’نئے افسران شورش زدہ علاقوں میں تعینات کریں‘

آخری وقت اشاعت:  پير 8 اکتوبر 2012 ,‭ 10:18 GMT 15:18 PST

پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں موجودہ بدامنی پر کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس پاکستان افتخار محمد چوہدری نے صوبائی حکام کو احکامات جاری کیے کہ صوبے میں تقرر کیے گئے نئے پولیس افسران کو شورش زدہ علاقوں میں تعینات کیا جائے۔

سپریم کورٹ میں بلوچستان بدامنی کیس کی سماعت چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی۔

چیف جسٹس نے سماعت میں صوبے میں بڑھتے ہوئے پرتشدد واقعات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

چیف جسٹس نے صوبائی حکومت سے لاپتہ افراد اور اغوا برائے تاوان کے واقعات کی تفصیلات طلب کیں۔

جسٹس افتخار محمد چوہدری نے سماعت کے دوران انسپکٹر جنرل بلوچستان سے استفسار کیا کہ صوبے میں تعینات کیے گئے تیس پولیس افسران کی ابھی تک تقرریاں کیوں نہیں ہوئیں۔

انگریزی اخبار ڈان کے مطابق چیف جسٹس نے کہا کہ صوبے کے پشتوں علاقوں میں امن و امان کی صورتحال بہتر ہے۔ انہوں نے احکامات دیے کہ نئے پولیس افسران کو بلوچستان کے شورش زدہ علاقوں میں تعینات کیا جائے۔

چیف جسٹس نے اس امر پر حیرت کا اظہار کیا کہ بلوچستان سے تعلق رکھنے والے کئی پولیس افسران کی تقرری کبھی بھی صوبے میں نہیں ہوئی۔

بینچ میں شامل جسٹس خلجی عارف نے بلوچستان کے چیف سیکریٹری سے صوبے میں امن و امان کی صورتحال پر رپورٹ طلب کی۔

انہوں نے سماعت کے دوران چیف سیکریٹری سے استفسار کیا کہ آیا ایف سی کی تعیناتی کے بعد صوبے میں امن و امان کی صورتحال بہتر ہوئی ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔