روسی صدر کی درخواست پر چار ملکی سربراہی کانفرنس ملتوی

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 27 ستمبر 2012 ,‭ 07:25 GMT 12:25 PST
پیوتن

اس سربراہی کانفرنس کی نئی تاریخوں کا اعلان بعد میں کیا جائے گا

پاکستان کے دفترِ خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ اگلے ماہ اسلام آباد میں ہونے والی چار ملکی سربراہی کانفرنس کے شیڈول میں تبدیلی کردی گئی ہے۔

دفترِ خارجہ کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ چار ملکی سربراہی کانفرنس کی تاریخوں میں تبدیلی روس کے صدر ولادیمیر پیوتن کی درخواست پر کی گئی ہے۔

واضح رہے کہ دو روزہ چار ملکی سربراہی کانفرنس اگلے ماہ اسلام آباد میں منعقد ہونی تھی۔ اس کانفرنس میں روس، تاجکستان، پاکستان اور افغانستان کے سربراہان نے شرکت کرنا تھی۔

کلِک کانفرنس کا ملتوی ہونا غیر معمولی نہیں ہے: سابق سیکرٹری خارجہ ریاض کھوکر کا انٹرویو سنئیے

بیان کے مطابق اس سربراہی کانفرنس کی نئی تاریخوں کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔

ترجمان کے مطابق روس کے صدر نے صدرِ پاکستان آصف علی زرداری کے نام خط بھی بھجوایا جس میں انہوں نے کہا کہ روس پاکستان کے ساتھ تعلقات کومزید وسعت دینے کا خواہشمند ہے ۔

بیان کے مطابق روسی صدر نے کہا ہے کہ وہ صدر زرداری کے ساتھ جلد ملاقات کے خواہش مند ہیں۔

پچھلے ایک برس کے دوران دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں گرمجوشی پاکستان کی جانب سے اپنی خارجہ پالیسی کو وسعت دینے کی ایک کوشش ہیں۔

اعلیٰ سطح کے سرکاری دوروں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ صدر آصف علی زرداری گزشتہ برس اور پاکستان فضائیہ کے سربراہ ائر چیف مارشل طاہر رفیق بٹ کا گزشتہ ماہ کا دورہ ان تبادلوں کا حصہ تھے۔

اس کے علاوہ پاکستان فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی بھی آئندہ چند روز میں ماسکو جائیں گے۔ یہ کسی پاکستانی فوجی سربراہ کا پہلا دورۂ ماسکو ہوگا۔

اسلام آباد میں منعقد ہونے والی چار ممالک سربراہی کانفرنس میں افغانستان سے بین الاقوامی افواج کے انخلاء کے بعد ملک کے سیاسی اور سکیورٹی مستقبل کے حوالے سے بات چیت ہونی تھی۔

روسی صدر نے پاکستان اعلیٰ سطح کے وفد کے ہمراہ آنا تھا۔

پاکستان کے دفترِ خارجہ کے مطابق روسی صدر کے اس دورہ پاکستان پر دونوں ممالک کے درمیان مختلف امور پر بات چیت ہونی تھی۔

پاکستان کے سابق سیکرٹری خارجہ ریاض کھوکر کا کہنا ہے کہ روسی صدر کی درخواست پر چار ملکی سربراہی کانفرنس کا ملتوی ہونا غیر معمولی بات نہیں ہے۔

بی بی سی اردو سروس کے پروگرام سیربین میں گفتگو کرتے ہوئے ریاض کھوکر نے کہا کہ سفارت کاری میں یہ روایت رہی ہے کہ اگر کسی ملک کا سربراہ اپنا طے شدہ دورہ ملتوی کر دے تو اس بات کو کریدنے کے بجائے اُس ملک پر اعتبار کیا جاتا ہے کہ اُس کے پاس واقعی کوئی معقول وجہ ہو گی۔

اسی بارے میں

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔