چار مبینہ شدت پسند گرفتار

آخری وقت اشاعت:  پير 8 اکتوبر 2012 ,‭ 11:57 GMT 16:57 PST

ان لوگوں کو کہاں سے گرفتار کیا گیا اور کہاں رکھا گیا ہے اس سلسلے میں کوئی بات نہیں کہی گئی

خفیہ اداروں نے ایک شدت پسند کلعدم تنظیم کے منجمد شدہ اکاؤنٹ سے بیس لاکھ روپے نکلوانے پر چار افراد کو حراست میں لے لیا ہے جبکہ ان افراد کا ساتھ دینے کے الزام میں مذکورہ نجی بینک کے ایک اہلکار کو بھی گرفتار کر لیا گیا ہے۔

وزارت داخلہ کے ایک اہلکار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ ان افراد کی گرفتاری اور ان سے کی جانے والی تفتیش کے بارے میں خفیہ اداروں نے ایک مصفل رپورٹ وزارِت داخلہ کو بھیجی ہے۔

اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گرفتار ہونے والے افراد کا تعلق جمعیت النصار سے ہے اور اُنہوں نے صوبہ خیبر پختون خوا کے شہر مانسہرہ میں ایک نجی بینک کے اکاؤنٹ سے بیس لاکھ روپے نکلوائے تھے جبکہ یہ اکاؤنٹ مذکورہ تنظیم کے نام سے تھا جو کہ سنہ دوہزار تین میں منجمند کر دیا گیا تھا۔

ابتدائی تفتیش کے دوران ان ملزمان نے انکشاف کیا ہے کہ وہ اس رقم سے ایک سکواڈ تشکیل دینا چاہتے تھے جس کو یہ ذمہ داری سونپی جانی تھی کہ وہ حکومت میں شامل اعلٰی شخصیات کے علاوہ اہم سرکاری اور فوجی عہدوں پر تعینات افسران کے قریبی رشتہ داروں کو اغوا کرنے کے بعد اپنے مطالبات کو تسلیم کروانا ہے۔ اس کے علاوہ یہ رقم تنظیم کے امور کی انجام دہی میں بھی استعمال ہونا تھی۔

ان افراد کو تفتیش کے لیے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔

ان افراد سے ہونے والی ابتدائی تفتیش سے حکومت اور متعلقہ وزارتوں کو بھی آگاہ کر دیا گیا ہے۔

اہلکار کے مطابق اس اکاؤنٹ کے منجمند ہونے سے مطابق سٹیٹ بینک نے سرکلر بھی جاری کیا تھا تاہم ان افراد نے نجی بینک کے اہلکار کی مدد سے جعلی دستاویزات تیار کر کے اس اکاونٹ سے رقم نکلوائی تھی۔

سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے دور میں سنہ دوہزار تین میں جمعیت النصار کو کالعدم تنظیم قرار دیا گیا تھا جو ابھی تک اس فہرست میں شامل ہے۔

وزارت داخلہ کے اہلکار کے مطابق اس معاملے کی چھان بین کرنے والے خفیہ اداروں نے اس بات کی بھی نشاندہی کی ہے کہ ان دنوں جمعت النصار کا رابطہ کالعدم تنظیمیں حاجی نامدار گروپ اور غازی فورس سے بھی ہے اور یہ تنظیمیں تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہیں۔

وزارت خزانہ کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ سٹیٹ بینک ہر تین ماہ کے بعد کالعدم تنظیموں کے اکاؤنٹس کی تفصیلات ایک سرکلر کے ذریعے سرکاری اور نجی بینکوں کو بھجوائی جاتی ہیں۔

وفاقی تحقیقاتی ادارے یعنی ایف آئی اے کا ونگ اسٹیٹ بینک سرکل بھی اس کالعدم تنظیموں کے نام سے منجمند کیے گئے اکاؤنٹس کی مانٹرینگ کرنے کے علاوہ اس بارے میں ہفتہ وار رپورٹ وزارت داخلہ اور وزارت خزانہ کو بھجوانے کا پابند ہے تاہم وزارت خزانہ کے اہلکار کے مطابق ایف آئی اے حکام کی طرف سےیہ رپورٹ باقاعدگی سے نہیں بھجوائی جا رہی۔

یاد رہے کہ اس سے پہلے خفیہ اداروں نے حکومت کو یہ بھی رپورٹ دی تھی کہ کالعدم تنظیموں کے خلاف ہونے والی کارروائی کی وجہ سے یہ تنظیمیں شدید مالی بحران کا شکار ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔