مسلم لیگ (ن) کا ایف آئی اے پر عدم اعتماد

آخری وقت اشاعت:  پير 22 اکتوبر 2012 ,‭ 06:23 GMT 11:23 PST

چودھری نثار نے مجوزہ کمیشن کے بارے میں تفصیلات ظاہر نہیں کیں

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنماء اور قومی اسمبلی میں قائدِ خزبِ اختلاف چودھری نثار علی خان کا کہنا ہے کہ ان کی جماعت اصغر خان کیس کے سلسلے میں سپریم کورٹ کے فیصلے کا احترام کرتی ہے تاہم اس معاملے کی تفتیش آزادانہ عدالتی کمشن کے ذریعے ہونی چاہیے۔

یاد رہے کہ سپریم کورٹ نے سنہ نوے کے انتخابات میں سیاست دانوں میں رقوم کی تقسیم کے معاملے سے متعلق ایئرمارشل ریٹائرڈ اصغر خان کے مقدمےکا مختصر فیصلہ سناتے ہوئے کہا تھا کہ سنہ انیس سو نوّے کے انتخابات میں دھاندلی ہوئی۔

سرکاری ٹی وی چینل پی ٹی وی کے مطابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ انتخابی عمل کو آلودہ کرنا اس وقت کے آرمی چیف جنرل مرزا اسلم بیگ اور آئی ایس آئی کے سربراہ اسد درانی کا انفرادی فعل تھا۔

اس مقدمے کی سماعت چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے کی۔ ایئرمارشل ریٹائرڈ اصغر خان نے یہ درخواست سولہ سال قبل دائر کی تھی۔

سپریم کورٹ نے فیصلے میں مرزا اسلم بیگ اور اسد درانی کے خلاف کارروائی کا حکم دیا ہے۔ اس کے علاوہ فیصلے میں یہ بھی کہا گیا کہ جو سیاستدان اس رقم سے مستفید ہوئے ان کی بھی تحقیقات کی جائیں۔

"ہم احتساب کے لیے تیار ہیں مگر سپریم کورٹ نے سفاف تحقیقات کا حکم دیا ہے جو کہ ایف آئی اے کے ذریعے ممکن نہیں ہیں"

چودھری نثار

اتوار کے روز صحافیوں سے بات کرتے ہوئے چودھری نثار نے کہا کہ ان کی جماعت اس معاملے کی تفتیش میں تعاون کرے گی تاہم انھوں نے ان تحقیقات کے لیے ایف آئی اے کو نا قابلِ قبول قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ اس سے پہلے خود بھی ایف آئی اے کی کارکردگی پر تحفظات ظاہر کر چکی ہے۔

انھوں نے عدالت کے فیصلے کو ایک اچھی پیش رفت کہا اور امید ظاہر کی اس سے آئندہ انتخابات میں خفیہ اداروں کا کردار کم ہوگا۔

انھوں نے اعتراض کیا کہ دیگر سیاسی جماعتیں اور ذرائع ابلاغ نے ان کی جماعت پر بغیر کچھ ثابت ہوئے تنقید شروع کر دی ہے۔

چودھری نثار نے مجوزہ کمیشن کے بارے میں تفصیلات ظاہر نہیں کیں تاہم انھوں نے کہا کہ کمشن کو ذولفقار علی بھٹو کے سیاسی سیل کی منظوری دینے اور سابق ڈی جی آئی ایس آئی جنرل شجاع پاشا کے تحریکِ انصاف کی امداد کرنے کے بارے میں بھی تحقیقات کرنی چاہیئیں۔

اسی بارے میں

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔