قانونی انداز میں جاسوسی کا بل اسمبلی میں پیش

آخری وقت اشاعت:  منگل 9 اکتوبر 2012 ,‭ 00:47 GMT 05:47 PST

اس قانون کا مقصد انٹیلجنس ایجنسیوں کی من مانیوں کو روکنا ہے: وزیر قانون

پاکستان کے وزیر قانون نے قومی اسمبلی میں ایسا مسودہ قانون پیش کیا ہے جس کے تحت ملک کی انٹیلیجنس ایجنسیاں اور تحقیقاتی ادارے عدلیہ کی پیشگی اجازت سے کسی بھی مشتبہ شخص کی نگرانی کر سکیں گے۔

پاکستان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق وفاقی وزیر قانون فاروق ایچ نائیک نے پیر کو اسمبلی میں بل کے مقاصد بیان کرتے ہوئے کہا کہ اس نئے قانون کے تحت شہریوں کے بنیادی حقوق کی بےجا خلاف ورزیوں کو روکنے کی کوشش کی گئی ہے۔

اس بل کے تحت کے سیکیورٹی اداروں کا کوئی بھی مجاز افسر کسی بھی مشتبہ شخص کی نگرانی کے لیے وارنٹ کے اجرا کے لیے ضلع کے سب سے اعلیٰ عدالتی افسر، سیشن جج سے رجوح کرے گا۔ سیشن جج اس درخواست کا بند کمرے میں جائزہ لے کر نگرانی کے وارنٹ جاری کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ کرے گا۔

اس قانونی مسودے کو فیئر ٹرائل ایکٹ کا نام دیا گیا ہے۔

وزیر قانون کے مطابق اس کا مقصد انٹیلیجنس ایجنسیوں اور تحقیقاتی اداروں کی من مانیوں کو روکنا اور انہیں خفیہ معلومات کے حصول کے عمل میں قانون کے دائرہ کار میں رکھنے کی کوشش ہے۔

وزیر قانون نے اس امید کا اظہار کیا کہ اس بل کی منظوری کے بعد سرکاری ادارے شفاف انداز میں شواہد حاصل کر پائیں گے جسے عدالتوں میں شہادت کے طور پر پیش کیا جا سکے گا۔

انہوں نے کہا کہ ابھی تک قانون نافذ کرنے والے اداروں اور انٹیلجس ایجنسیوں کے پاس خفیہ ذرائع سے شواہد حاصل کرنے کے عمل کو مکمل قانونی تحفظ حاصل نہیں ہے۔

انہوں نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ اس قانون کے موجودگی میں قانون نافذ کرنے والے ادارے ایسے اشخاص کی موثر انداز میں نگرانی کر پائیں گے جو کسی جرم میں ملوث ہیں یا جرم کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔

اسی بل میں انٹیلجنس ا یجنسیوں اور دیگر تحقیقاتی ادارے عدالت کی پیشگی اجازت سے کسی بھی مشتبہ شخص کی ای میل، ایس ایم ایس ، انٹرنیٹ پروٹول ڈیٹیل ریکارڈ (آئی پی آر ڈی) اور موبائل فون کے ذریعے ہونے والی پیغام رسانی کی نگرانی کر سکیں گے۔

البتہ یہ قانون انٹیلجنس ایجنسیوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اعلیٰ افسران کو کسی بھی شخص کی نگرانی کی ’عبوری اجازت‘ جاری کر سکتا ہے جسے بعد میں سیشن جج کے سامنے پیش کرنا لازمی ہو گا۔

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔