ملالہ پر خصوصی سیربین

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 12 اکتوبر 2012 ,‭ 23:22 GMT 04:22 PST

بی بی سی اردو نے سوات میں طالبان کے حملے کا نشانہ بننے والی چودہ سالہ ملالہ یوسفزئی نے بی بی سی کے اپنے عالمی سامعین کو مدنظر رکھتے ہوئے مختلف بلاگرز اور صحافیوں کو دنیا کی جگہوں سے اپنے پروگرام سیربین میں شامل کیا گیا۔

آپ یہ خصوصی سیربین پروگرام کلِک اس لنک پر کلک کر کے سن سکتے ہیں۔

شامل ہونے والوں میں واشنگٹن سے پاکستان کے میڈیا گروپ ایکسپریس کی نمائندہ ہما امتیاز کے ساتھ لندن سے عباس ناصر شامل تھے جو انگریزی اخبار روزنامہ ڈان سے منسلک ہیں اور ماضی میں ڈان نیوز چینل اور اخبار کے مدیر رہنے کے ساتھ بی بی سی کے لیے بھی کام کر چکے ہیں۔

ان کے علاوہ دلّی سے بلاگر شِیوم وج، اسلام آباد سے شیراز حسن اور لاہور سے رضا رومی نے پروگرام میں حصہ لیا جو کہ ٹوئٹر پر اور بلاگنگ کی دنیا میں کافی سرگرم رہتے ہیں۔

رضا رومی نےجو جناح انسٹیٹیوٹ اور فرائیڈے ٹائمز کے ساتھ منسلک ہیں، بات کی کہ بلاگ اور ٹوئٹر ہر گلی محلے کی عکاسی نہیں کرتے مگر ان کی ایک پہنچ ہے اور اس پر بات ہو تی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کچھ لوگ ملالہ کے معاملے کے ساتھ ساتھ ڈرونز کو جوڑ رہے ہیں جس پر یہ بات ہو رہی ہے۔

کراچی سے بی بی سی کے محمد حنیف نے بھی اس پروگرام میں حصہ لیا جنہوں نے بات کرتے ہوئے کہا بحث کو نہیں روکا جا سکتا لیکن انہوں نے کہا کہ اس سارے واقعے کے بارے میں پاکستان میں جتنی بحثیں ہو رہی ہیں ان میں سب سے واضح موقف طالبان کا ہی ہے۔

تاریخ کا غلط سبق

یہ کہنا کہ یہ حملہ کرنے والے مسلمان نہیں تھے اور کوئی مسلمان ایسی حرکت نہیں کر سکتا درست نہیں ہے کیونکہ پاکستان میں غلط تاریخ پڑھائی جاتی ہے اور عام آدمی کو یہ پڑھایا جاتا ہے کہ مسلمان یہ حرکت نہیں کر سکتا لیکن سوال یہ ہے کہ کربلا میں مسلمانوں کے بچوں کو جنہوں نے مارا تھا کیا وہ اپنے آپ کو مسلمان نہیں کہتے تھے؟

انہوں نے جماعت اسلامی کے سابق امیر قاضی حسین احمد کے بیان کا حوالہ دیا جس میں قاضی حسین احمد نے کہا کہ ملالہ پر حملہ کرنے میں ان لوگوں نے بھی زیادتی کی جنہوں نے ملالہ کو ایک ہیروئن بنایا اور اس کے کردار کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا۔

حنیف کا خیال تھا کہ اس واقعے کے نتیجے میں ہونے والے رد عمل کو چند دنوں میں کوئی اور واقعہ زائل کر دے گا اور میڈیا سمیت سب کی توجہ اس طرف مبذول ہو جائے گی۔

حنیف نے ایک سامع کی کال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ کہنا کہ یہ حملہ کرنے والے مسلمان نہیں تھے اور کوئی مسلمان ایسی حرکت نہیں کر سکتا درست نہیں ہے کیونکہ پاکستان میں غلط تاریخ پڑھائی جاتی ہے اور عام آدمی کو یہ پڑھایا جاتا ہے کہ مسلمان یہ حرکت نہیں کر سکتا لیکن انہوں نے سوال کیا کہ کربلا میں مسلمانوں کے بچوں کو جنہوں نے مارا تھا کیا وہ اپنے آپ کو مسلمان نہیں کہتے تھے؟

حنیف نے سیاسی جماعتوں کے کردار پر کہا کہ اس واقعے پر رائے عامہ کو ہموار کرنے کے لیے سیاسی جماعتیں کچھ کرنا نہیں چاہتیں جس کی وجہ سیاسی جماعتوں میں پایا جانے والا تذبذب ہے۔

حنیف کے مطابق معاشرے کے کمزور طبقے اور مذہبی اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے افراد اس تذبذب کی قیمت ادا کرتے ہیں۔

ہما امتیاز کے مطابق یہ جو لوگ بیرونی سازشوں کی بات کرتے ہیں وہ سیاستدانوں کی سوچ کی عکاسی کرتے ہیں کیونکہ اسی طرح کی باتیں بہت سارے سیاستدان ٹی وی پر بیٹھ کر کرتے ہیں۔

عباس ناصر نے کہا کہ ’اب ایک ہی سانس میں لوگ کہتے ہیں کہ اس بچی کو نشانہ بنایا گیا ہے مگر ان کے بارے میں کیا ہے جو ڈرون سے ہلاک ہوتے ہیں‘۔

انہوں نے کہا کہ یہ پانی کو اتنا گدلا کرنے کے مترادف ہے کچھ واضح دکھائی نہ دے۔

ملالہ پر حملہ اور ڈرون حملے

"ایک بچی جو سر جھکا کہ آنکھیں جھکا کہ سر پہ دوپٹہ اوڑھے سکول جاتی تھی وہ کون سے مغربی معاشرے کی نمائندگی کر رہی تھی؟ اور ملالہ کو گولی مار کر کون سا ڈرون حملہ روک لیا گیا ہے؟"

سینئر صحافی اور ڈان اخبار اور چینل کے سابق مدیر عباس ناصر

انہوں نے مزید کہا کہ ملالہ پر حملہ نشانہ لے کر کیا گیا تھا نہ کہ وہ کسی ڈرون کے حملے کی آڑ میں آئیں تھیں جسے کولیٹرل ڈیمج کہا جاتا ہے۔

عباس نے یہ بھی کہا کہ اس حملے کے پیچھے جو سوچ ہے اس کی بھی مذمت ہونی چاہیے اور اس کو صرف وقتی جذبات اور بیانات کی حد تک نہیں ہونا چاہیے۔

عباس ناصر نے کہا کہ ’ایک بچی جو سر جھکا کہ آنکھیں جھکا کہ سر پہ دوپٹہ اوڑھے سکول جاتی تھی وہ کون سے مغربی معاشرے کی نمائندگی کر رہی تھی؟ اور ملالہ کو گولی مار کر کون سا ڈرون حملہ روک لیا گیا ہے‘؟

محمد حنیف نے کہا کہ انہوں نے سکول جانے کے لیے اتنا ذوق و شوق کہیں نہیں دیکھا جتنا مینگورہ سوات میں دیکھا۔

اس پروگرام میں بی بی سی کے قارئین اور سامعین کی کالوں اور پیغامات کو بھی جگہ دی گئی جن میں کچھ کا موقف یہ تھا کہ ملالہ پر حملہ ظلم ہے اور اس کے کرنے والے اسلام کے اور پاکستان کے دشمن ہیں۔

لیکن اس کے ساتھ ساتھ جب مختلف لوگوں کے رائے لینے بازاروں اور دکانوں پہ مجھے جانے کا اتفاق ہوا تو بہت سارے افراد نے بات کرنے سے انکار کردیا۔

کچھ جو بات کرنے پر راضی ہوئے انہوں نے ملالہ کا نام سن کر کہا کہ وہ اس موضوع پر بات نہیں کرنا چاہتے کیونکہ ملالہ پر حملہ ایک صیہونی اور امریکی سازش ہے۔

کئی نے تو یہ تک کہا کہ یہ طالبان کو بدنام کرنے کی سازش ہے اور ہر غلط کام جو اس ملک میں ہوتا ہے وہ طالبان کے ذمے کیوں ڈال دیا جاتا ہے۔

ہما امتیاز نے کہا کہ سوشل میڈیا پر ہونے والی باتیں ایک حد تک اثر رکھتی ہیں اور سوشل میڈیا سڑک اور گلی محلوں میں ہونے والی باتوں کا بھی عکس پیش کرتا ہے جس میں سازشوں پر بات ہو رہی ہوتی ہے اور اچھے برے طالبان کی بات کی جاتی ہے۔

رضا رومی نے کہا کہ پاکستان میں انٹرنیٹ استعمال کرنے والے لوگوں کی تعداد میں کافی اضافہ ہوا ہے اور سوشل میڈیا کی مدد سے بات آگے پھیلتی ہے جس کی اہمیت ہے مگر اس کو بالعموم معاشرے کی رائے سمجھنا صحیح نہیں ہو گا۔

فعال پاکستانی سوشل میڈیا

"پاکستان کا سوشل میڈیا بہت فعال اور متنوع ہے اور ہندوستان کی نسبت بہت بہتر نظر آتا ہے اور اس پر ہر طریقے کی بات ہو رہی ہے۔"

دہلی سے شِوم وِج

رضا نے کہا کہ اعدادوشمار کے مطابق اس وقت پاکستان میں گیارہ سے بارہ فیصد لوگ انٹرنیٹ استعمال کرتے ہیں جو کہ دو کروڑ کے لگ بھگ تعداد ہے اور اس میں سے اکثریت نوجوانوں کی ہے اور یہ بڑے چھوٹے شہروں میں ہے۔

رضا رومی نے کہا کہ ’ہمارے ہاں نظریاتی الجھن اور ابہام ہے اور ہم یہ طے ہی نہیں کر پا رہے کہ ہمارا دشمن کون ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ طالبان ایک دور میں ہمارے نظام کا حصہ رہے ہیں یہ علیحدہ بات ہے کہ اب انہوں نے ریاست پر پلٹ حملہ کر دیا ہے۔

شِوم وج نے دلّی سے کہا ’جن لوگوں کو یہ جاننا ہوتا ہے کہ پاکستان میں کیا ہو رہا ان کے لیے سوشل میڈیا بہت کارآمد ہوتا ہے اور پتا چلتا ہے کہ پاکستان میں کیا بات ہو رہی ہے‘۔

شِوم نے کہا کہ ملالہ پر حملہ دردناک ہے لیکن اس حملے کی وجہ سے دنیا کے سامنے ملالہ کی کہانی سامنے آئی ہے کہ وہ کون ہے اور اس کا مقام کیا ہے۔

شِوم نے کہا کہ ’پاکستان کا سوشل میڈیا بہت فعال اور متنوع ہے اور ہندوستان کی نسبت بہت بہتر نظر آتا ہے اور اس پر ہر طریقے کی بات ہو رہی ہے‘۔

شِوم نے کہا کہ جب انٹرنیٹ کی پہنچ بڑھے گی تو اردو میں بھی لکھنے والوں کی تعداد بڑھے گی لیکن انہوں نے کہا کہ اب بھی اردو میں لکھنے والے بہت ہیں۔

عباس ناصر نے کہا کہ مجھے مقامی چینل پر سوات کی لڑکیوں کی باتیں سن کر امید پیدا ہوئی جس میں انہوں نے کہا کہ سوات کی ہر لڑکی ملالہ ہے اور وہ اپنے تعلیم کے حق سے دستبردار نہیں ہوں گی اور اس جذبے کے آگے کچھ رک نہیں سکتا۔

شکیل جعفری کی نظم

لے ہو گیا آغاز ملالہ میری بچی

ہم ہیں تیری آواز ملالہ میری بچی

تو بنت علم یہ ہیں ابو جہل کی اولاد

ہے تجھ پہ ہمیں ناز ملالہ میری بچی

معصوم نہتوں کو بناتا ہے نشانہ

ظالم کا ہے انداز ملالہ میری بچی

یہ سورما ہیں کتنے جری کتنے بہادر

یہ بھی نہیں اب راز ملالہ میری بچی

دنیا نے بہت اچھی طرح جان لیا اب

یہ گدھ ہیں کہ شہباز ملالہ میری بچی

نازک سا تیرا جسم مگر عزم قیامت

اونچی تیری پرواز ملالہ میری بچی

تو جہد کا پیکر بھی ہے تو امن کی سالار

ہم ہیں تیرے جانباز ملالہ میری بچی

ہم ہیں تیری آواز ملالہ میری بچی

بلاگر شیراز حسن نے کہا کہ اردو میں لکھنے والوں کی بات زیادہ دور تک جاتی ہے اور اس کا اثر بہت زیادہ ہوتا ہے۔

دبئی سے انتھونی پرمل پروگرام کا حصہ تھے مگر بعض وجوہات کی وجہ سے ان سے رابطہ نہیں ہو پایا انہوں نے اپنا پیغام کچھ یوں دیا۔

انتھونی پرمل نے لکھا کہ طالبان نے ملالہ پر حملہ کر کے ثابت کر دیا ہے کہ وہ برے ہیں اچھے نہیں۔ اسی طرح انہوں نے کہا کہ سیاستدان شہرت چاہتے ہیں اور فوج دوہرا معیار اختیار کر کے عوام اور حکومت دونوں کو شیشے میں رکھنا چاہتی ہے۔

اس کے درمیان انتھونی کے خیال میں عوام مارے جا رہے ہیں اور شاید سوشل میڈیا پر ملالہ ایک شہرت کی حرص بھی بن چکی ہے۔

انتھونی نے لکھا کہ ہم ملالہ کی تصاویر فیس بک پر اور اپنی ٹویٹ اور پیغامات میں دکھاتے ہیں مگر کچھ عرصہ گزرتے ہیں ہم اسے بھول جائیں گے۔

اگر ہم ملالہ اور اس کے مشن کو آگے بڑہانا چاہتے تو ہمیں اپنے اپنے علاقے میں لڑکیوں کی تعلیم کے حوالے سے کام کرنا چاہیے خاص طور پر شمال میں یا جہاں ان کی تعلیم پر توجہ کم ہے۔

پروگرام کے آخر میں بی بی سی کے ایک سامع شکیل جعفری کی نظم ان کی آواز میں سنائی گئی۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔