’عالمی برادری خاموش تماشائی نہ بنی رہے‘

آخری وقت اشاعت:  بدھ 26 ستمبر 2012 ,‭ 01:11 GMT 06:11 PST

پاکستان کے صدر آصف علی زرداری نے منگل کو اقوام متحدہ سے اپنے خطاب میں مسلمانوں کے مذہبی عقائد کے خلاف نفرت پھیلانے کی شدید مذمت کی ہے اور بین الاقوامی برداری پر زور دیا ہے کہ وہ مذہب کی توہین کرنے والے عناصر کو سزا دیں۔

صدر آصف علی زرداری نے نیو یارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اڑسٹھویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی برادری کو خاموش تماشائی نہیں بنے رہنا چاہیے اور ایسے عناصر کو جو آزادی رائے کا غلط استعمال کرتے ہوئے عالمی امن اور سلامتی کو خطرے میں ڈال دیتے ہیں مجرم قرار دینا چاہیے۔

صدر زرداری نے کہا کہ پاکستان نے اقوام متحدہ سے رجوع کیا کہ وہ فوری طور پر اس تشویش کا ازالہ کرے اور اقوام عالم میں بڑھتی ہوئی خلیج کو پاٹنے کے لیے اقدام کرے۔

پاکستان میں امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کے ڈرون حملوں اور ان میں شہری ہلاکتوں کے مسئلہ پر بات کرتے ہوئے صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ ڈرون حملوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے اور اس سے لوگوں کے دل اور دماغ جینتے میں مشکل پیش آ رہی ہے۔

بین الاقوامی برداری سے پاکستان پر ’ڈو مور‘ کے دباؤ پر صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ ہم نے جن لوگوں کو اس جنگ میں کھو دیا ہے ان کی یادوں اور جس کرب سے ہمارے لوگ گزر رہے ان کا مذاق نہ اڑایا جائے۔

انھوں نے کہا کہ کسی دوسرے ملکوں کے لوگوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اتنی قربانیاں نہیں دیں جتنی پاکستان کے عوام نے دی ہیں۔

’میرے عوام سے وہ خراج نہ مانگیں جو کبھی کسی اور سے نہیں مانگا گیا۔‘

"کسی دوسرے ملکوں کے لوگوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اتنی قربانیاں نہیں دیں جتنی پاکستان کے عوام نے دی ہیں۔ میرے عوام سے وہ خراج نہ مانگیں جو کبھی کسی اور سے نہیں مانگا گیا۔"

صدر زرداری

انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف اس جنگ میں پاکستان کے سات ہزار فوجی اور پولیس اہلکار اور سینتیس ہزار شہریوں نے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے ہیں۔

صدر زرداری نے اپنی تقریر میں فلسطین کے مسئلے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان فلسطینیوں کی علیحدہ ریاست کے قیام اور ان کی اقوام متحدہ میں رکنیت کی حمایت کرتا ہے۔

بھارت سے پاکستان کے تعلقات کے بارے میں بات کرتے ہوئے صدر زرداری نے کہا کہ پاکستان بھارت سے اپنے تعلقات باہمی اعتماد کی بنیاد پر بہتر بنا چاہتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ سرحدی تنازعات پر پاکستان کا اصولی موقف اس کی خارجہ پالیسی کی بنیاد ہے۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان اقوام متحدہ کی قرار داد کے تحت جموں اور کشیمر کے عوام کے حق رائے دہی کی حمایت کرتا رہے گا۔

انھوں نے کہا کہ کشمیر اقوام متحدہ کے نظام کی کمزوری کی علامت بن گیا ہے نہ کہ اس نظام کی مضبوطی اور موثر ہونے کا۔

انھوں نے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ اس مسئلہ کا پر امن حل باہمی اعتماد کی فضا ہیں میں نکالا جا سکتا ہے۔

افغانستان اور پاکستان کے تعلقات پر بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ایک مستحکم، محفوظ اور مضبوط افغانستان افغان عوام کے حق میں ہے اور جو افغان عوام کے حق اور مفاد میں ہے پاکستان کا مفاد بھی اسی ہی میں ہے۔

صدر زرداری نے کہا کہ پاکستان عوام کے دل اور گھر افغان عوام کے لیے کھلے ہیں لیکن بین الاقوامی برادری کو تیس لاکھ افغان مہاجرین کے عزت کے ساتھ افغانستان واپس جانے کی خواہش کی تکمیل میں مدد کرنی چاہیے۔

منشیات کے غیر قانونی کاروبار پر بات کرتے ہوئے صدر زرداری نے کہا کہ افغانستان میں لاکھوں غیر ملکی فوجیوں کی موجودگی کے باوجود گزشتہ دس برس میں ہیروئن کی تجارت میں تین ہزار گنا اضافہ ہوا ہے۔

انھوں نے کہا کہ منشیات کا کاروبار معاشرے کو تباہ کر رہا ہے۔

انھوں نے کہا کہ خطے میں اور دنیا بھر میں شدت پسندوں کی کارروائیوں کے لیے پیسہ منشیات کی پیداوار اور اس غیر قانونی فروخت سے حاصل کیا جاتا ہے۔

انھوں نے عالمی برادری اور خاص طور پر ان ملکوں پر زور دیا جو اس خطے میں موجود ہیں کہ اس برائی سے نمٹنے کے لیے متحدہ حکمت عملی بنانے میں مدد کریں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔