ملالہ یوسف زئی:جبر کے خلاف مزاحمت کی علامت

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 11 اکتوبر 2012 ,‭ 09:24 GMT 14:24 PST

پاکستان کی طالبہ ملالہ یوسف زئی پہلی مرتبہ دو ہزار نو میں عوامی توجہ کا مرکز بنیں جب انہوں نے بی بی سی اردو کے لیے ڈائری لکھنا شروع کی جس میں وہ طالبان کے دور میں اپنی زندگی کا احوال بیان کیا کرتی تھیں۔ اب وہ پھر سے مرکزِ توجہ ہیں کیونکہ وہ دہشت گردوں کی گولی کا نشانہ بننے کے بعد صحت یابی کے عمل سے گزر رہی ہیں۔

ملالہ نے گیارہ برس کی عمر میں یہ ڈائری لکھنا شروع کی۔ وہ اپنے بلاگز میں سوات کے علاقے مینگورہ میں طالبان کے زیرِ اثرگزرنے والے زندگی کے واقعات بیان کرتی تھیں۔

میں خوفزدہ ہوں: تین جنوری دو ہزار نو

’کل پوری رات میں نے ایسا ڈراؤنا خواب دیکھا جس میں فوجی، ہیلی کاپٹر اور طالبان دکھائی دیے۔ سوات میں فوجی آپریشن شروع ہونے کے بعد اس قسم کے خواب بار بار دیکھ رہی ہوں۔ ماں نے ناشتہ دیا اور پھر تیاری کرکے سکول کے لیے روانہ ہوگئی۔ مجھےسکول جاتے وقت بہت خوف محسوس ہو رہا تھا کیونکہ طالبان نے اعلان کیا ہے کہ لڑکیاں سکول نہ جائیں۔

آج ہماری کلاس میں ستائیس میں سے صرف گیارہ لڑکیاں حاضر تھیں۔ یہ تعداد اس لیے کم ہوگئی ہے کہ لوگ طالبان کے اعلان کے بعد ڈرگئے ہیں۔

ایک بجکر چالیس منٹ پر سکول کی چھٹی ہوئی۔گھر جاتے ہوئے راستے میں مجھے ایک شخص کی آواز سنائی دی جو کہہ رہا تھا: ’میں آپ کو نہیں چھوڑوں گا‘۔ میں ڈرگئی اور اپنی رفتار بڑھادی۔جب تھوڑا آگے گئی تو پیچھے مڑ کر دیکھا تو وہ کسی اور کو فون پر دھمکیاں دے رہا تھا، میں یہ سمجھ بیٹھی کہ وہ شاید مجھے ہی کہہ رہا ہے۔‘

دو ہزار نو میں طالبان نے سوات کے زیادہ تر حصے پر کنٹرول حاصل کرکے وہاں شریعت کی سخت ترین تشریح کا نفاذ کر دیا۔

گذشتہ برس ملالہ نے بی بی سی کو بتایا ’جب طالبان سوات آئے تو انہوں نے عورتوں کا بازاروں میں جانا اور خریداری کرنا بند کروا دیا‘۔ لیکن ملالہ کو طالبان پر سب سے بڑا اعتراض خواتین کی تعلیم پر پابندی کے حوالے سے تھا۔ شدت پسندوں نے دو ہزار آٹھ میں سوات میں ڈیڑھ سو سے زائد سکول تباہ کیے۔

پاکستان میں روزنامہ ٹیلیگراف کے نامہ نگار راب کریلی نے کا کہنا ہے کہ ’ملالہ یوسف زئی چند بہادر آوازوں میں سے ایک ہیں۔ انہوں نے گمنام ہو کر آواز اٹھائی ورنہ انہیں فوری طور پر مار دیا جاتا۔‘

ملالہ پر حملے کے خلاف ملک میں احتجاجی ریلیاں بھی نکالی گئی ہیں

گارڈین کی حلیمہ منصور ملالہ کو ان کی بہادری اور آزادی کی بنا پر ایک نوجوان ’پاکستانی ہیروئین‘ قرار دیتی ہیں۔ ’ملالہ مغربی پشت پناہی یا طالبان کے حمایتی ذہنیتوں کے ہاتھوں کھیلنا نہیں چاہتی تھی۔ اس نے ہمیں دکھایا کہ پاکستان میں ایسی آوازیں بھی ہیں جنہیں سنا جانا چاہیئے۔ اور جمہوریت کے حصول کے لیے ایسا کرنا ضروری ہے۔ جمہوریت جو لوگوں کے لیے ہے، تمام لوگوں کے لیے‘۔

پیر، پانچ جنوری: زرق برق لباس پہن کر نہ آئیں۔۔۔

’آج جب سکول جانے کے لیے میں نے یونیفارم پہننے کے لیے ہاتھ آگے بڑھایا تو یاد آیا کہ ہیڈمسٹرس نے کہا تھا کہ آئندہ گھر کے کپڑے پہن کر سکول آ جایا کریں۔ میں نے اپنی پسندیدہ گلابی رنگ کے کپڑے پہن لیے۔ سکول میں ہر لڑکی نے گھر کے کپڑے پہن لیے جس سے سکول گھر جیسا لگ رہا تھا۔

آج ہمیں اسمبلی میں پھر کہا گیا کہ آئندہ سے زرق برق لباس پہن کر نہ آئیں کیونکہ اس پر بھی طالبان خفا ہوسکتے ہیں‘۔

ملالہ نے جب بی بی سی اردو کے لیے لکھنا شروع کیا وہ اس وقت انگریزی بول سکتی تھیں اور انہیں امید تھی کہ وہ ایک دن ڈاکٹر بنیں گی۔

ایک دن ان کی ڈائری کا عنوان تاسف بھرا تھا۔ ’میں شاید دوبارہ سکول نہ جاسکوں۔‘ اس میں انہوں نے جنوری دو ہزار نومیں سکول بند ہونے پر لکھا۔ اس کے علاوہ ان کے تحریروں میں طالبان کے ہاتھوں مارے جانے کا خدشہ بھی موجود تھا۔

تاہم انہیں اپنے والے کی جانب سے لکھتے رہنے کے لیے تعاون اور حوصلہ افزائی ملی۔ یہ بلاگز لکھنے کا خیال بھی ان کے والد ضیاءالدین کا تھا جو خود ایک مقامی نجی سکول چلاتے ہیں۔

ملالہ مینگورہ میں طالبان کے حملے میں زخمی ہوئیں

رواں برس بی بی سی آؤٹ لک کو دیے گئے انٹرویو میں انہوں نے کہا تھا کہ ’یقیناً اسے بلاگ لکھنے کی اجازت دینا ایک خطرہ تھا۔ لیکن میرا خیال ہے کہ بات نہ کرنا اس سے بڑا خطرہ ہوتا۔ کیونکہ اس کی وجہ سے بالآخر ہم غلامی میں چلے جاتے اور شدت پسندی اور دہشت گردی کے ہاتھوں ہار جاتے۔‘

چودہ جنوری 2009: شاید دوبارہ سکول نہ آسکوں؟

آج میں سکول جاتے وقت بہت خفا تھی کیونکہ کل سے سردیوں کی چھٹیاں شروع ہو رہی ہیں۔ ہیڈ مسٹرس نےچھٹیوں کا اعلان تو کیا تو مگر مقررہ تاریخ نہیں بتائی۔ایسا پہلی مرتبہ ہوا ہے، پہلے ہمیں ہمیشہ چھٹیوں کے ختم ہونے کی مقررہ تاریخ بتائی جاتی تھی۔اس کی وجہ تو انہوں نے نہیں بتائی لیکن میرا خیال ہے کہ طالبان کی جانب سے پندرہ جنوری کے بعد لڑکیوں کے سکول جانے پر پابندی کے سبب ایسا کیا گیا ہے۔

اس بار لڑکیاں بھی چھٹیوں کے بارے میں پہلے کی طرح زیادہ خوش دکھائی نہیں دے رہی تھیں کیونکہ ان کا خیال تھا کہ اگر طالبان نے اپنے اعلان پر عمل کیا تو وہ شاید سکول دوبارہ نہ آسکیں۔

ملالہ کے والد خود ایک ماہرِ تعلیم ہیں جنہیں طالبان کی جانب سے قتل کی دھمکیاں مل چکی ہیں۔

جب سوات میں موجود طالبان شدت پسندوں کے خلاف فوجی آپریشن ہوا تو ملالہ اور اس کا خاندان مقامی آبادی کی طرح نقل مکانی کر گیا۔

دو ہزار نو میں ملالہ پر دستاویزی فلم بنانے والے ایڈم بی ایلک کو اس نے بتایا تھا ’میں بہت بور ہو رہی ہوں کیونکہ میرے پاس پڑھنے کے لیے کتابیں نہیں‘۔

آپریشن میں فوج کی جزوی کامیابی کے بعد ملالہ تقریباً ایک سال سے زائد کے عرصے کے بعد مینگورہ لوٹ سکی۔

دو ہزار نو کے دوران ملالہ نے ٹی وی پروگراموں میں شرکت اور عوامی سطح پر خواتین کی تعلیم کے لیے مہم شروع کر دی تھی۔

اس عوامی پہچان کے نتیجے میں ملالہ ’سوات کا ترقی پسند چہرہ‘ بن کر سامنے آئی۔

ملالہ کی صحت یابی کے لیے پاکستان بھر میں دعائیں کی گئی ہیں

دو ہزار گیارہ میں اسے کڈز رائٹس فاؤنڈیشن نے بچوں کے عالمی امن انعام کے لیے نامزد کیا جبکہ گزشتہ برس کے اواخر میں حکومتِ پاکستان نے اسے قومن امن ایوارڈ دیا جسے بعد ازاں نیشنل ملالہ امن انعام کا نام دے دیا گیا اور یہ اٹھارہ برس سے کم عمر بچوں کو دیا جائے گا۔

ملالہ کے ساتھ پیش آنے والے واقعات نے اپنے مستقبل کے حوالے سے اس کے خیالات پر بھی اثر ڈالا اور اس نے رواں برس کے اوائل میں پاکستانی اخبار ڈان کو ایک انٹرویو میں بتایا تھا کہ وہ تعلیم کی ترویج کے لیے اپنی سیاسی جماعت بنانے کا ارادہ رکھتی ہے۔

بہت سے پاکستانیوں کے لیے ملالہ طالبان کے خلاف مزاحمت کی علامت بن چکی ہے۔ فریال گوہر نے مقامی اخبار ایکسپریس ٹریبیون میں لکھا کہ ’ملالہ اس ویرانے میں اٹھنے والی واحد آواز تھی‘۔

وہ لکھتی ہیں کہ ’ملالہ وہ آواز تھی جس نے ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کیا کہ ہاں متبادل موجود ہو سکتے ہیں اور ہر قسم کے جبر کے خلاف مزاحمت ممکن ہے۔ آج اس آواز کو دبانے کی کوشش اسے صرف مضبوط ہی بنائے گی; اس کی یونیفارم پر لگے خون کے دھبے اس یقین میں اضافہ کریں گے کہ جب تک جان میں جان ہے جدوجہد جاری رہے گی‘۔

پندرہ جنوری 2009: توپوں کی گھن گرج سے بھرپور رات

پوری رات توپوں کی شدید گھن گرج تھی جس کی وجہ سے میں تین مرتبہ جاگ اٹھی۔آج ہی سے سکول کی چھٹیاں بھی شروع ہوگئی ہیں اسی لیے میں آرام سے دس بجے اٹھی۔ بعد میں میری ایک کلاس فیلو آئی جس نے میرے ساتھ ہوم ورک ڈسکس کیا۔

آج پندرہ جنوری تھی یعنی طالبان کی طرف سے لڑکیوں کے سکول نہ جانے کی دھمکی کی آخری تاریخ مگر میری کلاس فیلو کچھ اس اعتماد سے ہوم ورک کر رہی ہےجیسے کچھ ہوا ہی نہیں۔

آج میں نے مقامی اخبار میں بی بی سی پر شائع ہونے والی اپنی ڈائری بھی پڑھی۔ میری ماں کو میرا فرضی نام’گل مکئی‘ بہت پسند آیا اورابو سے کہنے لگیں کہ میرا نام بدل کر گل مکئی کیوں نہیں رکھ لیتے۔ مجھے بھی یہ نام پسند آیا کیونکہ مجھے اپنا نام اس لیے اچھا نہیں لگتا کہ اسکے معنی ’غمزدہ‘ کے ہیں۔

اب ملالہ پشاور کے ہسپتال میں زیرِ علاج ہیں نیو سٹیٹسمین میں سمیرا شیکل لکھتی ہیں کہ ان پر حملے نے ’دھچکوں کا اثر نہ لینے والے پاکستان کو بھی دہلا دیا ہے‘۔

سمیرا اس بات کو سامنے لانے والی اکیلی مصنفہ نہیں کہ ملالہ نے ایسے وقت میں سوات میں خواتین کی تعلیم کے لیے آواز اٹھائی جب ’بڑے سیاستدان بلکہ خود حکومتیں طالبان کے خلاف ایسے بہادرانہ بیانات دینے سے کتراتی رہیں‘۔

لیکن روزنامہ ٹیلی گراف میں راب کریلی بیان کرتے ہیں کہ ’کیسے اس موقع پر ان( سیاستدانوں) نے عوامی ردعمل کو بھانپتے ہوئے ملالہ کی عیادت کا سلسلہ شروع کیا۔ ’اگر ملالہ مکمل طور پر صحت یاب ہو جاتی ہے تو اسے بہت آگے جانا ہے۔ مجھے شک ہے کہ ملالہ اب شدت پسندوں کے خلاف اٹھنے والی چند آوازوں میں سے ایک رہے گی اور سیاستدان بہانے بنائیں گے اور اپنے تمام وعدے بھلا دیں گے‘۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔