امن مارچ اور ڈرون، سوشل میڈیا کے ریڈار پر

آخری وقت اشاعت:  اتوار 7 اکتوبر 2012 ,‭ 15:40 GMT 20:40 PST

پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کا وزیرستان میں جلسے کا منصوبہ تو پورا نہ ہوا مگر انہوں نے کامیابی سے میڈیا اور خصوصی طور پر سوشل میڈیا یا سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر ڈرون حملوں کے بارے میں ایک بحث شروع کی ہے۔

اس سارے عمل کا ایک نمایاں پہلو یہ ہے کہ پوری دنیا کے میڈیا یا میڈیا کی شخصیات میں سے ایک بڑی تعداد کسی نے کسی رنگ میں اس بارے میں بات کر رہے ہے۔

ٹوئٹر اور فیس بک پر ایک واضح طریقے پر ڈرون حملوں کے خلاف اور اس مارچ کے حق میں بات ہو رہی ہے اور اسی طرح طالبان کے حملوں اور اس مارچ کے خلاف ایک نمایاں طبقہ اپنے موقف کو نمایاں کر رہا ہے۔

عمران خان نے ایک ٹوِیٹ میں لکھا ’ڈیرہ اسماعیل خان میں جذباتی اور پرجوش استقبال۔ امن مارچ لوگوں کے ڈرون حملوں کے خلاف غصے کے اظہار کا ایک ذریعہ بن گیا ہے‘

دوسری جانب عوامی نیشنل پارٹی کی مرکزی رہنما بشری گوہر نے ٹویٹ کی کہ ’امید ہے امن مارچ کرنے والے خیبر پختونخوا پولیس کی اُن کی حفاظت کو یقینی بنانے کی کوششوں کو سراہیں گے اور ان کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کریں گے جو طالبان کا نشانہ ہیں‘۔

پاکستان کے ایک ٹی وی اینکر ڈاکٹر شاہد مسعود نے ٹویٹ کی کہ ’اگلا مارچ تحریک طالبان پاکستان اور ان مجرموں کے خلاف ہونا چاہیے جو قانون نافذ کرنے والے اداروں اور معصوم انسانوں کے قتل اور انہیں بم دھماکوں کا نشانہ بنانے اور اغوا کرنے میں ملوث ہیں،۔

سید انصر عباس جن کا تعلق ڈیرہ اسماعیل خان سے ہے اور ان کی ٹوئٹر پروفائل پر لکھا ہے کہ ’انہوں نے اپنے دونوں ہاتھ انیس اگست دو ہزار آٹھ کو ڈیرہ اسماعیل خان کے ایک ہسپتال میں ہونے والے بم دھماکے میں کھو دیے تھے‘۔

" ڈرون حملوں کو غیر قانونی اور غیر اخلاقی کہنے کو ٹی ٹی پی ( تحریک طالبان پاکستان) کی حمایت کے طور پر کیوں دیکھا جاتا ہے؟ ان حملوں سے تو شدت پندی میں اضافہ ہوتا ہے اور طالبان کو نئے کارکن ملتے ہیں۔"

ایک وکیل بابر ستار کی ٹویٹ

انصر نے ٹوئٹر پر لکھا ’ عمران خان ڈیرہ اسماعیل خان کی سر زمین پہ ڈرون حملوں کی تو بات کر رہے ہیں مگر ہم ڈیرہ والوں پہ طالبان نے جو مظالم ڈھائے،ان کا ذکر اب تک بھی نہیں‘؟

ایک وکیل بابر ستار نے ٹویٹ میں لکھا ہے ’ ڈرون حملوں کو غیر قانونی اور غیر اخلاقی کہنے کو ٹی ٹی پی ( تحریک طالبان پاکستان) کی حمایت کے طور پر کیوں دیکھا جاتا ہے؟ ان حملوں سے تو شدت پندی میں اضافہ ہوتا ہے اور طالبان کو نئے کارکن ملتے ہیں ‘

اسی طرح بی بی سی اردو کی ویب سائٹ اور فیس بک کے صفحے پر ایک بحث جاری ہے جس میں موضوع بحث اس ریلی اور جلسے کے مقاصد ہیں۔

اس پر تبصرہ کرتے ہوئے ایک قاری سید مقدر شاہ نے لکھا ’ اقتدار کے پجاریوں تک مظلوموں کی آواز پہنچانے کا عظیم مارچ، تاریخ ایسے لوگوں کو کبھی بھلا نہیں پائے گی‘۔

ایک اور قاری درک بلوچ نے لکھا ’ عمران خان فوج کی آشیرباد سے یہ سب کچھ کررہے ہیں اور مقصد صرف اقتدار حاصل کرکے فوج نے جو پالیسی بلوچستان اور قبائلی علاقوں میں پی پی پی کو دے رکھی ہے ان کو آگے بڑھانا ہے‘۔

ایک اور قاری سعید احمد نے لکھا ’ کوچۂ سیاست میں ایک نئی حماقت ‘۔

عبدالماجد نے فیس بک پر لکھا ’ اگر آپ فائدے کی بات کریں تو پارلیمنٹ کی قرادادوں سے لے کر میرے اس کمنٹ کرنے کا بھی کوئی فائدہ نہیں ہے اور آپ کے پڑھنے کا بھی کوئی فائدہ نہیں ہے۔ اور یہ دوستوں نے صحیح کہا کہ یہ اقدام سیاسی ہی تھا مگر اور کوئی سیاسی پارٹی کیوں آگے نہیں آئی ؟ پی ٹی آئی ہی کیوں؟
اسی طرح بہت سے افراد نے سوشل میڈیا پر عمران خان کو طالبان کے بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے پر پابندی کا حوالہ دے کر لکھا کہ یہ معاملہ بھی ان کی توجہ کا منتظر ہے۔

اسی پر تبصرہ کرتے ہوئے اے این پی کی بشری گوہر نے لکھا ’طالبان نے وزیرستان میں پولیو کے قطرے پلانے پر پابندی لگا کر بچوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال دیا ہے، طالبان خان (عمران خان) کو جب وہ اس علاقے میں ہوں کچھ بچوں کو قطرے پلانے چاہئیں‘۔

صحافی مرتضیٰ سولنگی نے تنزیہ انداز میں لکھا ’ ہم طالبان بچانے نکلے ہیں۔ آؤ ہمارے ساتھ چلو ‘۔

"اس ناہموار خطۂ زمین کی خوبصورتی بس ہوش اڑا دینے والی ہے۔ کاش یہاں امن ہو اور سب اس علاقے کو بے خوف و خطر دیکھ سکیں۔"

محمد مالک نے ٹویٹر پر لکھا

امن مارچ اور پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ ساتھ ڈرون حملے روکنے کا ہیش ٹیگ پاکستان میں ٹوئٹر پر دن کے کافی حصے میں ٹرینڈ کرتا رہا۔

ٹوئٹر پر ٹرینڈ کرنے کا مطلب ہے کہ بہت سارے افراد اس پر بات کر رہے تھے۔

اسی طرح بہت سے لوگوں نے عمران خان کے وزیرستان نہ جانے اور کاوڑ کی چوکی پر روکنے پر رک کر جلسہ ٹانک میں کرنے کے فیصلے کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا جیسا کہ ایک قاری نے بی بی سی اردو کے فیس بک صفحے پر لکھا ’کوئی کیلا کھا رہا ہو تو اسے سیب کہتا ہے اور کوئی ٹانک جا رہا ہو تو اسے وزیرستان کہتا ہے‘۔

اسی طرح اس جلوس نے بہت سارے لوگوں کو اس علاقے کی خوبصورتی کا مشاہدہ کرنے کا بھی ایک منفرد موقع فراہم کیا۔

محمد مالک نے ٹویٹ کی کہ ’اس ناہموار خطۂ زمین کی خوبصورتی بس ہوش اڑا دینے والی ہے۔ کاش یہاں امن ہو اور سب اس علاقے کو بے خوف و خطر دیکھ سکیں‘۔

بشریٰ گوہر نے مشورہ دیتے ہوئے لکھا کہ ’کیا موسیقی کا اہتمام ہے کوٹ کئی میں؟ امید ہے کہ پی ٹی آئی والوں کی بجائے محسود اپنا اتان پیش کریں گے جو کہ محسور کر دینے والا رقص ہے‘۔

یہ ساری مباحثے ایک طرف مگر اس ریلی اور اس کے گرد پھیلی ہوئی غیر یقینی کیفیت نے ڈرون حملوں کی جانب بہت بڑی تعداد میں لوگوں کی توجہ کامیابی سے مبذول کروائی ہے۔ جلسہ کرنا یا نہ کرنا ایک طرف مگر جیسا کہ ایک قاری عمران سمیر نے فیس بک پر لکھا کہ ’میڈیا اور سیاستدانوں کی دکانداری کئی دنوں تک چلتی رہی اور بہت سوں نے خوب کمایا، یہ الگ بات ہے کس نے کیا کمایا اور کیسے‘۔

اسی بارے میں

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔