’کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ نہ ہے، نہ کبھی رہا‘

آخری وقت اشاعت:  منگل 2 اکتوبر 2012 ,‭ 10:54 GMT 15:54 PST

بھارتی وزیر خارجہ نے اپنے بیان میں پاکستان کے صدر کا نام لیے بغیر ان کے خطاب میں کشمیر کا حوالہ دیے جانے کو غلط قرار دیا تھا

پاکستان نے بھارت کے اس دعوے کو مسترد کر دیا ہے کہ کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور کہا ہے کہ ہے کہ جموں وکشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ نہ ہے اور نہ کبھی رہا ہے۔

یہ بات اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے نائب مستقل نمائندے رضا بشیر تارڑ نے جنرل اسمبلی میں جواب دینے کا اپنا حق استعمال کرتے ہوئے کہی۔

واضح رہے کہ پیر کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سڑسٹھویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے بھارتی وزیر خارجہ ایس ایم کرشنا نے کہا تھا کہ کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور اقوام متحدہ میں اس مسئلے کو اٹھایا جانا مناسب نہیں ہے۔

پاکستان کے سرکاری ریڈیو سٹیشن ریڈیو پاکستان کے مطابق اقوام متحدہ میں بھارت کے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے رضا بشیر تارڑ نے کہا کہ صدرِ پاکستان آصف علی زرداری کی تقریر میں جموں وکشمیر کے تنازعے کا حوالہ بلاجواز نہیں تھا جیسا بھارت کے وزیر خارجہ ایس ایم کرشنا نے اپنے بیان میں کہا۔

انہوں نے مزید کہا کہ صدر زرداری نے جنرل اسمبلی کے خطاب میں اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ پاکستان اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق کشمیری عوام کے حق کی حمایت جاری رکھے گا۔

واضح رہے کہ بھارتی وزیر خارجہ نے اپنے بیان میں پاکستان کے صدر کا نام لیے بغیر ان کے خطاب میں کشمیر کا حوالہ دیے جانے کو غلط قرار دیا تھا۔

انہوں نے کہا ’اس پلیٹ فارم سے جموں و کشمیر کے حوالے سے نامناسب تنقید کی گئی۔ اس موضوع پر ہمارا اصولی موقف رہا ہے جو سب کو معلوم ہے۔ جموں و کشمیر کے عوام نے بھارتی جمہوری نظام کے ذریعہ کئی بار اپنے مستقبل کے بارے میں انتخاب کیا ہے۔ ہم یہ بالکل واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ جموں و کشمیر بھارت کا اٹوٹ حصہ ہے‘۔

گزشتہ ہفتے پاکستان کے صدر آصف علی زرداری نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اپنی تقریر کے دوران کہا تھا کہ جموں و کشمیر کے عوام کو اپنا مستقبل طے کرنے کی آزادی ہونی چاہیے۔

انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ کشمیر کے مسئلے کا حل نہ نکالا جانا اقوام متحدہ کی ناکامی ظاہر کرتا ہے.

بھارتی وزیر خارجہ نے کہا کہ بھارت، پاکستان کے ساتھ بات چیت کی پھر شروعات کر چکا ہے اور دونوں ممالک کے تعلقات معمول پر لانے کے لیے قدم بڑھا رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بھارت اپنے تمام پڑوسیوں کے ساتھ دوستانہ تعلقات رکھنا چاہتا ہے جس سے خطے میں امن اور ترقی کو فروغ ملے گا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔