طالبان کو طالبان نہ کہنے میں مصلحت کیا ہے

آخری وقت اشاعت:  بدھ 10 اکتوبر 2012 ,‭ 14:25 GMT 19:25 PST

پاکستان کی بیٹی ملالہ یوسفزئی پر حملے کرنے والے کون تھے یہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان کی مہربانی سے واضح ہوگیا ہے۔ لیکن پھر بھی اکثر سیاست دان مصلحتوں کا شکار ہو کر اپنے مذمتی بیانات میں طالبان کا لفظ استعمال کرنے سے کترا رہے ہیں۔ اس سے زیادہ ستم ظریفی اور کیا ہو سکتی ہے۔ اس بابت پارلیمان کی متفقہ قرار داد اور فوجی سربراہ کا بیان بھی قابل ذکر ہے۔

پاکستان فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی کی واقعے کے چوبیس گھنٹوں سے بھی کم وقت میں پشاور آمد اور ہسپتال میں ملالہ یوسفزئی کی خیریت معلوم کرنا انتہائی احسن اقدام قرار دیا جا رہا ہے۔ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے سیاستدانوں کو ایک مرتبہ پھر پیچھے چھوڑ دیا ہے۔

لیکن فوجی سربراہ نے دورے کے بعد ایک تفصیلی بیان بھی جاری کیا جس میں غالباً پہلی مرتبہ بڑے حروف میں اپنے اس عزم کو دہرایا کہ یہ جنگ ان کی اپنی جنگ ہے اور ہر قیمت پر جیتیں گے۔ لیکن اس میں انہوں نے طالبان کا لفظ استعمال نہیں کیا بلکہ ’دہشت گرد‘ کہا ہے۔ اور یہی قومی اسمبلی کی قرار داد کے بارے میں دیکھنے کو ملا ہے۔

وزیر اعظم کا کل کا قومی اسمبلی میں پالیسی بیان ہو یا صدر آصف علی زرداری کا مذمتی بیان کسی نے طالبان لفظ استعمال نہیں کیا۔ لیکن دلچسپ صورتحال حکمراں جماعت پیپلز پارٹی کے چیرمین بلاول بھٹو زرداری کے اس واقع پر بیان سے متعلق دیکھنے کو ملی۔ سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی نے واقع کے روز شام کو ان سے منسوب ایک بیان میں واضح طور پر کہا کہ ’تحریک طالبان پاکستان پاکستان، اسلام اور انسانیت کے دشمن ہیں‘۔

بدھ کو سرکاری ویب سائٹ پر جب اس بیان کو دوبارہ تلاش کرنے کی کوشش کی تو وہ نہیں ملا۔ ہاں سٹراس برگ سے ایک ملا جلا بیان سامنے آیا جس میں نہ تو تحریک طالبان کا نام ہے اور نہ ہی طالبان۔ وہی دہشت گرد کی گردان دیکھنے کو ملی۔ تو یہ سرکاری سطح پر کوئی فیصلہ لگتا ہے کہ طالبان کو طالبان نہیں دہشت گرد ہی کہنا ہے۔

زیادہ سخت لفظ

بعض لوگوں کا موقف ہے کہ شاید دہشت گرد زیادہ سخت اور واضح لفظ ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ طالبان کہنے میں کیا مضائقہ ہے۔ انہیں ان کے نام سے پکارنے میں کون سی مصلحت ہے۔ کچھ لوگوں کے خیال میں شاید ان کے نزدیک طالبان کے لیے اب بھی کوئی نرم گوشہ جو وہ انہیں نام سے یاد کرنے سے انکار کر رہے ہیں۔ اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ تمام ریاست طالبان کے سامنے بےبس ہے۔

دوسری جانب اگر شدت پسندوں کی پالیسی دیکھیں تو انہوں نے ہمیشہ پولیس کو پولیس، فوج کو فوج اور حکومت کو حکومت ہی کہا ہے۔ اس سے زیادہ یا کم کچھ نہیں۔ سابقے اور لاحقے وہ ضرور لگاتے رہے ہیں ان کے ساتھ لیکن جو ان کے نام ہیں انہیں سے ان کو پکارا ہے۔

بعض لوگوں کا موقف ہے کہ شاید دہشت گرد زیادہ سخت اور واضح لفظ ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ طالبان کہنے میں کیا مضائقہ ہے۔ انہیں ان کے نام سے نہ پکارنے میں کون سی مصلحت ہے۔ کچھ لوگوں کے خیال میں شاید ان کے نزدیک طالبان کے لیے اب بھی کوئی نرم گوشہ موجود ہے جس کے باعث وہ انہیں نام سے یاد کرنے سے انکار کر رہے ہیں۔ اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ تمام ریاست طالبان کے سامنے بےبس ہے۔

فوجی سربراہ کے اس اظہار یکجہتی کے باوجود عام لوگوں کی اکثریت ملٹری کے کردار سے مطمئن نہیں۔ سچی بات یہ ہے کہ ماضی کو لے کر فوج کا تاثر ہے جو دور نہیں ہو رہا۔ ’بوتل سے جان بوجھ کر نکالا ہوا جن خود فوج کے قابو میں نہیں‘ یہ مفروضہ تسلیم کرنے والوں کی تعداد بہت کم ہے۔ تین چار دہائیوں کی پالیسیوں کی وجہ سے وہ بدنامی ہوئی اسے نیک نامی میں تبدیل کرنے میں بھی شاید فوج کو اتنا ہی وقت لگے۔

لیکن اس سے زیادہ اہم اس حملے کی وجوہات پر بحث ہے۔ ایسے ہر دل سوز واقعے کے بعد سوال اٹھتے ہیں کہ اس کا کون ذمہ دار ہے؟ کیوں اُسے نہیں بچایا جا سکا اور یہ کس کی غفلت ہے؟ سازشی مفروضے بھی گردش شروع کر دیتے ہیں۔ ایسے میں سچ کی تلاش یقیناً ناممکن ہو جاتی ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔