’ملالہ کی صحت یابی کے روشن امکانات ہیں‘

آخری وقت اشاعت:  منگل 16 اکتوبر 2012 ,‭ 01:52 GMT 06:52 PST

ملالہ کی علاج کے لیے روانگی

ملالہ کو راولپنڈي کے فوجي ہسپتال ميں انتہائي نگہداشت کے وارڈ ميں رکھا گيا تھا جہاں سے انہيں پیر کو برطانيہ لايا گيا ہے۔

دیکھئیےmp4

اس مواد کو دیکھنے/سننے کے لیے جاوا سکرپٹ آن اور تازہ ترین فلیش پلیئر نصب ہونا چاہئیے

متبادل میڈیا پلیئر چلائیں

برطانیہ میں پاکستان کے ہائی کمشنر کا کہنا ہے کہ پاکستان کی وادی سوات میں طالبان کے حملے میں زخمی ہونے والی چودہ سالہ طالبہ ملالہ یوسفزئی محفوظ اور بہترین ہاتھوں میں ہیں اور ان کا علاج اس وقت برطانوی ہسپتال کی اولین ترجیح ہے۔

ملالہ یوسفزئی کو مزید علاج کے لیے پیر کو پاکستان سے برطانیہ منتقل کیا گیا ہے اور انہیں برطانوی شہر برمنگھم کے کوئین الزبتھ ہسپتال لایا گیا ہے جو جنگ میں زخمی ہونے والے فوجیوں کے علاج کے لیے شہرت رکھتا ہے۔

برطانیہ پہنچنے کے بعد ملالہ کا معالجین کا کہنا ہے کہ وہ ان کے صحت یاب ہونے کے بارے میں پرامید ہیں۔

کلِک ایک ہی ملالہ کیوں؟

کلِک اہم اعضاء ٹھیک ہیں: آئی ایس پی آر

ہسپتال کے باہر بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے برطانیہ میں پاکستان کے ہائی کمشنر واجد شمس الحسن کا کہنا تھا کہ ’ملالہ بحفاظت پہنچ چکی ہیں اور وہ بہترین ہاتھوں میں ہیں‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ملالہ کی دیکھ بھال ہسپتال کی اولین ترجیح ہے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وہ خود تو ملالہ سے نہیں ملے تاہم ڈاکٹروں نے انہیں مطلع کیا ہے کہ ملالہ ’ریسپانس‘ دے رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ہم سب ملالہ کے ساتھ ہیں اور اس کی جلد صحت یابی کو یقینی بنانے کے لیے کوشاں اور دعاگو ہیں‘۔

پاکستانی ہائی کمشنر نے کہا کہ وہ ملالہ کے علاج کے سلسلے میں برطانوی حکومت خصوصاً وزیرِ خارجہ ولیم ہیگ کے شکر گزار ہیں جنہوں نے بھرپور مدد کی۔

برمنگھم کا کوین الیزبتھ ہسپتال

کوئین الیزبتھ ہسپتال بم اور گولیوں سے آنے والے زخموں کے علاج کے لیے سب سے بہتر ہسپتال مانا جاتا ہے

ڈاکٹروں سے ملاقات کے بعد واجد شمس الحسن نے ایک بیان بھی جاری کیا جس میں کہا گیا ہے کہ ڈاکٹروں کے مطابق ملالہ کی حالت تسلی بخش ہے اور کئی ماہر ڈاکٹر ان کا جائزہ لے رہے ہیں۔ بیان کے مطابق ڈاکٹروں کی ٹیم نیورو سرجری اور ٹراما تھراپی کے شعبوں سے تعلق رکھنے والے ماہرین پر مشتمل ہے۔

اس سے قبل کوئین الزبتھ ہسپتال کے میڈیکل ڈائریکٹر ڈاکٹر ڈیو روسر نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اگر ملالہ کے ٹھیک ہونے کی امید نہیں ہوتی تو انہیں پاکستان سے یہاں نہیں لایا جاتا۔

انھوں نے کہا کہ ’میں نے اِس وقت تک ملالہ کا خود جائزہ نہیں کیا مگر میرا کا اندازہ ہے کہ ملالہ کو کم از کم چند ہفتوں تک ہسپتال میں زیرِ نگہداشت رہنا پڑے گا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ملالہ کی صحت کے بارے میں وقتاً فوقتاً اطلاعات دیں جائیں گی تاہم اس معاملے میں تفصیلات ظاہر نہیں کیں جائیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہر مریض کی طرح انہیں بھی حق ہے کہ ان کے طبی معاملات راز میں رکھے جائیں۔

کوئین الیزبتھ ہسپتال کی ترجمان فیونا گلیبی یوسکا نے بی بی سی بات کرتے ہوئے بتایا کہ برمنگھم کے ہسپتال میں اہم ٹراما سینٹر موجود ہے جس کی خصوصیت میں بم حملوں میں زخمی ہونے والوں اور گولی اور چاقو سے گھائل ہونے والوں کا علاج شامل ہے۔

’ہمارے پاس افغانستان اور عراق میں زخمی ہونے والے بھی لائے جاتے ہیں جن کا یہاں علاج کیا جاتا ہے۔ ہمارے پاس گولیوں سے اور بم حملوں سے شدید زخمی ہونے والوں کے علاج کا وسیع تجربہ ہے۔‘

اس سے پہلے پاکستان کی فوج نے ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ ڈاکٹروں کے بورڈ کے فیصلے کے بعد ملالہ یوسفزئی کو علاج کے لیے برطانیہ روانہ کیا گیا ہے۔

"ملالہ کی روانگی کی خبر سکیورٹی کے باعث راز میں رکھی گئی۔ ملالہ پر حملے کی منصوبہ بندی سرحد پار سے کی گئی تھی۔ "

وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک

سرکاری ٹی وی چینل پی ٹی وی کے مطابق ڈاکٹروں کے بورڈ نے یہ فیصلہ پیر کی صبح کیا۔

آئی ایس پی آر کے مطابق ملالہ کو متحدہ عرب امارات سے آئی فضائی ایمبولینس کے ذریعے برطانیہ روانہ کیا گیا اور ملالہ یوسفزئی کے علاج کا تمام تر خرچہ حکومتِ پاکستان اٹھائے گی۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ڈاکٹروں نے یہ فیصلہ ملالہ کے والدین کے ساتھ مشاورت کے بعد کیا گیا ہے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق ملالہ کو طویل مدت کے لیے علاج کی ضرورت ہے تاکہ ان کو لگی جسمانی اور ذہنی چوٹ کا علاج کیا جاسکے۔

پاکستانی ڈاکٹروں اور عالمی ماہرین کے پینل نے اس بات سے اتفاق کیا کہ ملالہ کو اس واقعہ کے جسمانی اور نفسیاتی اثرات سے مکمل طور سے بچانے کیلئے اسے طویل علاج فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔

اس کے علاوہ مناسب وقت پر اس کے سر کی متاثرہ ہڈیوں کے علاج یا تبدیلی کی ضرورت ہوگی اور صحت کی طویل بحالی کی ضرورت ہوگی جس کے پیش نظر ملالہ کو ایک ایسے ملک بھیجنے پر اتفاق ہوا جہاں اسے مربوط علاج معالجہ فراہم کیا جاسکے۔

چودہ سالہ ملالہ یوسفزئی کے ہمراہ پاکستانی فوج کی ایک ڈاکٹروں کی ٹیم بھی روانہ ہوئی ہے۔

دوسری جانب وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ملالہ کی روانگی کی خبر سکیورٹی کے باعث راز میں رکھی گئی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملالہ پر حملے کی منصوبہ بندی سرحد پار سے کی گئی تھی۔

واضح رہے کہ اس سے قبل رحمان ملک کہہ چکے ہیں کہ حملے میں ملوث گروہ کی شناخت ہو چکی ہے اور ان کو جلد پکڑ لیا جائے گا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔