’پی ٹی آئی کو قبائلی علاقے میں داخلے کی اجازت نہیں‘

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 5 اکتوبر 2012 ,‭ 08:28 GMT 13:28 PST

پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان کے پولیٹیکل ایجنٹ نے کہا ہے کہ پاکستان تحریکِ انصاف کے زیر انتظام مارچ کو قبائلی علاقوں میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

جنوبی وزیرستان کے پولیٹیکل ایجنٹ شاہد اللہ خان نے یہ بات ٹانک میں موجود ہمارے نامہ نگار رفعت اللہ اورکزئی سے بات کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ اس بارے میں تحریک انصاف کو مطلع کردیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ تحریک انصاف نے پاکستانی حدود میں امریکی جاسوس طیاروں یعنی ڈرون حملوں کے خلاف قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں سات اکتوبر کو جلسے کا اعلان کر رکھا ہے۔

دوسری جانب پاکستان تحریکِ انصاف کے مرکزی ترجمان نعیم الحق نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہ ہے کہ ان کی اس ریلی کا مقصد امن ہے اور وہ کسی قسم کا تصادم نہیں چاہتے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ اگر انہیں حکومت کی جانب سے کسی مقام پر روکا گیا تو وہ وہیں جلسہ کریں گے۔

نعیم الحق کا کہنا تھا کہ انہوں نے حفاظتی نقطہ نظر سے سوچ بچار کر کے جنوبی وزیرستان جانے کا فیصلہ کیا۔ ان کے بقول جنوبی وزیرستان اتنا خطرناک علاقہ نہیں ہے جتنا کہ شمالی وزیرستان ہے اور انہوں نے حکومت کو اپنے منصوبے کے بارے میں پہلے سے مطلع کر رکھا ہے۔

ان کا کہنا تھا ’کراچی سمیت پورے پاکستان میں جس قسم کے واقعات ہوتے رہے ہیں اس لحاظ سے جنوبی وزیرستان ان سے زیادہ خطرناک علاقہ نہیں ہے۔‘

نعیم الحق نے بتایا کے وزیرستان کے محسود قبائل سمیت دوسرے قبائل نے ان کے جلوس کو تحفظ فراہم کرنے کی یقین دہانی بھی کروائی ہے۔

حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کی ریلی کو ضلع ٹانک میں بھی داخل نہیں ہونے دیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ریلی کو ڈیرہ اسماعیل خان ہی میں روک دیا جائے گا۔

"کراچی سمیت پورے پاکستان میں جس قسم کے واقعات ہوتے رہے ہیں اس لحاظ سے جنوبی وزیرستان ان سے زیادہ خطرناک علاقہ نہیں ہے۔"

پاکستان تحریک انصاف

دوسری جانب حکام مقامی افراد کو تین روز سے کوٹکئی کے علاقے میں داخل ہونے نہیں دے رہے ہیں۔

ذرائع نے مزید بتایا کہ پاکستان تحریکِ انصاف کی ریلی میں غیر ملکیوں کی شمولیت اور مجمعے کی بڑی تعداد ہونے کے باعث شرکاء کو قبائلی علاقے میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔

اس کے علاوہ ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس ریلی پر حملے کا بھی خدشہ ہے۔

یاد رہے کہ تحریک انصاف کے جلسے کے لیے ڈیرہ اسماعیل خان ، ٹانک اور کوٹکئی میں انتظامات کیے جا رہے ہیں۔

پی ٹی آئی کے مطابق ریلی میں شرکت کے لیے پشاور سے بڑی ریلی سنیچر کی صبح ڈیرہ اسماعیل خان کے لیے روانہ ہوگی۔

پشاور سے بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق تحریک انصاف کے جلسے میں شرکت کے لیے آنے والے افراد کا پہلا پڑاؤ خیبر پختونخوا کا ضلع ڈیرہ اسماعیل خان ہوگا جہاں علی فارم میں ایک کیمپ بنایا گیا ہے۔

"اسلام آباد سے عمران خان کی قیادت میں ریلی سنیچر کی صبح روانہ ہوگی جبکہ پشاور اور دیگر شہروں سے بھی ریلیاں سنیچر کی صبح سے روانہ شروع ہو جائیں گی اور یہ سلسلہ رات تک جاری رہے گا۔"

پی ٹی آئی

اسلام آباد سے عمران خان کی قیادت میں ریلی سنیچر کی صبح روانہ ہوگی جبکہ پشاور اور دیگر شہروں سے بھی ریلیاں سنیچر کی صبح سے روانہ شروع ہو جائیں گی اور یہ سلسلہ رات تک جاری رہے گا۔

ڈیرہ اسماعیل خان میں تحریک انصاف کے رہنما علی امین گنڈہ پور نے بتایا کہ سنیچر کو شام کے وقت ڈیرہ ٹانک روڈ پر ہتھالہ کے مقام پر عمران خان ذرائع ابلاغ کے نمائندوں اور مختلف قبائلی کے افراد سے خطاب کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ اسی طرح ہتھالہ سے اتوار کی صبح وزیرستان کے لیے ریلی روانہ ہو گی لیکن راستے میں ٹانک میں بھی پڑاؤ ہے جہاں مرکزی رہنما خطاب کریں گے۔

ان سے جب پوچھا کہ کیا حکومت وزیرستان میں جلسہ منعقد کرنے کی اجازت دے دے گی تو ان کا کہنا تھا کہ وہ وزیرستان ضرور جائیں گے تاکہ دنیا کو دکھا سکیں کہ یہاں قبائل اور لوگ پر امن ہیں اور ڈرون حملے غیر انسانی اور غیر قانونی ہیں جنہیں بند ہونا چاہیے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔