ملالہ پر حملہ: قومی اسمبلی کا ماحول سوگوار

آخری وقت اشاعت:  بدھ 10 اکتوبر 2012 ,‭ 13:17 GMT 18:17 PST

قومی اسمبلی میں بحث کے دوران جمیعت علماء اسلام (ف) کے بعض اراکین کِِھسک گئے

پاکستان کی قومی اسمبلی میں ملالہ یوسفزئی پر حملے کے خلاف بحث کے دوران بعض اراکین رو پڑے اور کئی کی آواز بھر آئی جس سے ماحول سوگوار ہوگیا۔

موجودہ اسمبلی میں طالبان کی جانب سے ایک لڑکی کو کوڑے مارنے کی ویڈیو سامنے آئی تھی اس وقت بھی طالبان کے خلاف ہونے والی اسمبلی اراکین کی تقاریر میں اتنی نفرت اور حقارت نظر نہیں آئی جتنی ملالہ یوسفزئی پر حملے کے خلاف تمام جماعتوں کے اراکین نے یک آواز ہو کر اپنے غم و غصے کا اظہار کیا۔

مسلم لیگ (ق) کی بشریٰ رحمٰن رو پڑیں اور ان سمیت کچھ اراکین نے ملالہ یوسفزئی کی ہمت کو سلام پیش کرتے ہوئے اشعار پڑھے۔ مقررین نے ملالہ کو جہالت کے خلاف جہاد کرنے اور تعلیم کی شمع جلانے والی بچی قرار دیتے ہوئے ان کا مشن آگے بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا۔

کئی اراکین جذباتی نظر آئے اور ملالہ پر حملہ کرنے والوں کو مکروہ، بدبودار، درندہ، بدکردار، انسانیت کش اور کمینہ قرار دیا اور کوئی بھی لفظ کارروائی سے حذف نہیں کیا گیا۔

بشریٰ رحمٰن نے کہا کہ حملہ آوروں میں انسانیت نہیں رہی۔ یاسمین رحمٰن اور فوزیہ حبیب سمیت کچھ خواتین نے کہا کہ ملالہ کو لگنے والی گولی ان سے ان کی صلاحیت نہیں چھین سکتی۔ انہوں نے کہا ’ہر گھر میں ملالہ پیدا ہوں گی۔ تم کتنی ملالہ مارو گے۔‘

قومی اسمبلی میں بحث کے دوران بیشتر اراکین نے طالبان کا نام نہیں لیا بلکہ ’ان کو‘ یا ’حملہ آوروں کو‘ یا ’دہشت گردوں کو‘ سزا دینے کے الفاظ استعمال کیے۔

وزیر قانون فاروق نائیک نے قومی اسمبلی میں جو قرارداد پیش کی اس میں طالبان کا نام نہیں لیا گیا بلکہ ان کے لیے دہشت گردوں کا لفظ استعمال کیا۔

بحث کے دوران جمیعت علماء اسلام (ف) کے بعض اراکین وہاں سے چلے گئے۔

ایک موقع پر جب مولانا فضل الرحمٰن کے بھائی مولانا عطاء الرحمٰن نے ملالہ یوسفزئی پر حملے کی مذمت کے بعد طالبان سے مذاکرات کرنے کی ترغیب دی اور انہیں ناراض بچوں سے تعبیر کیا تو مسلم لیگ (ن) کے ایاز امیر نے ان پر تنقید کی۔

" مذہبی جماعتوں اور علماء جس طرح ممتاز قادری اور رمشاء کے معاملے پر جلوس نکالتے ہیں یا فتویٰ جاری کرتے ہیں اب ملالہ پر حملے کے بارے میں بھی کھل کر موقف اپنائیں اور فتویٰ دیں کہ ایسے حملے اسلام کے خلاف ہیں یا نہیں؟۔"

ایاز امیر، خوش بخت شجاعت

ایاز امیر اور متحدہ قومی موومنٹ کی خوش بخت شجاعت نے مذہبی جماعتوں اور علماء پر زور دیا کہ وہ جس طرح ممتاز قادری اور رمشاء کے معاملے پر جلوس نکالتے ہیں یا فتویٰ جاری کرتے ہیں اب ملالہ پر حملے کے بارے میں بھی کھل کر موقف اپنائیں اور فتویٰ دیں کہ ایسے حملے اسلام کے خلاف ہیں یا نہیں؟

عوامی نیشنل پارٹی کی جمیلہ گیلانی نے پشتون تاریخ کے ایک مزاحمتی کردار ’ملالئی‘ کا ذکر کیا اور سوات کی چودہ سالہ ملالہ کو اس کا تسلسل قرار دیا۔

جمیلہ خان نے تو ’ملالئی‘ کے تاریخی کردار کا زیادہ تذکرہ نہیں کیا لیکن تاریخ کے بیشتر طالب علم جانتے ہیں کہ پاکستان اور افغانستان کے پشتونوں میں ’ملالئی‘ بہادری اور مزاحمت کا ایسا کردار ہے جس سے انہیں بے حد عقیدت رہی ہے۔

’ملالئی‘ سنہ اٹھارہ سو اسی میں میوند کی جنگ میں انگریزوں سے لڑنے والی پشتون فوج کا حصہ تھیں۔ انیس سالہ ’ملالئی‘ کے منگیتر اس وقت افغان فوج کے کمانڈر ایوب خان کی فوج میں شامل ہوئے۔ ملالئی پہلے تو زخمی افغان فوجیوں کی تیمارداری کرتی انہیں پانی اور کھانا وغیرہ دیتی رہیں لیکن جب افغان فوج کا پرچم پکڑے ہوئے سپاہی کو گولی لگی تو انہوں نے پرچم پکڑا اور گرنے نہیں دیا۔

انہوں نے اپنے لڑنے والے منگیتر کو مخاطب کرکے پشتو میں شعر پڑھا، جس کا مطلب تھا کہ ’میرے محبوب اگر تم اس لڑائی میں پیچھے ہٹے تو خدا کی قسم لوگ تم کو بے شرمی اور بزدلی کی علامت بنادیں گے۔‘

افغان جنگ میں جب ’ملالئی‘ نے پرچم پکڑا تو انہیں بھی قتل کر دیا گیا۔ آج بھی افغانستان کی نصابی کتابوں میں جہاں ان کا ذکر ہے وہاں ان کے نام سے کچھ سکول اور ہسپتال بھی منسوب ہیں۔

آج کی ملالہ یوسفزئی نے تین برس قبل گیارہ برس کی عمر میں جب طالبان سوات میں لڑکیوں کے سکول بند کروا رہے تھے اس وقت لڑکیوں کی تعلیم کے لیے آواز بلند کی تھی۔ کئی اراکین نے انہیں ’تعلیم کا سفیر‘ اور ’جہالت کے خلاف جنگ کا ہیرو‘ قرار دیا۔

بعض اراکین نے حکومت اور سیکورٹی فورسز پر بھی تنقید کی اور کہا کہ وہ قوم کے بچوں کی حفاظت کیوں نہیں کرتے۔ کچھ اراکین نے بری فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی اور صدرِ پاکستان آصف علی زرداری کا نام لے کر ملزمان کو گرفتار کر کے انہیں کیفر کردار تک پہنچانے کا مطالبہ بھی کیا۔

اکثر مقررین نے حکومت پر زور دیا کہ وہ پارلیمان سے محض قرارداد منظور کرانے تک محدود نہ رہیں بلکہ حملہ آوروں کی سوچ کو مات دینے کی حکمت عملی مرتب کرے اور انہیں عبرتناک سزا دینے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔

انہوں نے کہا کہ اس کیس کے بارے میں پیش رفت سے پارلیمان کو وقتاً فوقتاً آگاہ کیا جائے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔