن موڑ لیتے ہیں۔"

وانا کا مقامی شخص

جنوبی وزیرستان کے صدر مقام وانا میں ایک مقامی شخص کا کہنا تھا کہ انہیں یہ معلوم نہیں کہ ڈرون حملوں میں کتنے عام شہری ہلاک ہو رہے ہیں لیکن ان کے والد ایک عرصے سے ڈرون کی خوفناک آواز کی وجہ سے بُہت پریشان رہتے ہیں اور ایک ذہنی مریض بن چکے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کے والد سارا دن مکان کے سامنے واقع سیب کے باغ میں چہل قدمی کرتے رہتے ہیں اور ان کی نظریں آسمان پر موجود ڈرون طیاروں پر لگی رہتی ہیں۔ ان کے مطابق ’جس طرف ڈرون طیارہ مڑتا ہے میرے والد بھی اسی طرف اپنی گردن موڑ لیتے ہیں‘۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ڈاکٹر نے معائنے کے بعد بتایا ہے کہ یہ صرف ان کے والد کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک بڑی تعداد میں لوگ اس طرح کے ذہنی مریض بن چکے ہیں۔

میرانشاہ کے ایک اور شہری سلیم خان نے بی بی سی کو بتایا کہ ڈرون حملوں کی وجہ سے عام شہری بُہت متاثر ہوئے ہیں اور حملوں کے خوف کی وجہ سے زیادہ لوگ ایک ساتھ جمع نہیں ہوتے۔

شمالی وزیرستان میں ڈرون حملوں سے دو سو سے زیادہ مکانات بھی مکمل طور پرتباہ ہو چکے ہیں۔

تاہم مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ پہلے ہونے والے ڈرون حملوں اور آج کل ہونے والے ڈرون حملوں میں ایک بُہت بڑا اور واضح فرق یہ ہے کہ پہلے ڈرون حملوں میں استعمال ہونے والے میزائل سے بڑے پیمانے پر تباہی ہوتی تھی لیکن آج کل اگر کسی مکان پر حملہ ہوتا ہے تو صرف ایک کمرہ ہی تباہ ہوجاتا ہے جبکہ مکان کے باقی حصوں کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا۔

مقامی لوگوں کے مطابق تازہ حملوں سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ڈرون حملوں میں استعمال ہونے والے میزائلوں کے سائز میں کمی گئی ہے یا ان میں استعمال ہونے والے گولہ بارود کی مقدار کم کی گئی ہے۔

واضح رہے کہ قبائلی علاقوں میں دو ہزار چار سے شدت پسندوں کے خلاف امریکی جاسوس طیاروں کے حملے شروع ہوئے تھے جس میں اس وقت صرف غیر مُلکی یا القاعدہ کے لوگوں کو نشانہ بنایا جاتا تھا لیکن اب گزشتہ ایک عرصے سے مقامی طالبان کو بھی مارا جا رہا ہے۔

اسی بارے میں

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔