’بلوچستان حکومت کا کوئی جواز نہیں ہے‘

آخری وقت اشاعت:  اتوار 14 اکتوبر 2012 ,‭ 19:21 GMT 00:21 PST
بلوچستان

سپریم کورٹ نےایک حالیہ عبوری حکم میں کہا ہے کہ بلوچستان میں خفیہ اداروں کی مداخلت ثابت ہوگئی ہے۔

پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں حزب اختلاف کی جماعتوں نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد اخلاقی طور پر بلوچستان حکومت کا کوئی جواز نہیں ہے اور اسے مستعٰفی ہوجانا چاہیے ۔

بلوچستان کے سینیئر صوبائی وزیر نے اس فیصلے پر کوئی منفی تبصرہ کرنے سےگریز کیا تاہم انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے عوام اور حکومت دونوں کی شکایتیں وفا قی حکومت سے ہیں اور اس کی پالیسیوں کی وجہ سے یہاں کے حالات خراب ہیں۔

بلوچستان میں حزب اختلاف بالخصوص قوم پرست جماعتیں پہلے ہی صوبے کی حکومت پر نااہلی کے الزامات عائد کر رہی تھیں اب جب سپریم کورٹ نے یہ بات کہی تو ان جماعتوں نے اس رائے کا اظہار کیا ہے کہ سپریم کورٹ نے ان کے موقف پر مہر تصدیق ثبت کردی ہے۔

جب بلوچستان کی صورتحال پر سپریم کورٹ کے فیصلے پر سابق سینیٹر اور بلوچ قوم پرست جماعت نیشنل پارٹی کے سربراہ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کارد عمل معلوم کیا تو ان کا کہنا تھا کہ’بلوچستان کی حکومت نااہل ہے اب سپریم کورٹ نے بھی یہ قرار دیا ہے کہ یہ ایک نااہل حکومت ہے‘۔

سپریم کورٹ نے ہماری باتوں پر مہر تصدیق ثبت کردی ہے اس لیے اب اس حکومت کے پاس اخلاقی طور پر حکمرانی کا کرنے کا کوئی جواز نہیں ہے ۔ اس کو مستعفی ہوجانا چائیے‘۔

دوسری قوم پرست جماعت بلوچستان نیشنل پارٹی ( مینگل ) کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات آغا حسن بلوچ نے سپریم کورٹ کی رائے کو درست قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’اس صوبائی حکومت کی نااہلی کی وجہ سے حالات مزید خراب ہوگئے جس کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ ا س حکومت کے دور میں بی این پی کے مرکزی سیکرٹری جنرل حبیب جالب سمیت 54 رہنماؤں اور کارکنوں کو قتل کیا گیا‘۔

بلوچ قوم پرست جماعتوں کی طرح پشتون قوم پرست جماعت پشتونخوا ملی عوامی پارٹی نے بھی اس فیصلے کو سراہا ہے ۔

پارٹی کے صوبائی صدر عثمان خان کاکڑ کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ نے اپنے عبوری حکم میں پشتونخوا میپ کے 30 سال پرانے موقف کو سچ ثابت کردیا ہے کہ’یہاں خفیہ ایجنسیاں مداخلت کر رہی ہیں اسی طرح ہم 4سالوں سے کہہ رہے ہیں کہ صوبائی حکومت ناکام ہوچکی ہے اور انہی کی وجہ سے بد امنی ہے‘۔

پشتونخوا کے رہنما نے کہا کہ سپریم کورٹ نے فی الحال نشاندہی کی ہے ہمارا مطالبہ ہے کہ ’سزا بھی تجویز کرے اور آئینی ذمہ داریاں پوری نہ کرنے ، کرپشن اورعوام کو تحفظ نہ دینے پر صوبائی وزراء کے خلاف کیسز بھی چلائےجائیں‘۔

بلوچستان میں اس وقت ہزارہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے افراد فرقہ وارانہ ٹارگٹ کلنگ کی لہر سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں ۔ ہزارہ قوم پرست جماعت ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی نے سپریم کورٹ کے فیصلے کو ’تاریخی اہمیت کا حامل قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ صوبائی حکومت کے کسی ایک فرد نے بھی واقعات کے تسلسل اور جرائم کی بڑھتی ہوئی شرح پر قابو پانے میں ناکامی کا اعتراف کر کے استعفیٰ نہیں دیا‘۔

بلوچستان کی مخلوط حکومت میں شامل تیسری بڑی جماعت جمیعت العلماء اسلام کے پارلیمانی رہنما اور سینئر صوبائی وزیر مولانا عبدالواسع نے سپریم کورٹ کے فیصلے پر کوئی منفی تبصرہ کرنے سے گریز کیا تاہم انہوں نے کہا کہ جہاں تک سپریم کورٹ کی جانب سے وفاقی حکومت کو حالات کی بہتری کے لیے مؤثر اقدامات کر نے کی بات ہے تو یہاں کے عوام اور حکومت دونوں کو وفاقی حکومت سے ہی شکایت ہے اور وہ دونوں یہ سمجھتے ہیں کہ یہاں کے حالات وفاقی حکومت کی پالیسیوں اور اقدامات کی وجہ سے خراب ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ ’بلوچستان میں جو احساس محرومی پائی جاتی ہے وہ وفاقی حکومت کی وجہ سے ہے اور میں نہیں سمجھتا کہ جس سے بلوچستان کے لوگوں کو شکایت ہو وہ یہاں بہتری کے لئے کوئی اقدام کرسکے گا‘۔

جہاں تک بلوچستان کے آئینی اور قانونی ماہرین کا تعلق ہے وہ یہ کہتے ہیں کہ سپریم کورٹ کے اس فیصلے میں صوبے کی حکومت کے بارے میں کسی مخصوص کارروائی کی بات نہیں کی ہے۔

بلوچستان کے ممتاز قانون دان ہادی شکیل ایڈووکیٹ نے کہا کہ سپریم کورٹ نے یہ واضح طور پر کہہ دیا ہے کہ ’بلوچستان حکومت نے حکمرانی کا جواز کھودیا ہے تاہم اس نے حالات کی بہتری کے لیے تمام آپشنز وفاقی حکومت کے لیے چھوڑ دیے ہیں‘۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔