صوبائی وزیر کے مکان پر حملہ، تین ہلاک

آخری وقت اشاعت:  منگل 16 اکتوبر 2012 ,‭ 04:17 GMT 09:17 PST
فائل فوٹو

صوبائی وزیر کے مکان پر تعینات سرکاری محافظوں نے حملہ آوروں پر فائرنگ کی

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں صوبائی وزیر کے مکان پر فائرنگ کے واقعے میں تین افراد ہلاک ہوگئے۔

یہ حملہ صوبائی وزیر برائے خوراک اور پیپلزپارٹی کے رہنما اسفند یار خان کاکڑ کے مکان پر ہوا۔

کوئٹہ میں مقامی صحافی نے بتایا کہ فائرنگ کا یہ واقعہ پیر اور منگل کی درمیانی شب چمن ہاؤسنگ سکیم میں پیش آیا جہاں صوبائی وزیر کا ذاتی مکان ہے۔

صوبائی وزیر کے مکان پر تعینات سرکاری محافظوں نے حملہ آوروں پر فائرنگ کی۔ اس فائرنگ کے تبادلے میں دونوں مبینہ حملہ آور ہلاک جبکہ ایک گارڈ بھی ہلاک ہوا۔

حملے کے وقت صوبائی وزیر اسفندیار کاکڑ خود اسلام آباد میں تھے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اسفندیار کاکڑ نے کہا کہ ان کے مکان پر دو مسلح افراد نے حملہ کیا جس پر ان کے ایک سرکاری محافظ شعیب نے جوابی فائرنگ کی۔

انہوں نے مزید بتایا کہ اس فائرنگ کے نتیجے میں دونوں حملہ آور ہلاک ہوگئے جبکہ ان کا محافظ حملہ آوروں کی فائرنگ سے زخمی ہوا۔ گارڈ کو ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاسکا۔

صوبائی وزیر کے مطابق ان کا چھوٹا بھائی اور خاندان کے دیگر افراد حملے کے وقت مکان میں موجود تھے اور وہ محفوظ رہے۔

انہوں نے کہا کہ ان کی کسی سے ذاتی دشمنی نہیں اور وہ یہ نہیں جانتے کہ ان کے مکان پر یہ حملہ کیوں کیا گیا۔

پولیس کے مطابق صوبائی وزیر کے سرکاری محافظ کی فائرنگ سے ہلاک ہونے والے دونوں افرادکی شناخت ہوگئی ہے ۔

ان افراد کا تعلق کوئٹہ سے ہے تاہم مزید تحقیقات جاری ہیں جن کے مکمل ہونے کے بعد ہی حملے کی وجوہات کے بارے میں بتایا جاسکے گا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔