پاکستانی عوام ملالہ کے ساتھ، طالبان مخالف مظاہرے

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 11 اکتوبر 2012 ,‭ 12:30 GMT 17:30 PST

ملالہ پر حملہ، پاکستانی قوم سراپا احتجاج

ملالہ پر حملہ، پاکستانی قوم سراپا احتجاج

دیکھئیےmp4

اس مواد کو دیکھنے/سننے کے لیے جاوا سکرپٹ آن اور تازہ ترین فلیش پلیئر نصب ہونا چاہئیے

متبادل میڈیا پلیئر چلائیں

سوات میں ملالہ یوسفزئی پر طالبان حملے کے بعد پاکستان میں طالبان مخالف جذبات کی ایک لہر دوڑ گئی ہے۔ ملک بھر میں اس حملے کے بعد سے طالبان کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے گئے ہیں۔

ان مظاہروں میں عام شہریوں کی بڑی تعداد کے علاوہ مختلف سیاسی جماعتوں اور غیر سرکاری تنظیموں کے ارکان بھی نظر آئے۔

کلِک ملالہ یوسفزئی پر حملے کے خلاف ملک گیر احتجاج

کلِک وہ جو بچیوں سے بھی ڈر گئے۔۔۔

کلِک ملالہ پر حملے پر ردِعمل

جمعرات کو وفاقی وزیر برائے اطلاعات و نشریات قمر زمان کائرہ نے ایک نجی چینل سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس حملے نے ملک میں شدت پسند سوچ اور ترقی پسند نظریات کے درمیان ایک واضح فرق پیدا کر دیا ہے۔

ملک کے مختلف شہروں میں ہونے والے مظاہروں میں شرکاء نے شدید غم و غصے کا اظہار کیا اور طالبان کے خلاف نعرے بازی کی۔

پاکستان میں انسانی حقوق کی نگراں تنظیم ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے طالبان کے اس اقدام کو ایک بیان میں ’انتہائی بزدلانہ‘ قرار دیا ہے۔

ملالہ یوسفزئی

ملالہ یوسفزئی پر حملے کے خلاف ملک گیر احتجاج کا سلسلہ جاری ہے

جمعرات کی دوپہر لاہور میں سیاسی جماعت پاکستان تحریکِ انصاف کی خواتین کارکنوں نے بھی ملالہ کی جلد صحت یابی کے لیے اجتماعی دعا کا اہتمام کیا۔ اس سے پہلے منہاج القران ویمن ونگ نے بھی لاہور میں مظاہرہ کیا جس میں انہوں نے ملالہ کی مختلف تصاویر اور حملے کے خلاف مزاحمتی پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے۔

لاہور میں گورنر ہاؤس میں بھی جمعرات کی صبح ملالہ کی جلد صحت یابی کے لیے خصوصی دعا کی گئی جس میں گورنر خیبر پختونخوا نے بھی شرکت کی۔

لاہور کی ضلعی بار ایسوسی ایشن کے ارکان ملالہ یوسفزئی پر حملہ کے خلاف احتجاج کے دوران اہم اور ہنگامی نوعیت کے مقدمات میں ماتحت عدالتوں کے روبرو کالی پٹیاں باندھ کر پیش ہوئے اور گیارہ بجے کے بعد انہوں نے ہڑتال کی۔

لاہور کی ضلعی بار اور لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے الگ الگ اجلاس ہوئے جس میں مذمتی قرار دادیں منظور کی گئیں۔ وکلا نے ملالہ یوسفزئی کی صحت یابی کے لیے دعا بھی مانگی۔

پنجاب کے دیگر شہروں میں کئی مظاہروں کا انعقاد کیا گیا جس کی مثال چکوال میں عوامی پارٹی کے زیرِ اہتمام تلہ گنگ میں نکالی جانے والی ریلی تھی جس کی قیادت پارٹی کے پنجاب کے صدر ایوب ملک نے کی۔ ملتان شہر میں بھی طالبان مخالف احتجاج کیا گیا جس میں شرکاء نے لاؤڈ سپیکر کے ذریعے طالبان کی سوچ کو رد کرنے کے نعرے لگائے۔

اس سے قبل بدھ کو بھی مظاہروں کا سلسلہ جاری رہا تھا۔

ملالہ پر حملے کی مذمت

پشاور میں نکالی گئی ایک ریلی میں ملالہ پر حملے کی شدید مذمت کی گئی

دارالحکومت اسلام آباد میں تقریباً ڈھائی سو سول سوسائٹی ممبران اور انسانی حقوق کے کارکنوں نے نیشنل پریس کلب کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرے میں شریک سماجی کارکن فرزانہ باری کا کہنا تھا کہ اُن کے جن عزائم کی وجہ سے ملالہ کی جان لینے کی کوشش کی گئی، ان مقاصد کے لیے پورے پاکستان کے عوام ملالہ کے ساتھ کھڑی ہے۔‘

شرکاء کا کہنا تھا کہ ہمیں اس حملے کے خلاف اس لیے بار بار بولنا ہے کیونکہ اس کا نہ کسی مذہب میں اور نہ ہی کسی ثقاقت میں جواز ہے۔

پشاور میں مختلف احتجاجی مظاہروں کا انعقاد ہوا جس میں سے ایک عوامی نیشنل پارٹی کے زیرِ اہتمام تھا جبکہ دیگر میں انسانی حقوق کے کارکنوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

کراچی میں متحدہ قومی موومنٹ کے زیرِ اہتمام ایک مظاہرہ کیا گیا جس میں خواتین کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔ کئی شرکاء نے ملالہ کی تصاویر اٹھا رکھی تھیں اور ان کی صحت یابی کے لیے دعائیں کیں گئیں۔

بی بی سی اردو سروس میں گل مکئی کے نام سے سوات سے ڈائریاں لکھ کر عالمی شہرت حاصل کرنے والی ملالہ یوسفزئی کو منگل کے روز سوات کے صدر مقام مینگورہ نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے شدید زخمی کر دیا تھا۔ طالبان نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔

اس حملے میں امن ایوارڈ یافتہ طالبہ ملالہ یوسفزئی سمیت دو طالبات زخمی ہوگئی تھیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔