آزادئِ اظہار اور ذمہ دارانہ رویے؟

آخری وقت اشاعت:  بدھ 26 ستمبر 2012 ,‭ 23:00 GMT 04:00 PST

جمعہ کو پوری کی پوری قوم ایک ہیجان انگیز کیفیت میں مبتلا رہی وہ لوگ بھی جو پتھر اور ڈنڈے اٹھائے ناموس رسالت کے نام پرگلیوں محلوں اور شاہراوں پر دنددناتے پھر رہے تھے اور وہ بھی جو گھر بیٹھے اپنی ٹیلی ویژن سکرینوں پر اس مذہبی بربریت اور جنون کا نظارہ کر رہے تھے ـ

جب سے اسلام مخالف فلم منظر عام پر آئی ہے ایک مرتبہ پھر دنیا بھر میں آزادی اظہار کے موضوع پر ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے ـ پاکستان جیسے ترقی پذیر معاشروں میں تو خاص طور پر یہ آزادی اظہار ہی ہے جس کے باعث عوام الناس کو دوسرے بہت سے حقوق اور آزادیاں میسر ہوئیں ـ جمہوریت بحال ہوئی اور کاروبار حکومت میں قدرے شفافیت آئی ـ لیکن اس کے باوجود اس ملک میں ہونے والے ہر اہم واقعےکی طرح جمعہ کو یوم عشق رسول کے موقعے پر ہونے والے تشدد کے واقعات میں ایک مرتبہ پھر ذرائع ابلاغ خاص طور پر الیکڑانک میڈیا کے کردار پر انگلیاں اٹھائی جا رہی ہیں ـ

میڈیا کی کارکردگی پر نظر رکھنے والے ادارے انٹرمیڈیا کی ڈائریکٹر صدف بیگ کہتی ہیں کہ خبر کی دنیا میں واقعات کی اہمیت کو جانچنے کے پیمانے کے مطابق یوم عشق رسول کی ’نیوز ویلیو‘ یا خبریت بہت زیادہ تھی اس لیے اس دن کے واقعات کو تفصیلاً نشر نہ کرنا کسی بھی چینل کے لیے ممکن نہیں تھا ـ تاہم جس طرح سے ان واقعات کو پیش کیا گیا اس میں پیشہ وارانہ لحاظ سے کئی جھول تھے۔ بہت سے رپورٹر اور اینکرز نے جو زبان استعمال کی اس سے اس تاثرکو تقویت ملی کہ وہ تشدد کو ابھارنے کی کوشیش کر رہے ہیں بلکہ اس کی توجہیہ پیش کرنے کی کوشیش کررہے ہیں۔ صدف کے مطابق میڈیا کی کوریج میں توازن کی بھی کمی رہی۔ بہت سے مقامات پر ہونے والے پرامن مظاہروں کو ٹی وی چینلز نے اہمیت نہیں دی تاہم یہ کہنا کہ یہ تمام تشدد ذرائع ابلاغ کی وجہ سے ہوا یقیناً مبالغہ آرائی ہے ـ

ابلاغیات کے استاد ڈاکٹر مجاہد منصوری کے مطابق اس قدر غصے کی فضا میں لوگوں کا احتجاج کے لیے ایک دوسرے کی تقلید کرنا ہماری سماجی نفسیات کا حصہ ہے۔ ایسی حساس صورتحال میں جس طرح پر تشدد مظاہروں کو رپورٹ کیا گیا اس سے حالات مزید بگڑے اور عوامی غصہ ابل کر سامنے آیا۔ مجاہد منصوری کہتے ہیں ہمارا میڈیا آج جتنا آزاد ہے اتنی ہی اس میں پیشہ وارانہ تربیت کی کمی ہے۔ جمعے کے واقعات سے سبق یہ ملتا ہے کہ حادثوں اور دہشتگردی کے واقعات کی رپورٹنگ کی طرح مذہب اور عوامی حساسیت کے دوسرے معاملات کی کوریج کے لیے بھی میڈیا کو اپنی سمت اور ضابطوں کا تعین کرنا ہوگا۔

ماہر نفسیات پروفیسر ریاض بھٹی کا خیال ہے کہ یوم عشق رسول کے موقعے پر مظاہروں کی لائیو کوریج نے عوام کے جذبات کو بھڑکانے اور تشدد کو ہوا دینے میں اہم کردار ادا کیا۔ ڈاکٹر ریاض کے مطابق انسانی ذہن اس طرح کے مناظر کے اثرات بہت تیزی سے قبول کرتا ہے اور جمعے کے روز بھی یہی ہوا کہ پشاور کے سنیما گھروں سے شروع ہونے والی آگ نے شام تک پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ جبکہ بہت سے لوگ مظاہروں کی مسلسل کوریج سے ذہنی کوفت اور دباو کا شکار رہے۔ سمجھداری اور ذمےداری کا تقاضا یہ تھا کہ ایسے مناظر مسلسل دکھانے سے گریز کیا جاتا اور انھیں ایڈٹ کر کے دکھایا جاتا۔

تاہم کچھ لوگوں کی رائے یہ بھی ہے کہ یوم عشق رسول کے موقعے پر ہونے والے ہنگاموں کی کوریج نے مذہب کے نام پر لوگوں کے جذبات بھڑکانے والوں کے اصلی چہروں کو بے نقاب کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ ذرائع ابلاغ تو محض آئینہ ہیں اور آئینہ تو وہی عکس دکھاتا ہے جو اس کے سامنے ہو۔ اور اگر عکس ہی اتنا بھیانک ہے تو آئینے کا کیا قصور ۔

تاہم اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ آزادیاں انسانوں اور اداروں پر ذمےداریاں بھی ڈالتی ہیں اور توقع یہی کی جاسکتی ہے کہ صحافی اور میڈیا مالکان اس بحث کو باہمی طور پر مثبت انداز میں آگے بڑھانے کی کوشیش کریں گے اورمستقبل میں اس طرح کے مواقعوں پر خود اپنی حدود کا تعین کرنے کے لیے مشاورت کا عمل شروع کریں گے تاکہ ایسی صورتحال میں جانی نقصان کے اندیشے کو کم سے کم کیا جاسکے۔

میڈیا کے حوالے سے جمعے کو ہونے والے واقعات کا ایک پہلو اور بھی ہے اور وہ یہ کہ ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کے چکر میں اس طرح کے واقعات کی کوریج کرنے والوں کی جانوں کو کس حد تک داؤ پر لگایا جاسکتا ہے۔ کیا میڈیا کے اداروں اور ان کے کرتا دھرتاوں پر یہ لازم نہیں کہ وہ خطرے کی صورت میں انسانی جان کو چند سیکنڈ کے شاٹز پر زیادہ ترجیع دیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔