بلدیاتی نظام، پیپلز پارٹی کو شدید تنقید کا سامنا

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 6 اکتوبر 2012 ,‭ 18:32 GMT 23:32 PST
احتجاج

سندھ میں بلدیاتی نظام کے خلاف احتجاج میں مشہور شاعرہ فہمیدہ ریاض بھی پیش پیش رہیں اور اسے دہرا نظام قرار دیا

پاکستان کے صوبہ سندھ میں حکمران پاکستان پیپلز پارٹی کو سندھ پیپلز لوکل باڈیز قانون کی وجہ سے سخت مشکلات کا سامنا ہے۔ قوم پرست، سابق اتحادی جماعتیں، ادیب اور شعرا اس کے خلاف اکٹھے ہوگئے ہیں۔

اس نظام کا موازنہ جنرل ایوب خان کے دور حکومت میں متعارف کرائے گئے ون یونٹ کے نظام سے کیا جا رہا ہے۔ ون یونٹ نظام میں مشرقی پاکستان کی برابری کرنے کے لیے مغربی پاکستان صوبہ بنایا گیا تھا، جس میں سندھ، بلوچستان اور موجودہ خیبر پختونخواہ کی حیثیت ختم کرکے ایک یونٹ قرار دیا گیا اور اس کا مرکز لاہور مقرر کیا گیا تھا۔

ون یونٹ کے خلاف بھی سندھ میں بھرپور تحریک چلائی گئی تھی، جس میں سندھ کے ادیبوں اور صحافیوں نے اہم کردار ادا کیا تھا۔ اسی طرح کراچی میں سنیچر کو سندھ کے ادیبوں اور شعرا نے نئے بلدیاتی نظام کے خلاف احتجاج کیا، جس میں نامور شاعرہ فہمیدہ ریاض اور ڈرامہ رائٹر آغا سلیم بھی شریک تھے۔

فہمیدہ ریاض کا کہنا تھا کہ موجودہ بلدیاتی نظام دہرا نظام ہے، جس میں شہری اور دیہی تفریق رکھی گئی ہے۔ ’اس سے احساس محرومی بڑھے گا اور اس کے کتنے سنگین نتائج مرتب ہوں گے یہ حکمرانوں نے سوچا تک نہیں ہوگا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’دیہی سندھ کو یہ کہاں غرق کرنا چاہتے ہیں، یہ کوئی انصاف نہیں ہے۔‘ اس ناانصافی کے خلاف وہ سندھ کے ادیبوں کے ساتھ ہیں۔

سندھ کے نوجوان ادیب دانشور جامی چانڈیو نے نئے بلدیاتی نظام کو فاشسٹ قانون قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ غلط ہے کہ یہ اسمبلی سے پاس ہوا ہے، وہ سمجھتے ہیں کہ یہ اسمبلی پر مسلط کیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایوب خان کا نظام بھی نہیں چل سکا تھا کیونکہ وہ غیر جمہوری تھا، عوام کی حمایت کے بغیر کسی نظام کا چلنا ناممکن ہوتا ہے۔

احتجاج

سندھی موجودہ نظام کو ایوب خان کے ون یونٹ سے تعبیر کر رہے ہیں

جامی چانڈیو کا موقف تھا کہ سندھ کو ایسے نظام کی ضرورت ہے جو انتظامی اور جغرافیائی وحدت کو یقینی بنائے اور لوگوں میں خلیج پیدا نہ کرے۔

شاعرہ اور کالم نویس امر سندھو کا کہنا تھا کہ سندھ کے عوام نے جس جماعت کو اقتدار کے منصب پر بٹھایا آج اس نے غداری کی ہے، اس وقت صورتحال ون یونٹ سے بدترین ہے کیونکہ ایوب خان کو سندھ کے عوام نے مینڈیٹ نہیں دیا تھا جبکہ موجودہ حکومت کو دیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ متحدہ قومی موومنٹ کے سیاسی دباؤ کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی نے اس آرڈیننس کو اسمبلی میں پیش کیا تھا۔ اس روز سے سندھ میں احتجاج کا سلسلہ جاری ہے، جس کے دوران پیپلز پارٹی کے صوبائی وزرا کے گھروں پر چوڑیاں اور توے لٹکائے گئے اور پرتشدد واقعات میں اب تک ایک سکیورٹی اہلکار سمیت دو افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

صورتحال اس قدر سنگین ہوچکی ہے کہ پیپلز پارٹی کا قلعہ اب اس کے منتخب نمائندو اور وزرا کے لیے نو گو ایریا بن گیا ہے اور سندھ پیپلز لوکل باڈیز قانون کی حمایت میں کوئی بات کرنے والا بھی دستیاب نہیں، اکثر صوبائی وزرا بھی اس موضوع پر بات کرنے سے کتراتے ہیں اور اطلاعات ہیں کہ وزیر اعلیٰ سید قائم علی شاہ نے وزرا کو سرگرمیاں تک محدود کرنے کی ہدایت کی ہے۔

سوشل میڈیا اور ایس ایم ایس پر بھی حکمران پیپلز پارٹی کے اس اقدام پر سخت تنقید ہو رہی ہے، کچھ پیغامات میں تو ذاتی طور پر بھی تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اخبارات میں کالم، مضمون اور اداریے تمام ہی اس نظام کے مخالفت میں لکھے جا رہے ہیں۔ سندھی نیوز چینلز کی کوریج بھی اسی نوعیت کی نظر آتی ہے۔

عوامی تحریک نے 14 اکتوبر کو تمام ہائی ویز کو بلاک کرنے کا اعلان کیا ہے اور اس کے اگلے روز پاکستان پیپلز پارٹی نے حیدرآباد میں جلسہ عام کرکے اپنی طاقت کے مظاہرے کا انتظام کیا ہے جس کی وجہ سے کارکنوں میں کشیدگی اور تصادم کا خدشہ موجود ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔