ڈاکٹر ملالہ کی حالت میں بہتری پر خوش

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 18 اکتوبر 2012 ,‭ 11:35 GMT 16:35 PST

ملالہ کی صحت یابی کے لیے پاکستان میں ریلی نکالی گئیں

برطانیہ کے شہر برمنگھم کے کوئین الزبتھ ہسپتال کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ملالہ یوسف زئی کی طبعیت مستحکم ہے اور ڈاکٹر ان کی حالت میں بہتری پر مطمئن ہیں۔

ہسپتال انتظامیہ کی جانب سے جمعرات کو جاری ہونے والے اعلامیے کے مطابق ملالہ کی معالج ٹیم روزانہ کی بنیاد پر ان کی حالت کا جائزہ لے رہی ہے اور وہ ان کی حالت میں بہتری میں ہونے والی پیش رفت پر خوش ہے۔

تازہ ترین اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ’ملالہ نے ہسپتال میں تیسری آرام دہ رات گزاری ہے اور ان کا خیال رکھا جا رہا ہے‘۔

اس اعلامیے کے مطابق ملالہ یوسف زئی کا خاندان پاکستان میں ہی ہے۔

خواتین کی دو تنظیمیں جمعرات کو ملالہ سے اظہار یکجہتی کے لیے برمنگھم کونسل ہال کے باہر شمعیں روشن کر رہی ہیں جبکہ ہسپتال کی ویب سائٹ پر ملالہ کے لیے پیغامات کا جو صفحہ بنایا گیا ہے اس پر دنیا بھر سے ایک ہی رات میں ڈیڑھ ہزار سے زیادہ پیغامات موصول ہوئے ہیں اور اعلامیے کے مطابق یہ سلسلہ مسلسل جاری ہے۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ہسپتال کی انتظامیہ ملالہ کے لیے کارڈز اور تحائف وصول کرنے سے قاصر ہے لیکن یہ چیزیں برمنگھم کونسل ہال بھیجے جا سکتے ہیں۔

ادھر پاکستانی میڈیا نے ملالہ یوسفزئی پر ہونے والے حملے کے بعد طالبان کی طرف سے صحافیوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیوں پر خطرے کا اظہار کیا ہے جبکہ بی بی سی نے کہا ہے کہ طالبان کے حملے میں زخمی ہونے والی چودہ سالہ بچی ملالہ کی کوریج کے سلسلے میں ذرائع ابلاغ کے کئی اداروں کو ملنے والی دھمکیوں کے بعد بی بی سی نے پاکستان میں اپنے عملے کے تحفظ اور اپنے آپریشنز کے لیے مناسب اقدامات کیے ہیں۔

آل پاکستان نیوزپیپر سوسائٹی (اے پی این ایس) نے کہا ہے کہ میڈیا کو طالبان کی دھمکیاں آزادیِ اظہار سے روکنے کی کوشش ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ ان دھمکیوں کا انکشاف پاکستانی طالبان کے رہنما کی ٹیلی فون کا پتہ چلنے سے ہوا۔

خواتین کی دو تنظیمیں آج ملالہ سے اظہار یکجہتی کے لیے برمنگھم کونسل ہال کے باہر شمعیں روشن کر رہی ہیں

پاکستان کے خفیہ اداروں کی جانب سے پکڑی جانے والی اس کال میں تحریکِ طالبان پاکستان کے رہنما حکیم اللہ محسود نے اپنے نائب کو لاہور، کراچی، راولپنڈی اور اسلام آباد میں میڈیا کو نشانہ بنانے کی ’خصوصی ہدایات‘ دی ہیں۔

پاکستانی پریس فاؤنڈیشن نے کہا ہے کہ حکومت نے ان علما کو بھی خبردار کیا ہے جنھوں نے اس واقعے کی کھلم کھلا مذمت کی تھی۔

ادارے کا کہنا ہے کہ حکومت نے طالبان کی دھمکیوں کو سنجیدگی سے لیا ہے۔

پاکستانی میڈیا نے طالبان ذرائع کے حوالے سے کہا ہے کہ وہ اس حملے کو ملنے والی توجہ پر برہم ہیں اور ان کا خیال ہے کہ یہ جانب دارانہ ہے۔

بی بی سی نے اس صورتِ حال پر ایک بیان میں کہا ہے کہ ’ہم صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور اپنے عملے کی حفاظت کے لیے ہر ضروری اقدام کریں گے اور یہ کہ ہم پاکستان میں اپنی نشریات جاری رکھیں گے‘۔

بی بی سی اردو سروس کے سربراہ عامر احمد خان کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد بی بی سی کے عملے کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ایسے تمام علاقے جہاں عسکری کشمکش ہو وہاں صحافیوں کے لیے خطرات موجود رہتے ہیں چاہے وہ کسی بھی ادارے کے لیے کام کرتے ہوں۔ یہ خطرہ کبھی بڑھ جاتا ہے اور کبھی ختم ہو جاتا ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔