پشاور: ’امام مسجد سے روزانہ درس لینے کا حکم‘

آخری وقت اشاعت:  منگل 2 اکتوبر 2012 ,‭ 14:46 GMT 19:46 PST

پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے ایک انوکھے فیصلے میں فحاشی کے الزام میں گرفتار خاتون کی ضمانت کی درخواست منظور کرتے ہوئے انھیں امام مسجد سے روزانہ ایک گھنٹے کے لیے دین کا درس لینے کا حکم دیا ہے۔

دوسری جانب امام مسجد نے بی بی سی کو بتایا کہ ان سے اس فیصلے کے بعد کسی نے رابطہ نہیں کیا ہے۔

چیف جسٹس دوست محمد خان نے عصمت فروشی کے ایک اڈے سے گرفتار پانچ خواتین کی ضمانت کی درخواست منظور کرتے ہوئے ایک خاتون سے کہا ہے کہ وہ ایک ماہ تک روزانہ جامع مسجد زرغونی کے امام مسجد سے دین کا درس لیں گی۔

ان خواتین کو گزشتہ ماہ پشاور کے معروف رہائشی علاقے حیات آباد سے پولیس نے گرفتار کیا تھا۔ ان پر فحش حرکات اور اس سے منسلک دیگر دفعات لگائی گئی ہیں۔

پشاور ہائی کورٹ کے اس فیصلے پر عملدرآمد منگل کی شام تک نہیں کیا گیا تھا۔ جامع مسجد زرغونی کے امام بصیر اللہ قادری کا کہنا ہے کہ ان سے اب تک کسی نے رابطہ نہیں کیا ہے ۔

بصیر اللہ قادری نے بی بی سی سے کے نامہ نگار عزیز اللہ خان سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ چیف جسٹس کا شکریہ ادا کرتے ہیں کہ انھوں نے ان پر اعتماد کیا ہے لیکن اس فیصلے پر عملدرآمد مشکل نظر آتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ جہاں تک مسجد میں درس لینے کا فیصلہ ہے تو وہ چیف جسٹس کا ان پر اعتماد کرنے پر ان کا شکریہ ادا کرتے ہیں لیکن خاتون اگر ادھر مسجد میں آئیں گی تو ان کے ساتھ کسی محرم کو آنا ہو گا۔

انھوں نے کہا کہ اس کے لیے بہتر یہ ہے کہ خاتون کو عورتوں کے کسی مدرسے میں بھیج دیا جائے جہاں وہ خواتین سے ہی درس حاصل کریں گی۔ انھوں نے کہا کہ ان کی مسجد میں خواتین کے لیے علیحدہ درس کا کوئی انتظام نہیں ہے۔

اس فیصلے کے بارے میں معروف قانونی ماہر لطیف آفریدی ایڈووکیٹ سے رابطہ قائم کیا تو ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک انوکھا فیصلہ ہے لیکن اس فیصلے پر عملدرآمد ہوتا نظر نہیں آتا۔

ان کا کہنا ہے کہ قانون میں اس حوالے سے مختلف سزائیں ہیں اور سابق صدر پرویز مشرف کے دور میں خواتین کے تحفظ کے لیے ایک قانون بنایا گیا تھا جس کے تحت خواتین کو ناقابل صمانت دفعات پر بھی خواتین کو ضمنانت دی جا سکتی ہے۔

انھوں نے کہا کہ جہاں تک درس لینے کی بات ہے تو یہ اصلاح کے لیے کیا گیا ہے لیکن معاشرے میں بے بس لوگوں خاص طور پر خواتین کو معاشی اور سماجی مسائل کا سامنا ہوتا ہے۔

لطیف آفریدی کے مطابق اس پر عملدرآمد نہ ہائی کورٹ اور نہ ہی پولیس کرا سکتی ہے کیونکہ کون خاتون کو پابند کرے گا کہ وہ روزانہ درس لینے جائے۔

انھوں نے کہا کہ اگر خاتون اور امام مسجد راضی ہوں تو پھر اس پر کسی حد تک عمل کیا جا سکتا ہے۔

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔