اختر مینگل کے چھ نکات ایک ’آخری تنبیہ‘؟

آخری وقت اشاعت:  پير 1 اکتوبر 2012 ,‭ 18:51 GMT 23:51 PST

اختر مینگل کی باتوں کو ’لاسٹ وارننگ‘ سمجھنا ہوگا

بلوچستان نیشنل پارٹی کے اپنے دھڑے کے سربراہ سردار اختر مینگل نے بلوچستان میں بہتری کے لیے جو چھ نکات پیش کیے ہیں اس پر حکومت یا اسٹیبلشمینٹ عمل کرنے کے موڈ میں بظاہر نظر نہیں آتی۔

سپریم کورٹ میں ’بلوچستان بد امنی کیس‘ میں سردار اختر مینگل کے بیان اور اسلام آباد میں ان کی سرگرمیوں کی وجہ سے جتنی بلوچستان کے معاملے کو پاکستانی ذرائع ابلاغ میں کوریج ملی ہے اتنی ماضی میں شاذ و نادر ہی دیکھنے کو ملی ہے۔

سب سے اہم بات یہ تھی کہ انہوں نے بلوچستان میں فوج اور سکیورٹی اداروں کے ’ڈیتھ سکواڈز‘ کی موجودگی، بلوچ نوجوانوں کی مسخ شدہ لاشیں ملنے سمیت جو بھی باتیں کیں، وہ سپریم کورٹ میں سنسر ہوئیں اور نہ ہی ذرائع ابلاغ میں۔ بعض تجزیہ کار اس کو میڈیا پر سیکورٹی ایجنسیوں کی کمزور پڑتی گرفت سے تعبیر کر رہے ہیں تو کچھ میڈیا کی آزادی سے۔

لیکن اس معاملے میں میں بنیادی کردار سپریم کورٹ کا ہے اور اس کا کریڈٹ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کو جاتا ہے جنہوں نے بھڑوں کے چھتے میں ہاتھ ڈالتے ہوئے بلوچستان میں بدامنی اور مبینہ طور پر سیکورٹی ایجنسیوں کے ہاتھوں سیاسی کارکنوں کی جبری گمشدگی اور تین سو قریب کی مسخ شدہ لاشیں ملنے کا نوٹس لیا اور متعلقہ انتظامیہ کی جواب طلبی کی۔

بعض تجزیہ کار کہتے ہیں کہ سپریم کورٹ اور چیف جسٹس کا اصل امتحان اب شروع ہوتا ہے۔

سینیئر صحافی اور ٹی وی پروگرام کے میزبان حامد میر کہتے ہیں کہ ’اب ہم دیکھیں گے کہ وہ سپریم کورٹ جو توہین عدالت اور سپریم کورٹ کے اندر جھوٹ بولنے کے الزام میں سیاستدانوں کے خلاف بڑے بڑے فیصلے کرتی ہے۔ اس سپریم کورٹ کے سامنے اٹارنی جنرل اور ایجنسیوں کی طرف سے جھوٹ بولا گیا ہے اور اب دیکھیں گے کہ وہ سپریم کورٹ وردی والوں کے خلاف کوئی فیصلہ کرتی ہے یا نہیں کرتی‘۔

یہ بھی اپنی جگہ حقیقت ہے کہ جب سپریم کورٹ کے چیف جسٹس صاحب نے کوئٹہ میں لاپتہ افراد کی بازیابی کی ہدایت جاری کی تو اگلی صبح ان کی مسخ شدہ لاشیں تو مل گئیں لیکن زندہ سلامت بہت کم لوگ ہی واپس آئے ہیں۔ لیکن یہ بھی غنیمت ہے کہ پاکستان جیسے ملک میں جبری گمشدہ کچھ بلوچ، سندھی اور پٹھان نوجوان اپنے گھروں کو بھی لوٹے ہیں۔

" وہ سپریم کورٹ جو توہین عدالت اور سپریم کورٹ کے اندر جھوٹ بولنے کے الزام میں سیاستدانوں کے خلاف بڑے بڑے فیصلے کرتی ہے۔ اس سپریم کورٹ کے سامنے اٹارنی جنرل اور ایجنسیوں کی طرف سے جھوٹ بولا گیا ہے اور اب دیکھیں گے کہ وہ سپریم کورٹ وردی والوں کے خلاف کوئی فیصلہ کرتی ہے یا نہیں کرتی۔"

حامد میر

ایسے ماحول میں اختر مینگل نے سپریم کورٹ میں بلوچستان کی صورتحال بہتر کرنے کے لیے جو چھ نکات پیش کیے ہیں ان پر وہ فوری عمل چاہتے ہیں ورنہ پھر بنگلہ دیش کی طرح شاید دیر نہ ہوجائے۔

میاں نواز شریف ہوں، عمران خان یا منور حسن، انہوں نے سردار مینگل کی تائید کرتے ہوئے بلوچستان کی صورتحال کو مشرقی پاکستان کے حالات سے تعبیر کیا ہے۔ لیکن تمام سیاستدان تاحال بلوچستان کے حل کے لیے کسی مشترکہ پلیٹ فارم پر متحد نہیں ہوسکے۔ اب کی بار سب سے معنی خیز بیان چوہدری شجاعت کا سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ ہو یا حکومت بلوچستان کے بارے میں کوئی کچھ نہیں کر سکتا سوائے فوج کے۔

تجزیہ کار کہتے ہیں کہ بظاہر حکومت ہو یا اپوزیشن والے بلوچستان پر سیاست کر رہے ہیں اور عملی اقدامات کے لیے وہ کچھ نہیں کیا جو کرنا چاہیے۔ حکومت نے اعلیٰ سطحی کمیٹیاں بنائیں لیکن حاصل وصول کچھ نہیں ہوا۔ میاں نوازشریف نے قومی کانفرنس بلانے کا اعلان کیا اور منور حسن نے احتجاجی مظاہروں کا لیکن اس کا بھی کوئی نتیجہ نہیں نکل سکا۔

سردار اختر مینگل نے جو چھ نکات پیش کیے ہیں، انہوں نے واضح کیا ہے کہ ان کے چھ نکات کو شیخ مجیب کے چھ نکات کی طرح آخری کوشش سمجھیں لیکن تجزیہ کار حامد میر کا کہنا ہے کہ شیخ مجیب کے چھ نکات سخت تھے اور بعض نکات ناقابل عمل تھے لیکن اختر مینگل کے چھ نکات قابل عمل ہیں تاہم حکومت ہو یا ملٹری اسٹیبلشمینٹ وہ اس پر عمل کرنے کے لیے تیار نہیں۔

’میں کہتا ہوں آپ یہ دیکھیں کہ بجائے اختر مینگل کو سیاسی عمل میں شریک کرنے کے لیے جب وہ یہاں تھے تو سپریم کورٹ میں پٹیشن داخل کرائی گئی کہ نواب اکبر بگٹی نے خود کشی کی تھی۔ یہ پٹیشن زید حامد نے دائر کی اور راجہ ارشاد ان کے وکیل ہیں۔۔ جو لاپتہ افراد کے کیس میں آئی ایس آئی اور ایم آئی کے وکیل ہیں۔۔اس کے بعد اختر مینگل کے علاقے خضدار پریس کلب کے جنرل سیکرٹری پر حملہ ہوا اور پریس کلب کو تالا لگایا گیا۔۔اختر مینگل کی موجودگی کے دوران ان کے زخموں پر مرہم رکھنے کے بجائے نہ صرف نمک چھڑکا گیا بلکہ تیزاب چھڑکا گیا اور ایسا لگتا ہے کہ اسٹیبلشمینٹ اور منتخب حکومت دونوں یہ چاہتے ہیں کہ بلوچستان کے مسئلے کا سیاسی حل نہ نکلے‘۔

بعض سیاسی مبصرین کہتے ہیں کہ اگر اختر مینگل کی باتوں کو ’لاسٹ وارننگ‘ سمجھ کر اگر فوری اقدامات نہیں اٹھائے گئے تو بلوچستان اور بنگلہ دیش، شیخ مجیب اور مینگل کے چھ نکات میں کوئی زیادہ فرق یا دوری نہیں ہوگی۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔