’پی ٹی آئی کو اجازت نہ دینے کی وجوہات‘

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 6 اکتوبر 2012 ,‭ 23:52 GMT 04:52 PST

تحریک انصاف کے جلسے کے لیے ڈیرہ اسماعیل خان ، ٹانک اور کوٹکئی میں انتظامات کیے جا رہے ہیں

پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان کی پولیٹکل انتظامیہ کی جانب سے تحریک انصاف کے زیراہتمام مارچ کو محسود قبائل کے علاقے کوٹکئی میں جانے کی اجازت سے انکار پر ٹانک اور ڈیرہ اسماعیل خان میں بیشتر لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ پابندی سکیورٹی وجوہات کی بناء پر نہیں بلکہ بعض سیاسی اور مذہبی جماعتوں کی دباؤ پر لگائی گئی ہے۔

تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان پارٹی کارکنوں، درجنوں ملکی اور غیر ملکی باشندوں اور صحافیوں کے ہمراہ سنیچر کی صبح ریلی کی شکل میں اسلام آباد سے وزیرستان کے لیے روانہ ہونگے جبکہ رات ٹانک کے قریب واقع ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے ہتھالہ میں گزاریں گے۔

پروگرام کے مطابق اتوار کو وہ جنوبی وزیرستان کے علاقے کوٹکئی کی طرف نکلیں گے جہاں وہ امن مارچ سے خطاب کے علاوہ غیر ملکی میڈیا کے ساتھ امریکی ڈرون حملوں کے متاثرین کو بھی ملوائیں گے۔

تحریک انصاف کے مطابق اس دروان خیبر پختونخوا اور دیگر علاقوں سے مختلف جلوس ریلی کے ساتھ شامل ہونگے۔

لیکن پولیٹکل انتظامیہ کی طرف سے اس مارچ یا ریلی کو کوٹکئی کے علاقے میں جانے سے روکنے کا اعلان جہاں کئی لوگوں کےلیے غیر متوقع تھا وہاں اس اقدام نے مقامی باشندوں کے ذہنوں میں کئی سوالات کو بھی جنم دیا ہے۔

ڈیرہ اسماعیل خان اور ٹانک کے اکثر باشندے سمجھتے ہیں کہ یہ پابندی سکیورٹی وجوہات سے زیادہ سیاسی لگ رہی ہے کیونکہ بعض سیاسی اور مذہبی جماعتیں نہیں چاہتی کے عمران خان وزیرستان جائے اور امن ریلی سے خطاب کریں۔

وزیرستان کے لوگوں نے فوجی آپریشنز اور شدت پسندوں کی کارروائیوں کی وجہ سے پچھلے چار پانچ سالوں کے دوران ہر قسم کے مشکل کا سامنا کیا ہے اور بدستور ان مسائل میں کوئی کمی نہیں دیکھی جا رہی۔

آج بھی محسود قبیلے کے افراد اپنے ہی علاقوں میں حکومت سے اجازت یا رہداری لیے بغیر نہیں جا سکتے

اگر یہ کہا جائے کہ اس وقت قبائلی علاقوں میں سب سے زیادہ تکالیف کا سامنا محسود قبیلے کو ہے تو غلط نہیں ہوگا لیکن اس قبیلے کے زخموں پر مرہم رکھنے والا کوئی نہیں۔ آج بھی محسود قبیلے کے افراد اپنے ہی علاقوں میں حکومت سے اجازت یا رہداری لیے بغیر نہیں جا سکتے۔ تحریک انصاف کے امن مارچ کی وجہ سے یہ راہداری بھی گزشتہ دو دنوں سے غیر اعلانیہ طور پر بند کر دی گئی ہے۔

مقامی باشندوں کے بقول اس ساری صورتحال کے دوران وزیرستان کے عوامی اور سیاسی نمائندے مشکلات میں گھیرے اپنے لوگوں کی دکھوں کا مداوا نہیں کرسکے۔ یہاں تک کہا جاتا ہے کہ علاقے کے ایم این اے الیکشن جیتنے کے بعد لوگوں کے مسائل حل کرنے کی بجائے اپنے علاقوں کا دورہ تک نہیں کر سکے ہیں۔

ایسے میں عمران خان کا وہاں جانا یقینی طور پر ان کے لیے سیاسی طور پر اہمیت کا حامل ہو سکتا ہے اور وہاں سرگرم جماعتوں کے ووٹ بنک کو متاثر بھی کر سکتا ہے۔

اس کے علاوہ عمران خان اس قسم کے بیانات بھی جاری کرتے رہے ہیں جس میں وہ اپنے آبا و اجداد کا تعلق وزیرستان سے جوڑتے ہیں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ عمران خان کی والدہ برکی قبیلے سے تعلق رکھتی تھیں جو وزیرستان کے علاقے کنی گروم میں آباد ہے۔

قبائلی علاقوں میں جمعیت علماء اسلام (ف) ایک مضبوط جماعت سمجھی جاتی ہے۔ اس سے پہلے ہونے والے زیادہ تر عام انتخابات میں جنوبی اور شمالی وزیرستان کے قومی اسمبلی کے حلقوں سے جے یو آئی کے امیدوار جیتے رہے ہیں۔

ڈیرہ اسماعیل خان میں بھی جمعیت علماء اسلام (ف) اور پاکستان پیپلز پارٹی کا اثر رسوخ زیادہ سمجھا جاتا ہے جبکہ یہاں سے آزاد امیدوار بھی جیتے رہے ہیں لیکن مقامی لوگ موجود نمائندوں سے خوش نظر نہیں آتے۔

بتایا جاتا ہے کہ عمران خان اس سے پہلے بھی ایک مرتبہ ڈیرہ اسماعیل خان سے انتخابات میں حصہ لے چکے ہیں لیکن ناکامی سے دوچار ہوئے تھے تاہم یہاں اس کی دلچسپی کو دیکھ یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ آنے والے انتخابات میں وہ ڈیرہ سے ضرور حصہ لیں گے۔

تاہم دوسری طرف جنوبی وزیرستان کی انتظامیہ کی جانب سے تحریک انصاف کے امن مارچ کو کوٹکئی جانے کی اجازت نہ دینے کا اعلان اور طالبان کا بیان آنے سے بظاہر اس ریلی کی کوریج میں ملکی اور غیر ملکی ذرائع ابلاغ کی دلچسپی کم ہوگئی ہے۔

بتایا جاتا ہے کہ زیادہ تر غیر ملکی میڈیا وزیرستان جانے میں دلچسپی رکھتا تھا کیونکہ وہ ہاں کے حالات دیکھنے کے خواہش مند تھے لیکن حکومت کی طرف سے اجازت نہ دینے کے اعلان سے بالخصوص غیر ملکی صحافیوں کےلیے اب وہاں جانا ان کےلیے قانونی مسئلہ بھی پیدا ہوسکتا ہے۔

اسی بارے میں

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔