’بنا منصوبہ بندی کارروائی سے ملک مزید غیرمحفوظ‘

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 18 اکتوبر 2012 ,‭ 19:52 GMT 00:52 PST

’جمہوری ممالک میں ایسے حساس معاملے پر عوامی نمائندوں کو اعتماد میں لیا جاتا ہے‘

پاکستان کی قومی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف اور مسلم لیگ (ن) کے رہنما چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ شمالی وزیرستان میں بغیر منصوبہ بندی کے فوجی کارروائی ملک کو مزید غیر محفوظ بنا دے گی۔

ادھر پاکستان کے وزیرِ داخلہ رحمان ملک کا کہنا ہے کہ شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔

بدھ کو شمالی وزیرستان میں ممکنہ آپریشن کے بارے میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے چوہدری نثار نے کہا کہ وہاں بغیر کسی ’ہوم ورک‘ کے آپریشن کیا گیا تو اس سے ملک مزید غیر محفوظ ہو جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ جمہوری ممالک میں ایسے حساس معاملے پر عوامی نمائندوں کو اعتماد میں لیا جاتا ہے۔ انہوں نے حکومت پر الزام عائد کیا کہ وہ ایسے حالات پیدا کرنا چاہتی ہے کہ انتخابات ملتوی کرنے کا جواز پیدا ہو سکے۔

خیال رہے کہ مسلم لیگ (ن) نے منگل کو قومی اسمبلی میں ایک ایسی حکومتی قرارداد پیش نہیں ہونے دی تھی جس میں شدتی پسندوں کے خلاف کارروائی کا ذکر تھا۔

اس موقع پر چوہدری نثار علی خان نے کہا تھا کہ حکومت ماضی میں اسمبلی میں متفقہ طور پر منظور کی گئی قراردادوں پر عمل کروانے میں ناکام رہی ہے اور یہ نئی قرارداد وزیرستان میں فوجی آپریشن کے پیش خیمے کے طور پر لائی جا رہی ہے جبکہ مینگورہ میں (ملالہ یوسفزئی پر ) حملے کا منصوبہ ساز قرار دیا جانے والا طالبان رہنما مولوی فضل اللہ افغانستان میں ہے۔

بدھ کو سینیٹ میں تقریر کرتے ہوئے وفاقی وزیرِ داخلہ کا کہنا تھا کہ اگر شمالی وزیرستان میں عسکری کارروائی کا فیصلہ ہوتا ہے تو یہ فوجی اور سیاسی قیادت کا مشترکہ فیصلہ ہوگا۔

رحمان ملک نے ایوان کو دہشتگردوں کے خلاف سخت کارروائی کی یقین دہانی کرواتے ہوئے بتایا کہ ملالہ یوسفزئی پر حملے کی ذمہ داری قبول کرنے والے طالبان کے ترجمان احسان اللہ احسان کی گرفتاری پر انعامی رقم بڑھا کر دس کروڑ روپے کر دی گئی ہے۔

خیال رہے کہ ملالہ یوسف زئی پر طالبان کے قاتلانہ حملے کے بعد ایک مرتبہ پھر شمالی وزیرستان میں شدت پسندوں کے مبینہ محفوظ ٹھکانوں کے خلاف فوجی آپریشن کے بارے میں سوال اٹھنے لگے ہیں۔

پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں فوجی کارروائی کا خیال نیا نہیں اور امریکہ بھی پاکستان پر مسلسل اس علاقے میں کارروائی کرنے کے لیے زور دیتا رہا ہے۔

تاہم حکومتِ پاکستان اور فوج کا موقف یہی رہا ہے کہ وہ اس علاقے میں کارروائی کا فیصلہ کسی دباؤ میں آ کر نہیں بلکہ صورتحال کو مدِنظر رکھ کر کرے گی۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔