اسلم بیگ، اسد درانی کے کورٹ مارشل کا مطالبہ

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 20 اکتوبر 2012 ,‭ 16:36 GMT 21:36 PST
اصغر خان

اصغر خان کیس کے فیصلے میں سپریم کورٹ نے ایجنسیوں پر انیس سو نوے کے انتخاب میں دھاندلی کا الزام لگایا ہے

پاکستان کی مختلف سیاسی جماعتوں نے کلِک اصغر خان کیس پر سپریم کورٹ کے فیصلے کی بھرپور حمایت کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ اس سے انتخابی نتائج پر ایجنسیوں کے اثر انداز ہونے کا رحجان ختم ہو جائے گا۔

پیپلز پارٹی کے ارکان پنجاب اسمبلی نے مطالبہ کیا ہے کہ اصغر خان کیس کے فیصلے کی روشنی میں تحلیل شدہ انتخابی اتحاد آئی جے آئی کی قیادت کو نااہل قرار دیا جائے اور سیاست دانوں کو رقوم دینے والے جرنیلوں کا کورٹ مارشل کیا جائے۔

یہ مطالبہ پیپلز پارٹی کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں منظور کی جانے والی تین مختلف قراردادوں میں کیا گیا۔

پنجاب اسمبلی میں قائد حزب مخالف راجہ ریاض نے بتایا کہ پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں یہ مطالبہ کیا گیا کہ جمہوریت کے خلاف پس پردہ سازشیں کرنے اور بینظیر بھٹو کی حکومت کو ختم کرنے والوں کا پول کھل گیا ہے اس لیے مسلم لیگ نون کے سربراہ نوازشریف اور ان کے بھائی شہباز شریف جمہوری حکومت کو ختم کرانے پر قوم سے معافی مانگیں۔

پیپلزپارٹی کے رہنما نے بتایا کہ اجلاس میں الیکشن کمیشن سے یہ مطالبہ کیا گیا کہ شریف برادران کو نااہل قرار دے کر ان کے انتخابات میں حصہ لینے پر پابندی عائد کی جائے۔

جمعہ کے روز سپریم کورٹ نے سابق ایئر مارشل اصغر خان کی درخواست پر فیصلے میں قرار دیا کہ سنہ انیس نوے کے انتخابات میں دھاندلی ہوئی تھی۔

سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق انتخابی عمل کو آلودہ کرنا اس وقت کے آرمی چیف جنرل ریٹائرڈ مرزا اسلم بیگ اور آئی ایس آیی کے سربراہ اسد درانی کا انفرادی فعل تھا۔

سپریم کورٹ میں پیش کیے گئے بیانِ حلفی کے مطابق جن سیاست دانوں اور سیاسی جماعتوں نے رقوم لیں ان میں مسلم لیگ نون کے سربراہ نواز شریف ، سابق نگران وزیر اعظم غلام مصطفیْ جتوئی، سابق وزیر اعظم محمد خان جونیجو ، سابق وزراء جام صادق، جام یوسف اور افضل خان ، پیر پگاڑا اور جماعت اسلامی سمیت دیگر سیاسی جماعتیں شامل تھیں۔

پیپلز پارٹی کی مقتول سربراہ بینظیر بھٹو کی حکومت کو اس وقت کے صدرِ مملکت غلام اسحاق خان نے تحلیل کرکے نئے انتخابات کرائے اور سنہ نوے میں ہونے والے انتخابات میں پیپلز پارٹی صرف سینتالیس نسشتوں پر کامیاب حاصل کی تھی اور مسلم لیگ نون کے سربراہ نواز شریف نے وزارت اعٌظمیْ کا منصب سنبھالا تھا۔

پیپلز پارٹی پنجاب کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کے بعد راجہ ریاض نے بتایا کہ اجلاس میں ایک قرارد داد کے ذریعے یہ مطالبہ کیا گیا کہ سابق آرمی چیف جنرل ریٹائرڈ اسلم بیگ اور جنرل اسد درانی کا اصغر خان کیس کے فیصلے کے تحت کورٹ مارشل کیا جائے۔

شہباز شریف

پاکستانی ذرائع ابلاغ کے مطابق پاکستان مسلم لیگ (نواز)، پاکستان مسلم لیگ (ق)، پاکستان مسلم لیگ (ہم خیال)، پاکستان مسلم لیگ (ضیاء) اور پاکستان تحریک انصاف نے سپریم کورٹ کے فیصلے کو تاریخی فیصلہ قرار دیا ہے۔ خبروں میں شائع ہونے والے رد عمل کے مطابق ان سیاسی جماعتوں نے فوج سے پیسے لے کر انتخاب لڑنے والے افراد کے لیے عبرتناک سزاؤں کا مطالبہ کیا ہے۔

پنجاب کے وزیر اعلیٰ شہباز شریف نے سنیچر کو کلر کہار میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان کی جماعت سپریم کورٹ کے فیصلے کو تسلیم کرتی ہے۔

پاکستان تحریک انصاف نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ وہ الیکشن کمیشن سے مطالبہ کریں گے کہ وہ ایسے سیاستدانوں کو انتخاب میں حصہ لینے سے روکیں جن پر ایجنسیوں سے پیسے لینے کے الزامات ہیں۔

عوامی نیشنل پارٹی کے حاجی عدیل نے کہا کہ یہ اپنی نوعیت کا پہلا فیصلہ ہے جس میں فوج کے افسران اپنے حلف کی خلاف ورزی کے مرتکب پائے گئے ہیں۔ ایسے تمام افراد کے خلاف کارروائٰی ہونی چاہیے تاکہ انہیں سبق مل سکے اور آئندہ کوئی بھی شخص ایسا کرنے کی جرات نہ کرسکے۔ ’یہ فوج کے لیے بھی ایک امتحان ہے۔‘

پاکستان مسلم لیگ (نواز) کے ترجمان پرویز رشید نے پیپلز پارٹی پر الزام لگاتے ہوئے کہا کہ ان تینوں افراد کے جن پر سپریم کورٹ کے فیصلے میں انگلی اٹھائی گئی ہے پیپلزپارٹی سے قریبی تعلقات تھے۔ انہوں نے کہا کہ مقامی اخبار میں شائع ہونے والے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس وقت پاکستان کے صدر غلام اسحق خان نے بینظیر بھٹو کی حمایت سے انیس سو ترانوے میں نواز شریف کی حکومت ختم کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ جنرل اسلم بیگ کو تمغہ جمہوریت سے نوازا گیا اور جنرل اسد درانی کو سفیر بنایا گیا۔

جماعت اسلامی کے سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ سے منسوب بیان میں کہا گیا ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ انتظامیہ اور حکومتی اہلکار کسی کے بھی غیر آئینی احکامات پر عمل کرنا چھوڑ دیں۔

جمیعتِ علمائے اسلام کے مولانا فضل الرحمان نے اس فیصلے پر کہا کہ فیصلہ تو ٹھیک ہے مگر صرف فیصلہ دینے سے کچھ نہیں ہوگا بلکہ اس پر مزید تحقیقات ہونے چاہیں اور سزا کا تعین ہونا چاہیےکیونکہ ایک خط کے معاملے پر وزیرِ اعظم کو گھر بھیج دیا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اسٹیبلشمنٹ ہمیشہ ہی سے سیاست میں اثر انداز ہوتی آئی۔

متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی نے اپنے بیان کہا ہے کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ تاریخ ساز ہے اور اس پر اس کی روح کے مطابق عمل ہونا چاہیے۔ سرکاری ایجنسیز اور جرنیلوں کے خلاف پیسے تقسیم کرنے اور سیاستدانوں اور صحافیوں نے پیسے لیے ان کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔ سرکاری ایجنسیز نے متحدہ کے قائد الطاف حسین کو بھی رقوم کی پیشکش کی تھی مگر انہوں نے ضمیر کا سودا نہیں کیا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔