’ اگر کچھ دیکھیں تو ضرور کچھ کہیں‘

آخری وقت اشاعت:  منگل 2 اکتوبر 2012 ,‭ 15:53 GMT 20:53 PST

’شدت پسندی وفاق کا ہی نہیں صوبوں کا بھی مسئلہ ہے‘

’شدت پسندی وفاق کا ہی نہیں صوبوں کا بھی مسئلہ ہے‘

دیکھئیےmp4

اس مواد کو دیکھنے/سننے کے لیے جاوا سکرپٹ آن اور تازہ ترین فلیش پلیئر نصب ہونا چاہئیے

متبادل میڈیا پلیئر چلائیں

پاکستان کی وفاقی حکومت نے عوام کو شدت پسند تنظیموں سے تعلق رکھنے والے افراد کی ممکنہ کارروائیوں سے خبردار کرنے کے لیے اخبارات میں ایک آگہی مہم شروع کی ہے۔

اس مہم کے تحت منگل کو پاکستانی اخبارات میں شائع ہونے والے اشتہار میں کہا گیا ہے کہ یہ تنظیمیں بینکوں کو لوٹنے کے علاوہ اغوا برائے تاوان جیسی وارداتیں کر سکتی ہیں۔

وزارتِ داخلہ کے ایک اعلیٰ اہلکار نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ مہم ان کی وزارت کے تحت شروع کی گئی ہے۔

اہلکار کا کہنا تھا کہ منگل کو اس مہم کے پہلے دن عوام نے ابتدائی طور پر تو اس کوشش کو سراہنے کے لیے ہی فون کیے۔ انہوں نے بتایا کہ ابتداء میں اس مہم کے لیے صرف ایک نمبر دیا گیا ہے تاہم وقت کے ساتھ ساتھ لائنوں میں اضافہ کیا جائے گا۔

وزارتِ داخلہ کے ذرائع کے مطابق اشتہار میں دیے گیے نمبر پر شدت پسندوں سے متعلق معلومات متعلقہ صوبوں کو بھیجی جائیں گی تاکہ وہ اس ضمن میں تمام ممکنہ اقدامات کر سکیں اس کے علاوہ شدت پسندوں کی ممکنہ کارروائیوں سے متعلق اطلاع دینے والے کا نام صیغۂ راز میں رکھا جائے گا۔

یہ پہلا موقع ہے کہ اس طرح کے اشتہار وفاقی حکومت کی طرف سے جاری کیے گئے ہیں۔ اس سے پہلے اگر کسی شہر میں خودکش حملہ یا بم دھماکہ ہوتا تھا تو متعلقہ شہر کی پولیس کی طرف سے ان واقعات میں ملوث ممکنہ افراد کے خاکے اخبارات میں جاری کیے جاتے تھے اور اس میں ملوث افراد کی نشاندہی کرنے والے شحص کے لیے انعام کا اعلان بھی کیا جاتا تھا۔

"شدت پسندی وفاق کا ہی نہیں بلکہ صوبوں کا بھی مسئلہ ہے۔ حکومت کا مقصد ملک سے شدت پسندی کا خاتمہ ہے جس کے لیے موجودہ وسائل میں رہتے ہوئے حکومت تمام ممکنہ اقدامات کرے گی۔"

رحمان ملک

اس اشتہار میں کہا گیا ہے کہ بینک ڈکیتیوں میں ملوث ایک گروہ کی تفتیش کے دوران ملزمان نے اعتراف کیا ہے کہ شدت پسند تنظیموں کے ارکان نے مقامی سہولت کاروں کی مدد سے بینک ڈکیتیوں اور اغوا برائے تاوان کے لیے نہ صرف علاقوں کی نشاندہی کرلی ہے بلکہ اغوا کیے جانے والے افراد کو بھی ٹارگٹ کرلیا ہے۔

وزیر داخلہ رحمان ملک نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے اشتہار کا دفاع کیا اور کہا کہ شدت پسندی وفاق کا ہی نہیں بلکہ صوبوں کا بھی مسئلہ ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ حکومت کا مقصد ملک سے شدت پسندی کا خاتمہ ہے جس کے لیے موجودہ وسائل میں رہتے ہوئے حکومت تمام ممکنہ اقدامات کرے گی۔

وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ شدت پسندی کے خلاف موثر کارروائی کے لیے لوگوں کا قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ تعاون ناگُزیر ہے۔

یاد رہے کہ کچھ عرصہ قبل خفیہ اداروں کی وزارت داخلہ کو بھیجی جانے والی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ کالعدم شدت پسند تنظیمیں ان دنوں شدید مالی بحران سے دوچار ہیں اور اس مالی بحران سے نکلنے کے لیے اغوا برائے تاوان اور دیگر سنگین جرائم کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔

سندھ پولیس کے سابق سربراہ افضل شگری کا کہنا ہے کہ ایسے اقدامات سے کچھ عرصے کے لیے عوام میں آگہی آتی ہے لیکن شدت پسندوں کے خلاف کارروائی حکومت کو ہی کرنا ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ شدت پسندوں سے متعلق لوگ پولیس کو آگاہ کرنے سے گھبراتے ہیں لیکن حکومت کو اس معاملے میں اطلاع دینے والے افراد کی جان ومال کو تحفظ دینے کے لیے عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔