پاکستان کے سرکاری وکلاء کا احتجاج

آخری وقت اشاعت:  پير 1 اکتوبر 2012 ,‭ 13:31 GMT 18:31 PST
اٹارنی جنرل عرفان قادر

’آئین کی دفاع سو کے تحت اٹارنی جنرل کا یہ حق ہے کہ ان کے موقف کو سنا جائے‘

سرکاری خبر رساں ایجنسی اے پی پی کے مطابق پاکستان کے سرکاری وکلاء سپریم کورٹ کے دو رکنی بنچ کی جانب سے اٹارنی جنرل کو وارننگ دیے جانے کے خلاف احتجاجاً پیر کو آدھے دن کے لیے سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ میں پیش نہیں ہوئے۔

پاکستان کے اٹارنی جنرل کی جانب سے پیر کو جاری ہونے والی پریس رلیز کے مطابق ستائیس ستمبر کو میڈیا سے تعلق رکھنے والے دو درخواست گذاروں حامد میر اور ابسار عالم کی پٹیشن پر بحث ہو رہی تھی۔ پریس رلیز کے مطابق یہ دونوں درخواست گذار نہ صرف عدالت کا وقت ضائع کر رہے تھے بلکہ غلط اعدادو شمار بھی پیش کر رہے تھے۔

جس پر اٹارنی جنرل نے اعتراض اٹھاتے ہوئے مداخلت کی اور اس جانب عدالت کی توجہ طلب کرنے کی کوشش کی کہ عدالت میں جو بیان جمع کروایا گیا ہے اس میں وزارتِ اطلاعات ونشریات کی مجموعی گرانٹ چار ارب بتائی گئی تھی جبکہ یہ گرانٹ 400 ملین ہے۔

پریس رلیز کے مطابق اس کے بعد ان میں سے ایک جج نے اس بات کا سخت نوٹس لیتے ہوئے اٹارنی جنرل کو تنبیہہ کی کہ وہ عدالت کی کارروائی میں مداخلت نہ کریں، جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ وہ صرف عدالت کی مدد کرنے کی کوشش کر رہے تھے تاکہ عدالت کے سامنے درست اعداد و شمار پیش ہوں۔

اٹارنی جنرل نے یہ بھی کہا کہ ویسے بھی آئین کی شق سو کے تحت اٹارنی جنرل کا یہ حق ہے کہ ان کے موقف کو سنا جائے۔

پریس رلیز میں کہا گیا ہے کہ اٹارنی جنرل کے اس بیان کے بعد جج صاحب مزید ناراض ہو گئے اور انہوں نے اٹارنی جنرل کی سرزنش کرتے ہوئے انہیں بیٹھنے کے لیے کہا جس پر اٹارنی جنرل خاموشی سے اپنی نشست پر بیٹھ گئے۔

پریس رلیز کے مطابق اٹارنی جنرل اور وہاں موجود دیگر سرکاری وکلاء اس وقت حیران رہ گئے جب جج صاحب نے اٹارنی جنرل کو وارننگ دینے کا حکم جاری کرنا شروع کیا۔

پریس رلیز کے مطابق اٹارنی جنرل کو وارننگ جاری کر نے کا سپریم کورٹ کا یہ حکم بِلا جواز ہے کیونکہ اٹارنی جنرل غلط اعدادو شمار کی جانب اشارہ کر کے عدالت کی مدد ہی کر رہے تھے۔

بیان کے مطابق اٹارنی جنرل صرف ایک وکیل ہی نہیں بلکہ پاکستان بار کونسل کے چیئرمین اور جوڈیشیل کمیشن آف پاکستان کے رکن بھی ہیں اور انہیں ملک کے وفاقی وزیر کا رتبہ حاصل ہے جس کے سبب انہیں پارلیمان میں بولنے کا حق بھی حاصل ہے۔

پریس رلیز میں اس جانب بھی توجہ دلوائی گئی کہ کچھ روز قبل اٹارنی جنرل کے دفتر نے اسی بنچ کے سامنے یہ بات رکھی تھی کہ ڈاکٹر ارسلان افتخار کے کیس میں ان جج صاحبان کا بیٹھنا نہایت ہی نا مناسب ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔